افغانستان میں استحکام، کس کی ذمہ داری؟

افغانستان میں استحکام، کس کی ذمہ داری؟

  



امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کوششوں کا حقائق نامہ جاری کر دیاگیا ہے،جس کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف13بڑے قومی آپریشن کئے گئے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں6800 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 21ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے۔امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی نہیں تھی،بلکہ یہ ہم پر مسلط کی گئی،جس کے بعد یہ ہماری جنگ بن گئی، دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اُس وقت تک ختم نہیں ہو گی،جب تک دہشت گردی کا مائنڈ سیٹ ختم نہیں ہوتا، دہشت گرد پاکستان اور امریکہ کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف ہمیں مل کر لڑنا ہو گا۔ پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں استحکام پاکستان کی ذمے داری نہیں،لیکن یہ پاکستان اور امریکہ کے مفاد میں اور دونوں کا مشترکہ مقصد ہے، آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید طلباء کی یاد میں واشنگٹن میں منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ شام میں شکست خوردہ داعش غیر مفتوحہ افغان علاقوں میں جمع ہو رہی ہے اس کا خاتمہ اتحادی افواج اور افغانستان کی ذمہ داری ہے۔ افغانستان میں امن کے لئے فوجی کارروائیوں کو بند کرنا ہو گا۔ پاک افغان بارڈر کو مضبوط بنانا ہو گا، دُنیا کی بڑیِ فوجی قوتیں سولہ سال سے افغانستان میں برسر پیکارہیں تمام فریق جانتے ہیں کہ افغانستان میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔

اِس وقت امریکہ اور پاکستان کے جو تعلقات نئی پستیوں میں گرے ہوئے ہیں اس کی بنیادی وجہ افغانستان کے حالات ہیں،جو امریکہ اور دُنیا کی بڑی فوجی قوتوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود اصلاح پذیر نہیں ہو سکے اس سے پیدا ہونے والی فرسٹریشن کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کر لی اور ’’نوٹس‘‘ پر رکھ لیا،چونکہ افغانستان میں امن و استحکام پیدا نہیں ہو پا رہا، اِس لئے امریکہ نے یہ غلط نتیجہ نکال لیا کہ حالات کے اِس نہج پر پہنچنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم نہیں ہو سکے، حالانکہ پاکستان نے اِس مسلط شدہ جنگ میں دُنیا کے ہر مُلک سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، اس عرصے کے دوران تیرہ بڑے آپریشن کئے گئے اور جس حد تک ممکن ہو سکا دہشت گرد گروہوں کا صفایا کر دیا، جبکہ مسلسل ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ شام میں شکست کھانے کے بعد داعش نے افغان علاقوں کا رُخ کر لیا ہے اور یہاں ٹھکانے بنا کر اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔اگر امریکی و افغان فورسز داعش کے خلاف کامیاب کارروائیاں کرتیں تو اسے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی دہشت گردی کا موقع نہ ملتا۔

