قانون کو بے بس کرنا کون سا مشکل ہے؟

قانون کو بے بس کرنا کون سا مشکل ہے؟
قانون کو بے بس کرنا کون سا مشکل ہے؟

  



24دسمبر 2012ء کی رات کراچی میں جنم لینے والی کہانی کا کل جو اختتام ہُوا، اُس پر ہر طرف ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ ہر شخص یہ رونا رو رہا ہے کہ پاکستان میں قانون طاقتوروں کی لونڈی ہے،وہ جس طرح چاہے اُسے انگلیوں پر نچاتے ہیں۔

کراچی کے مشہورِ زمانہ شاہ زیب قتل کیس کا اِس طرح انجام ہوا کہ قاتل اور اُس کے ساتھی بری ہو گئے،قانون اُن کے سامنے بے بسی کی تصویر بن کر رہ گیا۔

لوگوں کو شاہ رخ خان جتوئی کی،جو سرعام ہونے والے قتل کا مرکزی ملزم ہے، وکٹری کا نشان بناتی دو انگلیاں نہیں بھولتیں، یہ انگلیاں درحقیقت ہمارے معاشرے اور قانون کے خلاف ایک ایسا تازیانہ ہیں، جو ہماری بے بسی و بے چارگی پر کوڑے کی طرح برس رہا ہے۔

آسان سی بات یہ کہی جا رہی ہے کہ ورثاء نے جب دیت لینے کے بعد ملزموں کو معاف کر دیا تو عدالتیں کیا کرتیں؟انہیں رہائی کے پروانے پر دستخط تو کرنے ہی تھے،مگر یہ آنکھوں میں مرچیں ڈالنے والی بات ہے۔

کیا ہمیں مقتول شاہ زیب کے والد کا وہ بیان یاد نہیں، جس میں اُس نے کہا تھا کہ ملزموں کے ورثاء نے یہ دھمکی دی ہے کہ اگر معاف نہ کیا تو تمہاری بیٹیوں کو سرعام زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا جائے گا،حالانکہ وہ خود ڈی ایس پی تھا،مگر وڈیروں کے سامنے ڈی ایس پی کیا، ایس پی کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

ریاست اگر چاہتی تو اِس کیس کو مثال بنا کر معاشرے میں بے رحمانہ عدل کی بنیاد رکھ سکتی تھی۔اُس عدل کی جو اسلام کا وتیرا ہے اور جس کا سادہ سا اصول حضرت محمدؐ نے یہ بیان کیا تھا کہ چوری میں میری بیٹی فاطمہؓ بھی مجرم ثابت ہو تو اُس کا ہاتھ کاٹنے میں بھی ایک لمحے کی تاخیر نہ کی جائے۔

شاہ رخ خان کیس درحقیقت مافیا کی طاقت اور ریاست کے درمیان ایک جنگ پر مبنی تھا۔ بالآخر مافیا جیت گیا اور ریاست ہارگئی۔ شروع میں میڈیا کے دباؤ اور عدالتِ عظمیٰ کی موثر نگرانی کے باعث سب کچھ سرعت کے ساتھ ہوا، انصاف اپنا راستہ بناتا چلا گیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے شاہ رخ خان اور سراج کو پھانسی اور باقی دو ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی،اصولاً تو سرعت کے ساتھ اس کیس کی اپیلیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے نمٹا کر ملزموں کو پھانسی پر لٹکا دینا چاہئے تھا تاکہ ملک میں عدل و انصاف کی ایک بڑی مثال قائم ہو جاتی،مگر ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ سندھ کے دو بڑے خاندانوں جتوئی اور تالپور کی آل اولاد کو پھانسی دی جا سکتی؟ابھی ہمارے قانون میں اتنا دم خم کہاں پیدا ہوا ہے؟جونہی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے پھانسی کی سزا سنائی،ریاستی طاقت کے مقابلے میں وڈیروں کی طاقت اپنی پوری سفاکی کے ساتھ اُٹھ کھڑی ہوئی۔

شاہ زیب کے خاندان کو صاف صاف بتا دیا گیا کہ اگر شاہ رخ اور سراج کو پھانسی ہو گئی تو اُس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔ صرف پاکستان نہیں،بلکہ دُنیا میں کہیں بھی اُسے جینا نصیب نہیں ہو گا۔

