فرمان قائداعظمؒ کشمیر پاکستان کی شہ رگ

فرمان قائداعظمؒ کشمیر پاکستان کی شہ رگ
 فرمان قائداعظمؒ کشمیر پاکستان کی شہ رگ

  



قائد اعظمؒ نے فرمایا ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی بھی اپنی شہہ رگ دشمن کے ہاتھ میں نہیں دیتا ‘‘۔کانگرس کا دعویٰ تھا کہ بر صغیر میں صرف دوفریق ہیں ، انگریز اور کانگرس ( ہندو) جس کے جواب میں قائد اعظمؒ کا موقف تھا کہ برصغیر میں چار اسٹیک ہولڈرز ہیں ۔

یعنی انگریز، کانگرس، مسلم لیگ اور مقامی ریاستیں ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ ان ریاستوں کو کوئی ایسی طاقت سمجھتی تھی جس کے متعلق بات نہیں ہو سکتی تھی ۔

تا ہم ایک آئینی اور قانونی تنظیم ہونے کے ناطے مسلم لیگ ان ریاستوں کے داخلی معاملات میں مداخلت کے خلاف تھی ۔ لیکن آل انڈیا مسلم لیگ ان ریاستوں کے معاملات دیکھنے کے لیے موجود تھی۔

اس کے علاوہ ان ریاستوں میں مقامی تنظیمیں بھی تھیں جو دو قومی نظریہ کی بنیا د پر تشکیل دی گئی تھیں ۔ان کو مسلم لیگ کی طرف سے مکمل حمائت اور راہنمائی میسر تھی ۔

اسی لیے علامہ اقبال )جو انڈین کمیٹی کے چیئرمین تھے ۔ اگست 1934میں بر صغیر کے تمام مسلمانوں سے ایک اپیل میں کہہ دیاتھا کہ اس سال 14اگست کو بطور یوم کشمیر بنایا جائے ۔ اس کے بعد ان کا موقف تھا کہ مسلم انڈیا کا خواب اسلامی ریاست کشمیر کی آزادی کے بغیر نامکمل ہو گا۔

قائد اعظمؒ نے جب 1936میں دوسری دفعہ کشمیر کا دورہ کیاتو اس وقت کشمیر میں مسلم کانفرنس (1932) عمل میں آ چکی تھی جس کے کرتا دھرتا چوہدری غلام عباس اور شیخ عبداللہ تھے ۔ مگر شیخ عبداللہ جلد ہی کانگرسی لیڈر پریم ناتھ بزاز کی وساطت سے کانگرس کے سحر میں گرفتار ہو گئے اور نیشنل کانگرس بنا لی ۔

جب قائد اعظمؒ کا مجاہد منزل سری نگر میں استقبال کیا گیا تو وہاں ہندو مسلم اتحاد کی بات زیر بحث آئی جس پر قائد اعظمؒ نے کہا کہ ’کشمیر میں اکثریت اقلیت کے حقوق کا خیال رکھ رہی ہے ، یہ بہت اچھی بات ہے ۔

لیکن ہندوستان میں تمام ہندوستانیوں کی دعویدار آل انڈیا کانگرس تو مسلم اقلیت کے حقوق کو یقینی بنانے کے بجائے اعلیٰ ذات کے ہندو طبقے کی نمائندہ جماعت بنی ہوئی ہے ‘۔شیخ عبداللہ نے قائد اعظم کو کانگرس کے ایجنڈے کو کشمیر میں نافذ کرنے پر قائل کرنے کی اپنی سی کوشش کی ۔

جب وہ نہ مانے تو شیخ عبداللہ نے قائد اعظمؒ کے خلاف بولنا شروع کر دیا اور انہیں کشمیر چھوڑنے کی دھمکی بھی دیدی۔ حضرت قائد اعظمؒ نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے کشمیر میں مسلم کانفرنس کو مضبوط کرنے کی تاکید کی ۔

