قائداعظمؒ کے فرمودات اور خود انحصاری کی منزل

قائداعظمؒ کے فرمودات اور خود انحصاری کی منزل

  



پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ قوم کو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات پر عملدرآمد کا جائزہ لینا چاہئے۔ ہم سب کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول میں ہم کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے یاد دِلایا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اِس لئے عظیم قربانیاں دیں کہ ایسا علیحدہ وطن حاصل کیا جائے، جہاں قانون کی حکمرانی، انصاف کا بول بالا، میرٹ کو اہمیت حاصل ہو اور سب کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اِن خیالات کا اظہار ایکسپو سنٹر میں قائداعظمؒ کے یوم ولادت کے حوالے سے خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بجا طور پر قائداعظمؒ کے فرمودات پر عملدرآمد کا جائزہ لے کر اپنی منزل کی جانب بڑھنے کی دعوت دی ہے۔ پاکستان کے حصول کے 70سال گزرنے کے بعد موجودہ مشکل حالات میں اِس بات پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ ہم نے قیام پاکستان کے مقاصد کہاں تک حاصل کئے ہیں اور وہ کون سی وجوہ ہیں کہ ہم اپنے مقاصد کے حصول میں پیچھے رہ گئے۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم نے ملک کو قائداعظمؒ کا پاکستان بنانے کے لئے نوجوان نسل کو کتنی اہمیت دی،اکیسویں صدی میں پاکستان کے ہراول دستے نے تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لئے کیا خدمات انجام دی ہیں۔ کیا نوجوانوں کو ہراول دستے کے طور پر اپنی صلاحیتوں کے استعمال کے لئے مناسب مواقع دیئے گئے، اگر ہم قائداعظمؒ کے فرمودات پر پوری طرح عمل نہیں کر پائے تو اس کی اصل وجوہ کیا ہیں اور اس ناکامی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔

اللہ کے فضل و کرم سے وطن عزیز میں ہمیں بے پناہ وسائل میسر ہیں، ان سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سات دہائیوں کے بعد جب یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر قوم میسر وسائل سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھا سکی، تو اس کی ذمہ دار اشرافیہ دکھائی دیتی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے ملکی وسائل کی لوٹ مار کرتے ہوئے معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے تجویز پیش کی کہ قائد کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے سیاست دانوں، جرنیلوں، ججوں، افسر شاہی، تاجروں صنعتکاروں، اساتذہ، سائنس دانوں اور معاشرے کے تمام طبقوں کو قومی تعمیر و ترقی کے عمل میں حصہّ لینا چاہئے۔ایک نئے عمرانی معاہدے کے ذریعے خود انحصاری اور معاشی آزادی کی منزل کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ قابلِ غور تجویز ہے، اس پر عمل کر کے ملکی حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ بابائے قوم کے زریں اصولوں کو اپنا کر تیز رفتار ترقی کے لئے نوجوانوں کو ایک بار پھر حصولِ منزل کی جدوجہد کا ہراول دستہ بنایا جائے۔ قائداعظمؒ کو اُن کے یوم ولادت پر اُسی طرح حقیقی معنوں میں خراج عقیدت پیش کیا جانا چاہئے۔ زندہ قوموں کا شعار ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں اور قائدین کی جدوجہد سے رہنمائی حاصل کر کے منزل تک پہنچتی ہیں۔ ایک بہادر، باشعور اور باہمت قوم کی حیثیت سے ہمیں ایک بار پھر موقع مل رہا ہے کہ سی پیک کے ذریعے ہم اپنے چیلنجوں کا بھرپور مقابلہ کریں اور ارضِ وطن کو صحیح معنوں میں قائد اعظمؒ کا پاکستان بنا کر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنائیں۔ یہی ہماری خود انحصاری کی منزل ہے،جس کا حصول موجودہ حالات میں انتہائی ضروری ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...