دوسری طرف دولت کا لالچ بھی دیا گیا،یوں بیٹے سے محروم ہونے والے والدین اپنی بیٹیوں کی عزت اور زندگی کی خاطر شاہ زیب کا قتل معاف کرنے پر تیار ہو گئے۔ایک صلح نامہ تیار ہوا اور عدالت میں جمع کرا دیاگیا۔

اس سے پہلے کہ عدالت اُسے قبول کر کے یہ معاملہ ختم کرتی، سپریم کورٹ آڑے آئی اور اِس نکتے پر کہ اِس کیس میں دہشت گردی کی دفعات بھی موجود ہیں،جن کی مدعی ریاست ہے،اِس لئے اس پر دیت کا قانون لاگو نہیں ہوتا، رہائی رُک گئی اور قتل کی اپیل کا معاملہ چلتا رہا۔ظاہر ہے جو طاقتور ہیں، وہ قانون کو بے بس کرنے کی نئی راہیں بھی ڈھونڈ لیتے ہیں، اب سارا زور اِس بات پر صرف کیا گیا کہ کسی طرح اِس مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرائی جائیں۔

یہ کوئی اتنا بڑا معاملہ نہیں تھا۔ سندھ پولیس کی پراسیکیوشن برانچ ہی کو تو راضی کرنا تھا تاکہ وہ عدالتِ عالیہ میں جب اس درخواست کی سماعت ہو تو کمزور موقف پیش کرے۔ اِس بات کا گول مول جواب دے کر اس سرعام قتل سے دہشت پھیلی یا نہیں پھیلی؟ آئیڈیل صورتِ حال تو یہی ہوتی کہ عدالتِ عالیہ سندھ کے فاضل جج پولیس پر انحصار کرنے کی بجائے اِس کیس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے،مگر انہوں نے شاید فائلوں میں لکھے لفظ ہی دیکھنے ہوتے ہیں، سو پہلے مرحلے میں یہ کامیابی حاصل کی گئی کہ مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات نکلوا کر اُسے عام قتل کا مقدمہ بنوا لیا گیا۔اب ظاہر ہے جب یہ فیصلہ ہو گیا تو عدالتِ عالیہ نے کسی بھی عام عدالت میں بھیج دیا، جس کے بعد ایک نیا معافی نام لکھوا کر عدالت میں جمع کرایا گیا،یوں قانون کو بے بس کرنے کی منصوبہ بندی کامیاب ہو گئی، اس صلح نامہ کی بنیاد پر عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور اُس کے ساتھیوں کی ضمانتیں منظور کر لیں اور وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اپنے گھروں میں پہنچ گئے۔

ایک ہوتا ہے قانون پر عمل ہونا اور ایک ہوتا ہے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنا۔ اب یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہمارے ہاں چونکہ دیت کا قانون رائج ہے، اِس لئے ملزم اگر رہا ہو گئے ہیں تو کون سی اچنبھے کی بات ہے؟لیکن کیا ہمیں معلوم نہیں کہ دیت کے لئے ورثا کا آزادانہ فیصلہ ضروری ہے،انہیں ڈرا دھمکا کر دیت لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا؟ کیا اس کیس میں سب کو معلوم نہیں تھا کہ کس طرح مقتول کے ورثاء کو معاف کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے؟

ریاست نے اِس موقع پر کیا کردار ا دا کیا۔کیا یہ ایسا کیس نہیں تھا جسے خصوصی عدالت میں بھیج کر فوری فیصلہ لیا جاتا اور اپیلوں کے مراحل بھی سرعت سے طے کئے جاتے، کیا یہ واقعہ اگر سعودی عرب، ایران، قطر یا دوسرے کسی اسلامی ملک میں ہوتا تو مجرموں کے ورثاء کو اتنی چھوٹ دی جاتی کہ وہ متاثرین پر دباؤ ڈال کر معافی نامہ لکھوا لیں۔

