یومِ قائد اعظم اور تحریکِ عدل

یومِ قائد اعظم اور تحریکِ عدل
 یومِ قائد اعظم اور تحریکِ عدل

  



بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ بہت بڑے لیڈر ہونے کے ساتھ ممتاز قانون دان بھی تھے۔ وہ ایسا ملک بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جہاں عدل نہ ہو۔ ان کا پاکستان بنانے کا مقصد ہی عوام کی بالادستی اور عدل کا نظام لانا تھا۔

بانیِ پاکستان کا 141واں یومِ پیدائش اسی جوش و جذبہ سے منایا جا رہا ہے جیسا آزادی حاصل کرنے کے بعد سے منایا جا تا ہے ۔ ان 70 سالوں کے دوران ہم نے بہت ترقی کی، صفر سے سفر شروع کرنے کے باوجود دنیا کے اہم ممالک کی صف میں شامل ہیں کہ پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔

یہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج اور چھبیسویں سب سے بڑی معیشت بھی ہے، اور بھی بہت سے شعبوں میں پاکستان کا دنیا میں ایک مقام ہے۔ تمام کامیابیاں اپنی جگہ قابلِ فخر ہیں لیکن جس ایک وجہ سے یہ تمام کامیابیاں گہنا جاتی ہیں وہ ملک میں عوام کی بالادستی کو درپیش چیلنج ہیں جو شروع سے ہی پاکستان کو سیاسی، سماجی، معاشی، اخلاقی اور فکری پستی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کے 33 سال تو براہ راست فوجی حکومتوں کی نذر ہوگئے اور باقی کے 37 برسوں میں بھی منتخب حکومتوں پر غیر منتخب طاقتوں نے بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنا دباؤ برقرار رکھا جس کی وجہ سے پاکستان میں سویلین بالادستی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ قائداعظمؒ کا یومِ ولادت ہر سال اس طرح آتا ہے کہ ٹھیک ایک ہفتے بعد اگلا سال شروع ہو جاتا ہے۔

یہ موجودہ منتخب حکومت کا آخری سال ہے اور اگر یہ اپنی مدت پوری کر لیتی ہے تو لگاتار تیسری حکومت ہو گی جو اپنا دورانیہ پورا کرے گی۔پیپلزپارٹی کا وزیراعظم مدت ختم ہونے سے ایک سال قبل نا اہل قرار دے دیا گیا تھا۔ حسن اتفاق سے موجودہ حکومت کا وزیراعظم بھی مدت پوری ہونے سے ایک سال پہلے نا اہل قرار دیا گیا ہے۔

قائداعظمؒ ایک سیاسی رہنما تھے اور انہوں نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے پاکستان بنایا تھا۔ وہ ملک جو مسلم لیگ اور برصغیر کے مسلم عوام کے ووٹوں سے بنا تھا، اس ملک میں غیر منتخب اداروں نے عوامی مینڈیٹ کو بار بار پاؤں تلے روندا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سرد جنگ کے زمانہ میں کئی درجن ملکوں میں فوجی آمروں نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا لیکن ایک ایک کرکے تقریباً تمام ممالک فوجی آمروں سے نجات حاصل کر چکے ہیں اور اب دو چار ملک ہی ہوں گے جہاں مارشل لاء ہے یا اس کے لگنے کا خطرہ ہے۔

پاکستان سمیت ان تمام ممالک میں جہاں فوجی جرنیل اقتدار پر قبضہ کرتے رہے ہیں، اب مزید اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔ پاکستان اور ترکی دونوں ملکوں میں چار چار مرتبہ مارشل لاء لگا کر فوج اقتدار میں آئی ہے، لیکن اب ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔

پچھلے تمام مارشل لاؤں میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی آمروں کو تحفظ دیاتھا، ہماری اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے دئیے گئے بہت سے ایسے فیصلے لوگوں کے حافظوں میں محفوظ ہیں۔

