دیہی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے

دیہی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے
 دیہی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے

  

پنجاب حکومت نے دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے لئے ایک تاریخ ساز پروگرام پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے، جس پر اربوں روپے خرچ کئے جائیں گے۔ رواں برس 2 ہزار کلومیٹر طویل دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لئے 15 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ پنجاب کے ہر ضلع میں’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘کے تحت دیہی سڑکوں کا جال بچھانے کے شاندار پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور دیہی علاقوں میں ان سڑکوں کی بھی تعمیر و مرمت کی جائے گی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کے تحت دیہی علاقوں میں تعمیر و مرمت کے حوالے سے سڑکوں کی چوڑائی کو 10 فٹ سے بڑھا کر 12 فٹ کر دیا گیا ہے ،جبکہ شولڈرز شامل کرنے کے بعد چوڑائی 24 فٹ ہوگی۔ اس پروگرام کے تحت بننے والی تمام سڑکیں مکمل کارپٹڈ ہوں گی۔ پنجاب میں دیہی علاقوں کی معیشت کو بلند کرنے کے لئے یہ ایک تاریخی اور عظیم منصوبہ ہے ،جس کا براہ راست فائدہ کسانوں اور دیہات میں بسنے والوں کو پہنچے گا۔ کسان کے چہرے پر خوشیاں آئیں گی اور دیہی معیشت پھلے پھولے گی۔ دیہی معیشت میں انقلاب برپا ہوگااور دیہی علاقے کے لوگوں کو روزگار کے ہزاروں نئے مواقع میسر آئیں گے۔ دیہی علاقوں میں بسنے والے کروڑوں افراد مستفید ہوں گے۔ دیہی آبادی کو تیز رفتار آمد و رفت کی سہولتیں میسر آئیں گی اور معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ یہ پروگرام ایک نئے وژن کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد کسانوں، کاشتکاروں اور دیہات میں بسنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ہے اور یہ پروگرام دیہی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ زراعت کی ترقی سے کسانوں کو ان کی فصلوں کا اچھا معاوضہ ملے گا۔ دیہات میں بسنے والوں کو سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور دیگر مقامات پر آنے جانے میں آسانی رہے گی۔ پنجاب کی دیہی آبادی کو سماجی و معاشی ترقی کے ثمرات میسر آئیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے 5اپریل 2015ء کو ضلع قصور کے علاقے صوئے آصل میں 8 کلومیٹر طویل سڑک لدھیکے بھلر تا پانڈوکی سڑک کی تعمیرو مرمت کا افتتاح کر کے پاکستان کی تاریخ کے دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے سب سے بڑے منصوبے ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جس کے تحت آئندہ 3 برس کے دوران مرحلہ وار صوبہ پنجاب کی تمام دیہی سڑکوں کی تعمیر ومرمت کی جائے گی ،جس پر تقریباً 150 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی۔’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کے تحت تعمیر و مرمت ہونے والی تمام سڑکوں کے اعلیٰ معیار کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور اس ضمن میں تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی ہوگا اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کے بعد ہی ٹھیکیدار کو ادائیگی ہوگی۔ اس پروگرام کے تحت سڑکو ں کی تعمیر و مرمت کے لئے ٹھیکیداروں کا انتخاب انتہائی شفاف طریقے سے کیا جا رہا ہے،جس کے نتیجے میں ٹھیکیدار’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کے تحت دیہی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے محنت، دیانت اور ایمانداری سے کام کریں گے اور سڑکوں کی تعمیر کے دوران معیار پر خصوصی توجہ دیں گے۔ اس پروگرام کے تحت سب سے بہترین 3ٹھیکیداروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں انعام و تعریفی سرٹیفکیٹس دیئے جائیں گے، جبکہ ان کنٹریکٹرز کی لیبر کو نقد انعام دیا جائے گا۔ اسی طرح 10 بہترین انجینئرز کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں بھی انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹس دیں گے۔وزیر اعلی خود اس فلیگ شپ پروگرام کی نگرانی کررہے ہیں اور اچانک دورے کرکے کام کے معیار کا جائزہ بھی لیا جار ہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘پروگرام کے تحت کامونکی کے علاقے واہنڈو میں 43کلو میٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا۔اس سڑک کی تعمیر پر38کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے عام ویگن میں بیٹھ کر سڑک کامعائنہ کیا اور سڑک کی تعمیر کے معیار کو سراہا۔ واہنڈو میں 43کلو میٹر طویل سڑک انتہائی اعلی معیار کے ساتھ بنائی گئی ہے اور دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے پروگرام کو تیزرفتاری سے آگے بڑھایا جارہا ہے ،تاکہ دیہات میں بسنے والی آبادی کو آمدورفت کی بہترین سہولتیں میسرآسکیں۔ خادم پنجاب دیہی روڈ زپروگرام کے تحت دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی کے پروگرام پر 2017-18ء تک 150ارب روپے خرچ کئے جائیں گے،جس سے صوبے پنجاب کی دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل ہوگا۔خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کا آغاز گزشتہ برس کیا گیااور2017-18ء تک تمام دیہی سڑکیں بن چکی ہوں گی اوردیہی زندگی میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا انقلاب برپا ہوگا۔پاکستان کی تاریخ میں دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی کایہ سب سے بڑا پروگرام ہے ۔ مارکیٹ روڈز کے پروگرام کا آغاز 1985ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب محمد نوازشریف نے کیا تھااوران کے دور میں پنجاب کی دیہات میں سڑکوں کا جال بچھایاگیا تھا، لیکن ان سڑکوں کی دیکھ بھال اورمرمت پر توجہ نہ دی گئی جس سے یہ سڑکیں برباد ہوگئیں اوردیہات میں بسنے والی آبادی کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

دیہات میں بسنے والے بہن بھائیوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی کے انقلابی اورتاریخ ساز پروگرام کا آغاز کیا ہے اوراس ضمن میں ایک موثر نظام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت دیہات میں سڑکوں کا جال بچھایاجارہا ہے اوریہ تمام سڑکیں کارپیٹڈ ہیں ’’ پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘ پروگرام کے تحت رحیم یارخان میں بننے والی دیہی سڑکوں کی تعمیر کے معیار کو تھرڈ پارٹی سے ٹیسٹ کرایا گیا تو رپورٹ مثبت آئی اوراعلی معیار کی تصدیق ہوئی۔ سڑکوں پرگاڑیوں کے ایکسل لوڈ کے لئے حد مقرر کردی گئی ہے اور کوئی بھی مقرر کردہ وزن سے زیادہ گاڑی سڑک پر نہیں چلاسکے گا، کیونکہ اوور لوڈنگ کے باعث سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں، لہٰذاان سڑکوں کی دیکھ بھال کے لئے ضروری ہے کہ ایکسل لوڈ کو چیک کیا جائے اوراس ضمن میں مناسب انتظامات ہونے چاہئیں اوریہ محکمے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سڑکوں کی دیکھ بھال کے لئے یہ ذمہ داری بطریق احسن ادا کریں۔ سڑکوں کی حفاطت کا کام حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے ،اگر آپ نے ذمہ داری پوری نہ کی تو یہ سڑکیں تین چار برس میں ٹوٹ جائیں گی،حالانکہ ان سڑکوں کو20سے 25سال تک قائم رہنا چاہیے ۔

مزید :

کالم -