یہ کیا ہوا۔۔۔ کیسے ہوا۔۔۔ کب ہوا؟؟؟

یہ کیا ہوا۔۔۔ کیسے ہوا۔۔۔ کب ہوا؟؟؟
 یہ کیا ہوا۔۔۔ کیسے ہوا۔۔۔ کب ہوا؟؟؟

  



اگر کوئی معزز مہمان آئے تو اس کا استقبال شایانِ شان طریقے سے کیا جاتا ہے۔ عام آدمی اپنی بساط کے مطابق مہمان کی عزت افزائی اپنے طور پر کرتا ہے جبکہ ریاستوں اور حکومتوں کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ کوئی بادشاہ ہو۔ (تخت و تاج والے سے لے کر کسی بھی شعبے میں مشہور معروف ہونے تک) یا بڑی محترم شخصیت ہو، توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ توپوں کی سلامی 21یا 31 ہوا کرتی ہے لیکن کبھی کبھار ایک ہی زبردست ’’گولے‘‘ کی سلامی کو 21اور 31لوگوں کی سلامی سے بھی بھاری سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ہمیں بے ساختہ عوامی نعرہ ’’ایک زرداری، سب پہ بھاری‘‘ یاد آ گیا۔ یہ نعرہ آصف زرداری کے حامی ہی نہیں، ان کے مخالفین بھی اپنی ضرورت کے مطابق لگایا کرتے ہیں۔ بات آصف زرداری سے شروع ہوئی تھی جنہیں ڈیڑھ سال کی خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے کراچی پہنچنے پر زبردست سلامی دی گئی سابق صدرمملکت (صدر مملکت، مسلح افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے) آصف علی زرداری کی پاکستان آمد پر کچھ اس طرح’’سلامی‘‘ دی گئی کہ جیالوں نے کراچی میں اولڈ ٹرمینل شاہراہ پر رقص اور موسیقی کے ساتھ استقبال کیا جبکہ سندھ رینجرز نے ایک ’’گولے‘‘ کی سلامی پر اکتفا کیا۔ وہ کہتے ہیں ناں۔۔۔ بس، ایک بھی بہت ہے!‘‘

زرداری صاحب کا کمال دیکھئے کہ رینجرز کی ’’سلامی‘‘ کو حوصلے سے برداشت کیا بم پروف بے نظیر بھٹوفیم ٹرک پر پہنچتے پہنچتے اپنے پیاروں کو روائتی اور مخصوص انداز سے ’’ہوائی بوسوں‘‘ کی بوچھار کرتے ہوئے ٹرک کے نچلے حصہ میں پہنچے،جہاں ہم تو موجود نہیں تھے لیکن قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے سید مراد علی شاہ سے پوچھا ’’وزیراعلیٰ سندھ سے مخاطب ہوں، یہ کیا ہوا، کیسے ہوا۔۔۔ کس نے جرات کی؟؟؟؟ دو روز پہلے نہایت شاداں و فرحاں اور بڑے شاہانہ انداز سے گفتگو کرنے والے مراد علی شاہ نے بجھے ہوئے لہجے میں بریفنگ دی۔ انور مجید کے دفاتر پر رینجرز چھاپے اور گرفتاریوں کی تفصیلسن کر زرداری صاحب کی خاموشی کچھ گہری ہوگئی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ دو روز پہلے وفاقی وزراء اور میڈیا کو آئی جی سندھ کی ’’جبری چھٹی‘‘ کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کچھ ’’مغرور مغرور‘‘ سے لگ رہے تھے، شاید ان کا غرور ہی ان کے سامنے آ گیا اور وہ مفاہمت کے بادشاہ اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے کہہ رہے تھے۔۔۔ ’’سائیں! بہت شرمندہ ہیں‘‘۔۔۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ زرداری صاحب کے بہت قریبی دوست انور مجید نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ترنوالہ سمجھا لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ادھر انہوں نے تبادلہ کروایا، اِدھر انور مجید پر ہاتھ ڈالا گیا اور فوری صلہ مل گیا۔ ہم نے محترم قدرت اللہ چودھری کا تجزیہ پڑھا،جس میں زرداری صاحب کی یادگار دانت پیستے ہوئے تقریر کا حوالہ دیا گیا جو انہوں نے ڈیڑھ سال پہلے کی تھی اور پھر موقع ملتے ہی بیماری کا علاج کروانے دبئی، لندن اور امریکہ یاترا پر چلے گئے تھے۔ ہمارا خیال ہے کہ زرداری صاحب نے کراچی پہنچنے کے بعد اپنے جیالوں سے دانت پیستے ہوئے خطاب بوجوہ نہیں کیا۔اپنے قریبی دوست انور مجید کے دفاتر پر رینجرز چھاپوں کی اطلاع پر زرداری صاحب کافی دیر تک دانت پیستے رہے ہوں گے۔ ان کے دانتوں میں تکلیف کافی پرانی ہے، لہٰذا تقریر کے دوران وہ ڈیڑھ سال پہلے والے ’’جاہ و جلال‘‘ کا ثبوت نہ دے سکے، اور قدرت اللہ چودھری صاحب نے ’’جوشیلی تقریر‘‘ نہ ہونے سے مایوس ہونے والوں کا تذکرہ بجا طور پر کردیا۔

آصف زرداری نے اپنی وطن واپسی کے حوالے سے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ سیاسی اداکاروں کو معلوم ہونا چاہیے ،کہ میں واپس آیا ہوں۔ مایوسی نہیں ، امیدکا پیغام لایا ہوں۔27 دسمبر کو خوشخبریاں دوں گا۔ ’’پاکستان کھپے‘‘ کے نعرے کے ساتھ دوبارہ ایوانوں میں بھی ہم آئیں گے‘‘۔ انہوں نے پنجاب میں بلاول کی رفاقت میں خود پارٹی کے لئے کام کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ سندھ میں لوگ بیٹیوں کو زیادہ ’’رسپانس‘‘ دیتے ہیں، لہٰذا سندھ میں فریال تالپور اور بختاور تنظیمی معاملات کی نگرانی کریں گی۔ ایسے لگتا ہے زرداری صاحب کافی پلاننگ کرکے واپس آئے غیر متوقع طورپر انتہائی مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دیکھیں، کون سی گیم کھیلتے ہیں۔ وہ تو آئے تھے کہ انہیں ڈاکٹر عاصم کی ضمانت پر رہائی کی خوشخبری ملے گی لیکن رینجرز نے انور مجید کے خلاف اچانک کارروائی کرکے دکھی کر دیا۔مایوسی کے کانٹوں سے بھرا پھولوں کا گلدستہ ملے تو ایسی ہی کیفیت ہوا کرتی ہے۔ پیغام اس قدر واضح ہے کہ کچھ کریدنے یاپردہ ہٹانے کی ضرورت نہیں۔ اس صورت حال میں دیکھنا یہ ہے کہ زرداری صاحب، مفاہمت کے بادشاہ ہی بنے رہیں گے یا پھر وہ فوری علاج کے بعد دانت پیستے ہوئے تقریر کرنے کا رسک لیں گے؟ عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان تو پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ جہاں تک اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بنانے کی بات ہے تو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ابتدائی بات چیت کرکے زرداری صاحب اپنے عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ فی الحال تو انہیں رینجرز کے ایک گولے کی ’’سلامی‘‘ کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔دیکھیں، وہ اس صورت حال سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہیں۔*

مزید : کالم