اس سال یومِ قائداعظمؒ اب تک گزرے تمام برسوں سے اس لئے مختلف ہے کہ سویلین بالادستی کی جدوجہد اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور امید کی ایک کرن ہے جو تاریک سرنگ کے دوسرے سرے پر نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔

اس وقت ملک کی سیاسی صورتِ حال کچھ اس طرح ہے کہ میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت سے ملک کے منتخب وزیر اعظم تھے لیکن ایک عدالتی فیصلہ کے ذریعہ انہیں مائنس کرنے کی کوشش کی گئی۔

اب وہ ملک میں عدل کی بحالی کی تحریک چلانے جا رہے ہیں۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو عوامی مینڈیٹ کے بل بوتے پر ایک سیاست دان راہنما کے بنائے ہوئے ملک میں وہ عوامی مینڈیٹ اور سویلین بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

پاکستان میں صرف تحریک انصاف ایک واحد سیاسی جماعت ہے جو عوامی مینڈیٹ کے احترام سے مسلسل انکار کرتی آئی ہے، شیخ رشید اور ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعتوں کی سیاسی حیثیت صفر ہے اس لئے انہیں جماعتوں کی بجائے انفرادی حیثیت ہی دی جا سکتی ہے جو ایک، ایک شخص کے گرد گھومتی ہیں اور یہ دونوں اشخاص بھی کسی غیبی مدد کے بغیر اپنے حلقہ سے منتخب نہیں ہو سکتے۔

باقی کی جماعتیں جن کی کوئی سیاسی حیثیت ہے ، وہ تمام کی تمام جماعتیں ملک میں عوام کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو میاں نواز شریف ایک مضبوط اخلاقی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔

بات کا فیصلہ عوام نے کرنا ہوتا ہے کہ کون ان کی نمائندگی کر سکتا ہے یا وہ کسے اپنا لیڈر دیکھنا چاہتے ہیں،جو لوگ ریاستی اداروں اور حکومت کے درمیان دانستہ طور پر غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں، وہ کسی بھی طور پر ملک اور عوام کی خدمت نہیں کرتے، بلکہ اس کے برعکس ملک اور عوام دونوں کو مفلوج کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح دھرنے اور انارکی بھی ریاست کی شکست و ریخت کا باعث بنتے ہیں۔

پاکستانی سیاست میں دھرنا سیاست متعارف کرانے کا گناہِ کبیرہ ڈاکٹر طاہر القادری کو جاتا ہے جب پچھلی حکومت کے آخری سال میں انہوں نے اسلام آباد میں ایک بلا مقصد دھرنا دیا تھا، آج تک اس دھرنے کے اغراض و مقاصد کسی کو سمجھ نہیں آ سکے۔

موجودہ حکومت کو اس کی پوری مدت کے دوران مختلف دھرنوں کے ذریعہ انڈر پریشر رکھا گیا، یہ ہتھکنڈے عوام کے مینڈیٹ کو روندنے کے غیر معروف طریقے ہیں لیکن ان سے ملک میں انتشار پھیلنے کے سوا کوئی مقصد پورا نہیں ہوا۔

یہ بڑھتا ہوا انتشار نہ تو ملک کے لئے کوئی اچھی خبر ہے اور نہ ہی ملکی اداروں اور عوام کے لئے، اس لئے بہتر ہو گا کہ انتشار کی بجائے ملک کو سیاسی استحکام کی طرف لے جایا جائے۔

اگلے سال جب یومِ قائداعظم آئے گا تو ملک میں الیکشن کے بعد نئی حکومت آ چکی ہوگی۔ حکومتیں (منتخب اور غیر منتخب دونوں طرح کی) آتی جاتی رہتی ہیں، اصل بات ملک میں عدل کا قیام اور عوام کے مینڈیٹ کی بالادستی ہے۔ یومِ قائد اعظم اور نئے سال کا سب سے بڑا تحفہ بھی یہی ہے کہ عوام کی بالادستی کو دل سے تسلیم کیا جائے۔

مزید : رائے /کالم


loading...