خواجہ محمد رفیق شہید

خواجہ محمد رفیق شہید
 خواجہ محمد رفیق شہید

  



چوبیس گھنٹے غریبوں ،مزدوروں اور حاجت مندوں کے جھرمٹ میں رہنے والے خواجہ محمد رفیق نے لوہاری دروازہ کے باہر اہل لاہور سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’غریب کے لئے پہلی گولی خواجہ رفیق ہی کھائے گا ‘‘ اور پھر ان کا یہ قول پنجاب اسمبلی کی عمارت کے سائے میں سچ ثابت ہوگیا ۔

1972ء میں پیپلزپارٹی کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر20دسمبر بروز بدھ، اپوزیشن کے اپیل پر ملک بھر میں’’یوم سیاہ ‘‘منایا گیا۔لاہور میں نیلا گنبد چوک سے نکلنے والے جلوس کا اختتام پنجاب اسمبلی پر ہوا۔ جلوس سے واپسی پر’سہ پہر پونے چار بجے‘ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت‘ مسلح پیپلز گارڈ نے منظم غنڈہ گردی کرتے ہوئے خواجہ محمد رفیق پر حملہ کردیا اوردن دیہاڑے گولیوں کی بارش کر کے انہیں شہید کر دیا گیا۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘۔ یہ شہادت قوم کو پیپلز پارٹی کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کا پہلا تحفہ تھا۔

خواجہ محمد رفیق شہید ہمیشہ غریبوں ،مزدوروں کے ساتھ رہے ۔سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور عوام کا استحصال کرنے والی قوتوں کے سخت مخالف تھے۔وہ اکثر کہا کرتے تھے ’’سرمایہ دار آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے ہیں، دولت جمع کرنے کی ہوس نے انہیں اندھا کر دیا ہے اور ان کے ضمیر کو مردہ کر دیا ہے، انہیں ملک کی سا لمیت، جمہوریت اور اسلامی اقدار سے کوئی دلچسپی نہیں‘‘ ۔

خواجہ محمد رفیق شہید ڈرائنگ روم کی سیاست سے سخت بیزار تھے، قومی و ملی مفاد کا کوئی بھی مسئلہ ہوتا تو وہ ہمیشہ عوام کے دوش بدوش اگلی صفوں میں موجود ہوتے۔

خواجہ محمد رفیق شہید کے آباؤ اجداد ان سے چار پشت اوپر کشمیر (اننت ناگ ) سے آکر امرتسر میں آباد ہوئے۔ خواجہ محمد رفیق شہیدکے دادا خواجہ غلام رسول ابتدائی عمر ہی سے عبادت الٰہی میں مصروف رہتے۔ جوانی میں اہلیہ کی وفات کے بعد دل دنیا سے بالکل ہی اچاٹ ہوگیا اپنے دونوں کمسن بیٹوں اور کاروبار کو ایک قریبی عزیز کے سپرد کیا اور تارک دنیا ہوگئے۔

خواجہ محمد رفیق شہید کے والد خواجہ غلام محمد نے جوانی ہی میں خاندانی کاروبار پر توجہ دے کر اسے مستحکم کیا اور جلد ہی پشمینہ شالوں اور خیمہ سازی کی صنعت میں جگہ بنا لی۔ خواجہ غلام محمد مرحوم اسلامیانِ برصغیر کی حالت زار کی بہتری میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

اپنے عہدکے جیّد مسلم رہنماؤں حکیم اجمل خان، ڈاکٹر انصاری، مولانا محمد علی جوہر اور نواب آف بھوپال سے ان کے گہرے قریبی مراسم تھے۔ وہ امرتسر اور دہلی میں مسلم لیگ کی معاونت بھی کرتے رہے ۔ برصغیر کے مسلمانوں کی بیداری اور ترقی ان کا نصب العین تھی۔

ان مسلم راہنماؤں سے اپنے والد گرامی کی نشستوں میں نوعمر خواجہ محمد رفیق کو بھی حصہ لینے کا موقع ملتا۔ سیاسی جلسوں میں خواجہ شہید کے والد گرامی انہیں ہمرا ہ لے جاتے،جس کے باعث کم عمری میں ہی ان کا سیاسی شعور پختہ ہوتا چلا گیا اور برصغیر کے مسلمانوں کی پستی کا خاتمہ ان کے ایمان کا حصہ بنتا چلاگیا۔

خواجہ محمد رفیق شہید امرتسر میں دسمبر 1927ء کو پیدا ہوئے۔ پھیلتے ہوئے کاروبار کے پیش نظر خاندان کو امرتسر سے دہلی منتقل ہونا پڑا۔ خواجہ محمد رفیق شہید نے میٹرک تک تعلیم دہلی میں حاصل کی جبکہ ایف ایس سی ایم اے او کالج امرتسر سے کی۔ والدین انہیں ڈاکٹری کی تعلیم کے لیئے انگلستان بھیجنا چاہتے تھے، جس کے انتظامات آخری مراحل میں تھے۔

انہی دنوں قائداعظم ؒ نے مسلم نوجوانوں خصوصاً طلباء کو آگے بڑھ کر تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لئے موثر کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ قائداعظم کی مسلم نوجوانوں سے آگے بڑھنے کی اپیل نے خواجہ محمد رفیق کی آتشِ شوق کو بھڑکا دیا۔

انہوں نے اپنے والدین اور بڑے بھائیوں سے درخواست کی کہ انہیں انگلستان نہ بھیجا جائے تاکہ وہ امرتسر کے تاریخی سیاسی مرکز میں مسلم نوجوانوں کو منظم کرنے کے لئے کردار ادا کر سکیں۔

ان کی خواہش کا احترام کیا گیا اور یوں خواجہ محمد رفیق شہید اور ان کے چھوٹے بھائی خواجہ محمد شفیع مرحوم تحریک آزادی کی جدوجہد میں عملی طور پر شریک ہو گئے۔دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو مسلم لیگ کے عظیم مقاصد کے لئے وقف کر دیا۔ یوں امرتسر میں ان کا گھر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔

خواجہ محمد رفیق شہید ایم اے او کالج امرتسر کی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکریٹری بھی منتخب ہوئے۔ تحریک پاکستان کے فیصلہ کن ایام میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن امرتسر کی قیادت انہی کے ہاتھوں میں تھی۔

خضر حیات وزارت کے خلاف تحریک میں گرفتار ہو کر گورداسپور کے چوہل کیمپ میں نظر بند بھی رہے۔مسلم لیگ کے مختلف جلوسوں کے دوران پولیس تشدد سے زخمی بھی ہوئے۔ خواجہ محمد رفیق شہید نے سکھوں کے بہیمانہ حملوں کا مقابلہ کرنے اور امرتسر کی مسلم آبادیوں کا دفاع کرنے کے لئے مسلم نوجوانوں کو منظم کیا۔

امرتسر کے مسلم کش فسادات میں اسلامیانِ برصغیر کے دفاع اور انخلاء کے لئے اپنے نوجوان ساتھیوں کے ہمراہ تاریخی کردار ادا کیا۔ پانچ حافظہ قرآن مسلمان بچیوں کے سکھوں کے ہاتھوں اغوا کی اطلاع ملتے ہی شعلہ جوالہ بن گئے۔

اپنی جان پر کھیل کر کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تنِ تنہا فوج کے ایک کانوائے کا راستہ روکا۔ انگریز کیپٹن کو ہونے والی زیادتی سے آگاہ کیا اور ان کی مدد سے پانچوں بچیوں کو ’’پھولا سنگھ دابرج‘‘ پہنچ کر بازیاب کروایا۔ مہاجرین کو فسادیوں کی دست برد سے محفوظ رکھنے کے لئے ہمہ تن مصروف رہے ۔اسی لئے قیام پاکستان کے کئی روز بعد پاکستان پہنچ پائے۔

خواجہ رفیق شہید کے والدگرامی اور ان کے بڑے بھائیوں کا امرتسر دہلی بھوپال اور ممبئی میں وسیع و عریض کاروبار تھا ۔امرتسر دہلی اور بھوپال میں ذاتی رہائش گاہیں جبکہ دہلی اور بھوپال میں کارخانے اور دکانیں تھیں۔

پاکستان آئے تو کوئی کلیم داخل نہ کیا۔ خاندان کی رہائش کے لئے اندرون لوہاری گیٹ دس مرلے کا ایک مکان لیااور کاروبار کے لئے ہسپتال روڈ پر ایک چھاپہ خانہ۔

