ترک صدر طیب اردگان کو’ کرپٹ‘کہنے پر کمسن لڑکا دھر لیا گیا

ترک صدر طیب اردگان کو’ کرپٹ‘کہنے پر کمسن لڑکا دھر لیا گیا
ترک صدر طیب اردگان کو’ کرپٹ‘کہنے پر کمسن لڑکا دھر لیا گیا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی پولیس نے صدر رجب طیب اردگان اور ان کی پارٹی کی توہین کرتے ہوئے انہیں ’کرپٹ‘ کہنے پر ایک 16سالہ طالبعلم کو حراست میں لے لیا ہے۔ ترک میڈیا کی جانب سے اس لڑکے کا نام ’میا‘ بتایا گیا ہے جس کو اناٹولیا میں صدر اردگان اور ان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے خلاف تقریر کرتے ہوئے کرپشن کے الزامات لگانے پر گرفتار کر لیا گیاہے۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر اس لڑکے پر جرم ثابت ہو گیا تو اس کو چار سال تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

2014ءبچوں کیلئے بدترین سال، 23 کروڑ بچے پرتشدد واقعات کا شکار

واضح رہے دسمبر 2013 میں کاروباری بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے پر اس وقت کے وزیر اعظم طیب اردگان کی حکومت کے متعدد وزراءنے بھی استعفے پیش کر دیئے تھے جبکہ شدید عوامی پریشر کو نظر انداز کرتے ہوئے ترکی کی حکومت کی طرف سے تمام سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس بھی بند کر دی گئی تھیں۔ تاہم اگست 2014 میں ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد اردگان نے اس مشہور کرپشن سکینڈل کو اپنے مخالف فتح اللہ گولن کی سازش قرار دیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -