عیدِ ولادت المسیح کرسمس

عیدِ ولادت المسیح کرسمس
عیدِ ولادت المسیح کرسمس

  



عیدِ ولادت المسیح گذشتہ دو ہزار برس سے عالمگیر سطح پر دنیا بھر میں مذہبی او ردنیوی روایات کے مطابق ہر سال 25دسمبر کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

روایات اور گھریلو زیب و زیبائش کے حوالے سے کرسمس ٹری او ردیگر تزئین و آرائش کی اشیا سے گھروں، دوکانوں اور اداروں کے درودیوار کو سجایا جاتا ہے اور بچے سانتا کلاز المعروف کرسمس فادر کا تحائف حاصل کرنے کے لئے انتظار کرتے ہیں اور بڑے اِس عظیم دن کی مناسبت سے عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو خوبصورت کارڈ، میسجز، ای میل اور ویب سائٹ بھی کئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے تحائف کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔

کرسمس کا تہوار یسوع المسیح کی حضرت داؤد کے شہر میں بنی نوع انسان کو اُن کے موروثی گناہوں سے نجات دینے کے لئے ایک ناجی اور منجی کی حیثیت سے پیدائش کا روزِ سعید ہے۔

خداوند یسوع المسیح کی پیدائش عجیب و غریب حالات میں انتہائی کسمپرسی کے عالم میں بیت لحم ایک سرائے میں مویشیوں کے چارہ چرنے کی جگہ چرنی میں ہوئی،جبکہ اُس وقت اُن کی والدہ مقدسہ مریم کے ارد گرد اُن کے اہلِ خانہ کے افراد موجود نہیں تھے۔

خداوند یسوع المسیح کی زندگی کا تذکرہ اُن کے ابتدائی حالات میں بارہ سال کی عمر میں ہیکل میں بنی اسرائیل کے شرع کے عالموں سے بحث و تمحیص سے ہوتا ہے۔ اُنہوں نے تجرد کی زندگی اختیار کی۔

اُنہوں نے نہ شادی کی، نہ ہی کوئی گھر بنایا۔ اُن کے شاگردوں نے بھی خداوند یسوع المسیح کی پیروی کی۔خداوند یسوع مسیح نے اپنی زمینی زندگی کے آغاز ہی سے اعلان کر دیا تھا کہ اُن کی بادشاہی زمینی نہیں،بلکہ آسمانی ہے، اِسی لئے اُنہوں نے کوئی فوج بنائی، نہ ہی جہاد کیا، نہ کوئی جہدو قتال،نہ ہی ممالک فتح کئے او رنہ ہی کسی زمینی سلطنت کی بنیاد رکھی بلکہ ہمیشہ غریبوں، پچھڑے ہوؤں اور کم وسیلہ، غربت اور غم و آلام میں گھرے ہوئے ستم رسیدہ گناہ گاروں اور بوجھ سے دبے ہوئے عوام کے ساتھ زندگی کے ایام بسر کئے۔

اُن کے شاگرد بھی کسی مراعات یافتہ بورژوا یا پٹی بورژا طبقے سے تعلق نہیں رکھتے تھے،بلکہ اُن کا طبقاتی تعلق ماہی گیروں اور کھیت مزدوروں سے تھا۔

خداوند یسوع المسیح پر اُن کے عہد کے فتویٰ فروش شرعی عالم یہ الزام دھرتے تھے کہ وہ کیسا راستباز اور پابندِ شریعت انسان ہے جو ہمہ وقت گنہگاروں، مے نوشوں اور محصول لینے والوں میں اٹھتا بیٹھتا اور اُس کے شب و روز اُن کے درمیان گزرتے ہیں ۔

خیال رہے کہ یہودیوں میں قیصر وقت کے لئے محصول لینے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا جس کے جواب میں خداوند جناب سیدنا یسوع المسیح نے فرمایا کہ میری زمین پر آمد کا مقصد ہی گنہگاروں اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگوں کی فلاح و بہبود اور اُن کے بوجھ کو ہلکا کرنا اور اُنہیں گناہوں سے نجات دینا ہے، کیونکہ طبیب کی ضرورت ہی بیماروں کو ہوتی ہے۔

اسی لئے اُنہوں نے واشگاف الفاظ میں ارشاد کیا کہ ’’اے بوجھ سے دبے ہوئے لوگو میرے پاس آؤ میرا جؤا نرم اور ملائم ہے، مَیں تمہیں آرام دوں گا‘‘۔۔۔اُنہوں نے اِن فتویٰ فروشوں او رشرع کے نام نہاد عالموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اے شرع کے عالمو سُنو کیونکہ نہ تم شرع پر عمل کرتے ہو نہ ہی دوسروں کو کرنے دیتے ہو۔

تم سونف او رپودینے پر تو دیکی (ذکات) (آمدن کا دس فیصد حصہ) دیتے ہو، تم مچھر چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو، مگر بیواؤں کے گھروں کے لئے قبضہ مافیا بن جاتے ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ اے فقیہو اور فریسیوتم دکھاوے کے لئے نماز کو طول دیتے ہو۔ تمہیں زیادہ سزا ہو گی۔ اُن کا واضح ارشاد تھا کہ مجھے غریبوں کو انجیل، یعنی خوش خبری دینے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ مَیں تو آیا ہی قیدیوں کو رہائی، اندھوں کو بینائی دینے کے لئے ہوں۔

مجھے کچلے ہوؤں کو آزاد کرنے اور خداوند کے سالِ مقبول کی منادی کے لئے بھیجا گیا ہے۔

خداوند یسوع مسیح نے ہر قسم کے ظلم و تشدد، دہشت گردی اور نام نہاد مذہبی پیشوائیت، تھیو کریسی اور دینی سوپر میسی کی مخالفت کی اور اپنی تمام تر زمینی زندگی کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کو انسانیت کے لئے زہرِ قاتل قرار دیتے ہوئے امن و محبت، شائستگی ، عفوو درگذر، رواداری اور صرف برداشت نہیں، بلکہ قبولیت کا درس دیا،جس کی مثال سامری خاتون کے ہاتھوں پانی پی کر اُسے آبِ حیات پلانے کی نوید دی،جبکہ بنی اسرائیل کے علماء سامریوں سے اچھوتوں ایسا سلوک روا رکھتے تھے۔

خداوند یسوع مسیح نے کہا کہ میرا پیامِ محبت اَمن ہے، مَیں دنیا میں تلوار چلانے نہیں،بلکہ امن قائم کرنے کے لئے آیا ہوں۔

انجیل مقدس میں اُنہیں صلح کا شہزادہ یعنی پرنس آف پیس (امن کا شہزادہ) کہا گیا ہے،اسی لئے مسیحیت کو دینِ محبت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ دنیا خداوند یسوع المسیح کے دنیائے انسانیت کے لئے ازلی و ابدی پیام محبت اور امن و آشتی کو مشعلِ راہ بنائے اور ایک دوسرے کے قصوروں کو معاف کر کے بلا امتیاز مذہب، مسلک او ردین قبولیت کی راہ اپنائے اور محبت و امن کے پیغام کو عام کرے۔ خداوند ہم سب کو حقیقی معنوں میں اُن کی پیروی کی استعداد اور توفیق عطا فرمائے۔

آمین! آپ سب کو عیدِ ولادت المسیح کرسمس اپنی تمام تر دنیاوی او رروحانی برکات کے ثمرات کے ساتھ مبارک ہو۔(ڈاکٹر کنول فیروز مسیحی دانشور ہیں،مضمون مسیحی عقائد کے مطابق لکھا گیا ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...