مسلسل سیاسی سرگرمیوں اور جیلوں کے باعث کاروبارجم نہ سکا۔ امرتسر کا خوشحال اور خوش پوش ترین نوجوان پاکستان آمد کے بعد سادگی اور فقر و غِناء کی عملی تصویر بن گیا اور یہ حالات زندگی کی آخری سانس تک قائم رہے۔

خواجہ محمد رفیق شہید ایک خالص سیاسی رہنما تھے۔ غیرت مندی، خودداری، دیانت داری، درد مندی، غریب پروری، جمہوریت نوازی اور حب الوطنی ان کا خاصہ تھی۔خواجہ محمد رفیق شہید حسین شہید سہروردی کے نہایت معتمد ساتھیوں میں سے تھے۔

عوامی لیگ لاہور کی صدارت سے لے کر مغربی پاکستان عوامی لیگ کی صدارت تک ذمہ داریاں ادا کیں۔ سہروردی وزیر اعظم پاکستان بن گئے ، کئی اور عوامی لیگی راہنما حکومتی عنایات سے کروڑ پتی بن گئے مگر خواجہ محمد رفیق شہید حکومتی ذرائع سے فائدہ اُٹھانا گناہ کبیرہ سمجھتے تھے۔

ان کی دیانت اور فقر نے انہیں بلا کا جرأت مند بنا دیا تھا وہ اتنی کُھل کر تقریر کرتے کہ صحافیوں کے لئے حکومتی پابندیوں کے باعث آمریتوں کے خلاف ان کی تقاریر کو رپورٹ کرنا مشکل ہو جاتا تقریباً دوسری تیسری تقریر کے بعد خواجہ محمد رفیق شہید کو تعزیراتِ پاکستان کا مزا چکھنا پڑا۔

جنرل ایوب خان نے پاکستان پر قبضہ کیا تو خواجہ رفیق شہیدشعلہ جوالہ بن گئے اورآمریت کے روزِ اوّل سے آمریت کے خلاف پوری قوت سے سربکف ہوگئے۔ ایوبی آمریت کے دوران جس سیاسی راہنما پر سب سے ذیادہ مقدمات بغاوت قائم کیے گئے وہ خواجہ محمد رفیق شہید ہی تھے۔

؂رُکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

کے مصِداق اُن کی تقریر وں اور جدو جہد کا تیکھا پن بڑھتا ہی گیا۔ ایوب خان کے آمرانہ دور میں جب بڑے بڑے نامور سیاسی راہنما خوفزدہ ہو کر سیاست سے تائب ہو رہے تھے یا آمریت کے ہمنوابن گئے تھے، خواجہ شہید کی آواز آمریت کیخلاف توانا ترین آواز وں میں سے تھی۔

خواجہ محمد رفیق شہید دورِ ایوبی میں لاہور، ملتان، ساہیوال اور بہاولپور کی جیلوں میں طویل مدت تک پابندِ سلاسل رہے۔ تحریک بحالئ جمہوریت کے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے انہیں پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے، مگر ان کی جدوجہد جاری رہی۔

64-65 کے صدارتی انتخاب میں وہ مغربی پاکستان میں مادر ملت کی انتخابی مہم کے انچارج تھے۔ مادرِملت کی کامیابی اور ایوب خان کی آمریت کا بُت توڑ نے کے لئے انہوں نے مغربی پاکستان کے طول و عرض کے دور ے کئے اور مادر ملت کا پیغام ملک کے کونے کونے میں پھیلا دیا۔

بقول آغا شورش کاشمیری :-

’’خواجہ رفیق کی للکار شروع میں صدا بصحراء تھی ،رفتہ رفتہ یہی آواز ،شہنائی کی لے سے شمشیر کی گونج ہو گئی، اس آواز کے جرم میں انہیں بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنی پڑی، انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر ڈالا ۔

پہلے والد جُدا ہوئے پھر بھائی راہی عدم سدھارے۔ اہلیہ آفتوں میں ڈھل کر بیمار ہوگئیں ۔بچے حادثوں میں پلنے لگے، کاروبار چوپٹ ہوگیا، دوستوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ دشمنوں نے آنکھیں دکھائیں لیکن اس نوجوان نے جھکنے سے انکار کر دیا اور ملک کی آمریت کو بدستور للکارتا رہا۔ اس نے جنرل ایوب خان کے چہرے کی نقابیں نوچ لیں اور اس تمام لوٹ کو چوراہے پر کھول کر دکھا دیا‘‘۔