وہاں تو چار دن میں انہیں سماعت کے بعد لٹکا دیا جاتا اور پھر کسی کو ایسے کام کی جرأت نہ ہوتی۔سوال یہ ہے کہ پانچ سال بعد اچانک پراسیکیوشن یہ فیصلہ کیسے کر سکتی ہے کہ مقدمے میں جو دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں، وہ نہیں بنتی تھیں،یہ نکتہ ابتدا میں بھی تو اٹھایا جا سکتا تھا،مگر اُس وقت چونکہ قانون اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان نہیں تھا،اس لئے خاموشی اختیار کی گئی،لیکن اب چونکہ ساری گرد بیٹھ گئی تھی، اِس لئے نقب لگا کر سب کچھ سیدھا کر لیا گیا۔پوری قوم نے یہ بھی دیکھا کہ قاتلوں کو ہسپتال میں وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ رکھا گیا گیا۔

گھن آتی ہے ایسے قانونی نظام سے جس میں طاقتور اور دولت مند مافیا کو کیسی کیسی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ کون سا بااثر مجرم جیل میں رہتا ہے،گرفتار ہونے کے فوراً بعد اُسے بیمار قرار دے کر ہسپتال کے بستر تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

یہ خبریں تو اکثر پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں قیدی علاج نہ ہونے پر جیل میں دم توڑ گیا،مگر یہ خبر کبھی نہیں ملتی کہ فلاں وڈیرا، سیاست دان یا اربوں روپے لوٹنے والا جیل میں انتقال کر گیا ہے۔

اس سارے کھیل میں ڈاکٹر، پولیس اور آخر میں عدالت بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ شاہ رخ جتوئی کی ضمانت منظور ہوئی تو اُسے قافلے کی صورت میں لے جانے کے لئے چمچماتی گاڑیاں ہسپتال پہنچ گئیں،جہاں وہ علاج کے نام پر ایک عرصے سے داخل تھا۔ضمانت کیا منظور ہوئی،اُس کی بیماری بھی ختم ہو گئی اور وہ ہشاش بشاش اُٹھ کر ہسپتال سے رخصت ہو گیا۔۔۔کوئی مانے یا نہ مانے اس کیس نے اُس وقت بھی معاشرے کو عدم تحفظ اور ہیجان میں مبتلا کیا تھا، جب یہ قتل کی واردات ہوئی تھی اور آج ملزمان کی رہائی کے موقع پر بھی معاشرے کو یہ واضح پیغام ملا ہے کہ یہاں ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ کا نظریہ رائج ہے۔

24دسمبر2012ء کی رات جب مقتول شاہ زیب نے سراج علی تالپور کو اپنی بہنوں سے چھیڑ خانی پر روکا تھا اور کچھ دیر بعد شاہ رخ جتوئی نے اُس کے ساتھ آ کر اُسے گولیوں سے بھون دیا تھا تو اس واقعہ سے پورے مُلک میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی،کیونکہ بہنیں ہر گھر میں موجود ہیں اور غیرت مند بھائی بھی۔یہ معاشرے میں قانون کی موجودگی کا احساس دِلانے کے لئے ایک بہت فٹ کیس تھا۔ابتداء میں اسے اِسی طرح برتا بھی گیا، مگر پھر قانون طاقتوروں کے آگے ہانپنے لگا اور بالآخر ہانپتے ہانپتے چاروں شانے چت ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ ایسے ہائی پروفائل کیس سالہا سال تک کیوں لٹکائے جاتے ہیں۔ فوری سماعت کے بعد جرم ثابت ہونے پر قاتلوں کو کیوں نہیں لٹکایا جاتا؟ جیسا ڈیپریشن لوگوں پر اِس واقعہ کے رونما ہونے پر طاری ہوا تھا، اُسی طرح کا ڈیپریشن آج قاتلوں کی ڈرامائی رہائی پر ہوا ہے۔

اکثر لوگ سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری عدلیہ پر ڈال رہے ہیں،حالانکہ ایسے واقعات اُس وقت تک رونما نہیں ہو سکتے، جب تک سب مراعات یافتہ طبقے قانون کو بے بس کرنے کے لئے ایک نہ ہو جائیں اور اِس کیس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ہیں اور قانون ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...