جب ہندوستان کی آذادی کا وقت آیا تو کانگرس نے مکاری سے کام لیتے ہوئے مہا راجہ ہری سنگھ کو بہلا پھسلا کر بھارت کے ساتھ الحاق کرنے پر رضامند کرنے کے لیے مختلف ہتھ کنڈے استعمال کیے۔ ماؤنٹ بیٹن کو بھی کشمیر حاصل کرنے کے لیے تقسیم کے فارمولے میں ردوبدل کرنے کے لیے رام کیا گیا۔

مہاتما گاندھی نے عوام الناس کو کشمیر کے غیر سیاسی دورے کا یقین دلا کر اپنی سازش کو عملی جامہ پہنایا ۔ انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کو یقین دلا یا کہ’’ گورداسپور بھار ت کو دیا جانے والا ہے اور اس طرح کشمیر اور بھارت کا براہ راست زمینی رابطہ ہو جائے گا، پاکستان زیادہ دیر باقی نہیں رہے گا ۔مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے عبداللہ کو رہا کیا جائے‘‘۔

سری نگر سے ہی اپنے مشن کی کامیابی کی اطلاع گاندھی نے نہرو اور سردار پٹیل کو دیدی۔اس صورتحال کی اطلاع جب قائداعظم ؒ کو ملی تو انہوں نے مسلم کانفرنس کے قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ اور پروفیسر اسحاق قریشی سے ملاقات کی اور یہ بیان جاری کیا کہ مسلمانان کشمیر اپنی پوری توجہ اس مسئلے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ ریاست کشمیر ہندوستان یا پاکستان کی دستور ساز اسمبلیوں میں سے کس کے ساتھ شامل ہو گی۔

میں اس سے پہلے بھی اعلان کر چکا ہوں کہ ریاستیں دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں ۔ اور چاہیں تو بالکل آذاد بھی رہ سکتی ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ مہاراجہ کشمیر اپنی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت اپنی رعایا کے مفاد کو بھی مد نظر رکھیں گے ‘‘۔

قائد اعظم ؒ قانون اور آئین کے قائل شخص تھے ۔ ان کو پورا یقین تھا کہ کشمیر مسلم آبادی والی ریاست ہے اور تقسیم کے اصول میں ’’ دیگر عوامل‘‘ کے حوالے سے بھی اس کا الحاق پاکستان سے ہی ہوگا ۔

14اگست کو جب انتقال اقتدار مسلم لیگ کے سپرد کیا گیا تو پوری وادئ کشمیر میں چراغاں کیا گیا اور پاکستانی پرچم ہر اہم جگہ پر لہرایا گیا ۔لیکن جب 17اگست کو ریڈ کلف ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تو اس میں ضلع گورداسپور کی مسلم اکثریت والی دو تحصلیں بٹالہ اور گورداسپور ایک گھناؤنی سازش کے تحت بھارت کے حوالے کر دیں ۔

قائد اعظمؒ نے اس فیصلے کو غلط ، غیر منصفانہ اور سیاسی بد دیانتی پر مبنی قرار دیا۔ کشمیر کا بھارت کے ساتھ زمینی راستہ استوار ہو چکا تھا ۔ محترمہ فاطمہ جناح کہتی ہیں کہ آخری وقت میں قائد کو کشمیر کے مسئلے نے بہت دکھی کیا۔

وہ رات کو بُڑبڑاتے اور کشمیر کا نام لیتے اور اِس کے متعلق باتیں کرتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی گرتی ہوئی صحت پر کشمیر نے کاری ضرب لگائی ۔جب بھارت نے مکرو ، فریب اور فراڈ سے کشمیر کو بھارت سے ملانے کے لیے فوج داخل کر دی تو قائد اعظم ؒ نے جنرل گریسی کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا،اس نے انکار کر دیا ۔ قائداعظمؒ کی خواہش اور فرمان کے مطابق " کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے " اور یہ پالیسی روز اول سے ہے۔

قائداعظم ؒ کے عشق میں مبتلا کشمیریوں نے عزم بالجزم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے محبوب لیڈر کی سوچ ، آرزو اور تمنا کے مطابق کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ بنا کر ہی رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...