’’خواجہ رفیق وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے ایوب خان کے شہزادوں، درباریوں اور گماشتوں کو للکارا‘‘۔ ’’مغربی پاکستان کے ظالم گورنر امیر محمد خان آف کالا باغ کے ظلم و جبر اور آمریت کو خواجہ رفیق شہید نے جگہ جگہ ،جا بجا اور برملا چیلنج کیا، دور ایوبی میں خواجہ رفیق شہید کو بارہا شرکت اقتدار کی پیشکش کی گئی جو ہر بار انہوں نے قلندرانہ شان سے ٹھکرا دی‘‘۔

یہ 20دسمبر 1972ء کا دن تھا۔ ذوالفقار بھٹوکے اقتدار کی پہلی سالگرہ پر حزبِ اختلاف نے لاہور میں یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا۔ تحریک استقلال، پاکستان اتحاد پارٹی اور لاہور کے وکلاء نے نیلا گنبد چوک سے ایک مشترکہ جلوس نکالا۔

جس کی قیادت ایئر مارشل اصغر خان، خواجہ محمد رفیق شہید اور رابعہ قاری ایڈووکیٹ نے کی۔ جلوس کے شرکاء کو آغاز سے پیپلز گارڈ کے مسلح غنڈوں کا سامنا کرنا پڑا جو جلوس کے دونوں طرف بھاری تعداد میں موجود تھے اور پُرامن شرکاء کو گالیاں دے رہے تھے۔

پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ اس ڈرامے کے سرپرست اعلیٰ پنجاب کے گورنر غلام مصطفےٰ کھر تھے، جلوس کے اِردگرد کی فضاء آغاز ہی سے کشیدہ رہی۔

جلوس پنجاب اسمبلی پہنچ کر ختم ہوگیا۔ خواجہ محمد رفیق شہید واپسی کے لئے کارکنوں کے ہمراہ کو پر روڈ کی طرف چل دئیے۔ چند ہی لمحوں بعد پیپلز پارٹی کے مسلح غنڈوں نے خواجہ محمد رفیق شہید کے عقب میں آنے والے کارکنان کی ایک ٹولی پر حملہ کر دیا۔

ان کی چیخیں اور آہ بکا سن کر خواجہ رفیق شہید اُن کو بچانے کے لئے آگے بڑھے۔ مسلح غنڈوں نے انہیں پہچان کر ان پر پہلے ڈنڈوں سے حملہ کیا وہ شدید زخمی ہو کر گر پڑے۔

پھر اُن پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔خواجہ محمد رفیق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔آپ کے سینے پر گولیوں کے پانچ نشان تھے۔

خواجہ محمد رفیق شہید کا قتل، ڈاکٹر نذیر احمد شہید کے بعد پیپلز پارٹی کے پہلے دورِ اقتدار کا دوسرا بڑا سیاسی قتل تھا۔ 22دسمبر 1972ء کے قومی اخبارات کے مطابق ان کا جنازہ غازی علم دین شہید کے بعد لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا، مولا نا عبدالستار خان نیازی ؒ نے امامت کی۔

خواجہ محمد رفیق شہید غریبوں، مزدوروں، مجبوروں اور مظلوموں کے سچے ہمدرد، ساتھی اور راہنما تھے۔جمہوریت کی سربلندی، سماجی انصاف کی بالادستی، معاشی ناہمواری کا خاتمہ اور غریب و متوسط طبقے کی بالادستی ان کی زندگی کا خواب اور مشن تھا۔ خواجہ محمد رفیق شہید بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے پاکستان کو برباد ہوتا اور لٹتا دیکھ کر شعلۂ جوالہ بن جاتے۔

آمریتوں کے مختلف ادوار میں قیدوبند کی صعوبتیں، جسمانی تشدد اور مالی پریشانیاں ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہ کر سکیں۔ خواجہ محمد رفیق شہید اس دنیائے رنگ و بو میں جتنا عرصہ بھی جیئے ایک مرد قلندر کی مانند خوف اور طمع سے بے نیاز رہے۔خواجہ رفیق شہید کا لہو جمہوریت کی مانگ کا سندھور تھا یہ سندھور کبھی مانند نہیں پڑ سکتا۔

بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

مزید : رائے /کالم


loading...