حال ہی میں پاکستان کے اندر جو دہشت گردی ہوئی ہے اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔امریکی افواج نے اِس سلسلے میں کوئی حکمتِ عملی طے کی ہے یا نہیں،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے امریکہ نے سارا دباؤ پاکستان کی طرف منتقل کر دیاہے اور امریکی میڈیا میں ایسی پیش گوئیاں ہونے لگی ہیں کہ امریکہ پاکستان کے اندر ’’عسکری اہداف‘‘ کے خلاف آپریشن کر سکتا ہے،حالانکہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج جس مقصد (قیام امن و استحکام) کے لئے افغانستان میں بیٹھی ہوئی ہیں، پہلے وہ حاصل کریں اور اس کے بعد کوئی دوسری سوچ اختیار کریں۔ اب بھی بنیادی ضرورت تو یہ ہے کہ داعش کو افغانستان میں ٹھکانے بنانے کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ خطے کے لئے اچھا نہیں ہو گا اور امن و امان کے قیام کی کوششوں کو بڑا دھچکا لگے گا،لیکن اگر امریکہ نے اِس جانب سے صرفِ نظر کر کے کسی ’’نام نہاد بڑی مچھلی‘‘ کو پکڑنے کے لئے پاکستان میں کوئی آپشن اختیار کرنے کی کوشش کی تو اِس سے معاملات مزید اُلجھ کر رہ جائیں گے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں نگاہوں سے اُوجھل ہو جائیں گی۔امریکہ نے اگر ایسی کوئی عاقبت نا اندیشانہ حرکت کی تو اس سے نہ صرف تعلقات میں مزید خرابی پیدا ہو گی،بلکہ پاکستان بھی جوابی طور پر ایسے اقدامات کر سکتا ہے،جس سے امریکہ کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی،اِس لئے توقع تو یہی ہے کہ امریکہ دھمکیوں کے باوجود ایسا راستہ اختیار نہیں کرے گا، جس کے بعد تعلقات پر دور رس اور منفی اثرات مرتب ہوں۔

امریکی صدر ٹرمپ کا زور اب اِس بات پر نظر آتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے فوجی ذرائع پر انحصار کیا جائے، حالانکہ دُنیا بھر کے ماہرین جو افغانستان کے حالات سے دلچسپی رکھتے ہیں اِس بات پر متفق ہیں کہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے افغانستان میں امن کا قیام ممکن نہیں،اِس وقت امریکی فوج کی تعداد افغانستان میں بڑھا دی گئی ہے، جو14ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ ایک زمانے میں امریکی اور نیٹو افواج کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکی تھی، اس وقت بھی امریکی جرنیلوں کا خیال تھا کہ فوج بڑھا کر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے، صدر اوباما اپنی انتخابی مہم میں یہ وعدہ کر چکے تھے کہ وہ صدارتی عہدہ سنبھال کر افغانستان میں فوج کی تعداد کم کر دیں گے،لیکن جرنیلوں کی مسلسل مخالفت کی وجہ سے وہ اپنے اِس وعدے پر عمل نہ کر سکے اُن کے آٹھ سالہ عہد میں حالات میں بہتری بھی نہ آ سکی،اب بھی اگر افغانستان میں امن لانا ہے تو اس کے لئے پُرامن ذرائع ہی تلاش کرنا ہوں گے،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے فوجی آپشن کی جانب زیادہ رجحان رکھتے ہیں،عین ممکن ہے جب اُنہیں اِس میں کامیابی نہ ہو تو وہ پھر اِس بات سے رجوع کریں۔ فی الحال تو وہ پاکستان کو امداد بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور فوری طور پر 700ملین ڈالر کی وہ امداد خطرے میں ہے، جو رواں سال کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو ملنے والی تھی۔

امریکہ نے سی ایس ایف کے تحت ملنے والی اِس رقم کو پینٹاگون(محکمہ دفاع) کے اس سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا ہے، جو اسے کانگرس میں یہ ثابت کرنے کے لئے پیش کرنا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی کر رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کو اِس مد میں اب تک 15ارب ڈالر کی رقم ملی ہے،لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا نقصان 123ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا نقصان کس قدر زیادہ ہے اور اس کے مقابلے میں امریکی امداد کی وقعت کیا ہے۔ پاکستان یہ بات امریکہ پر بار بار واضح بھی کر چکا ہے،لیکن اِس وقت بھی امریکی صدر اس امداد کا ذکر کر رہے ہیں،ان سب امور کے پیش ِ نظر یہ ضروری ہے کہ معروضی حالات کو پیشِ نظر رکھ کر امریکی حکام پاکستان کی پوزیشن سمجھنے کی کوشش کریں اور دونوں ممالک باہمی تنازعات سے بچ کر مشترکہ دشمن دہشت گردوں کا مقابلہ کریں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...