بابا پوپٹ!

بابا پوپٹ!
 بابا پوپٹ!

  



میری پیدائش تقسیم برصغیر سے پہلے کی ہے۔۔۔۔

14اگست 1947ء کو جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو میرا بچپن جارہا تھا اور لڑکپن سرپر کھڑا تھا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات اس زمانے میں بھی اچھی آواز سنتا تو دیر تک انجوائے کیا کرتا اور بعد میں تو گویا سریلے فلمی گیتوں، قوالیوں اور نعتوں کا چسکا پڑگیا۔ اپنی آواز تو صرف واش روم کی دیواروں کی سمع خراشی تک محدود تھی لیکن ہم سے بھی ’’بڑے اور بہتر‘‘کئی گویئے گلیوں میں گیت گاتے سنے جاتے تو دل کو کچھ ڈھارس بندھا کرتی !

ہمارے بیڈروم کی دو کھڑکیاں باہر گلی میں کھلتی تھیں۔ ایک کھڑی کے چارپٹ تھے دو اوپر اور دو نیچے جن کے آگے آہنی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ اوپر والے پٹ ہم صبح سویرے ہی کھول دیتے تھے تاکہ تازہ ہوا اور روشنی اندر آسکے۔

اُس دور میں کھڑکیوں کے آگے جالی لگانے کا رواج نہیں تھا۔ ان کھڑکیوں کے سامنے گلی میں پرچون فروش کی ایک چھوٹی سی دکان تھی جس سے گلی محلے کے لڑکے، لڑکیاں اور عورتیں روزمرہ ضروریات کی چھوٹی چھوٹی اور معمولی اشیائے ضرورت خریدا کرتی تھیں۔

دکاندار کی عمر کوئی 70برس ہوگی۔ سفید داڑھی لیکن آنکھوں میں بلاکی چمک اور آواز میں غضب کی کھنک تھی۔ باتیں کرتا تو یوں لگتا جیسے 20,15 برس کا لڑکا بول رہا ہے۔ وہ صبح صبح دکان کھولتا تو گاہکوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی منتظر ہوتی۔

ہمارا چونکہ سکول جانے کا وقت ہوتا اس لئے کچن میں جاکر ناشتہ کرتے، بیگ اٹھاتے اور تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے سکول کی راہ لیتے۔ لیکن جب سکول سے واپس آتے تو بابا جی کی کھنک دار آوازیں دوبارہ کانوں میں گونجتیں۔

مجھے معلوم نہیں کہ اس کا مزاج عاشقانہ تھا یا نہیں لیکن حسِّ مزاح ضرورت سے زیادہ تیز تھی۔ یہی کشش تھی کہ اس کی دکان پر ہمیشہ گاہکوں کی بھیڑرہا کرتی۔ بچوں نے اس کا نام ’’بابا پوپٹ‘‘ رکھا ہوا تھا۔ اُس دور میں پوپٹ کے لغوی معانی تو ہمیں معلوم نہ تھے۔

البتہ مرادی معنوں میں معشوقہ، محبوبہ، چنچل حسینہ اور الہڑ دوشیزہ وغیرہ کو ملا کر جو تصویر ابھرسکتی ہے وہی ’’پوپٹ‘‘ کا مفہوم بنتی تھی۔ بہت بعد میں ڈکشری دیکھی تو Poppet کا مطلب تھا:لاڈلا، پیارا، خوبصورت۔۔۔

سارا سارا دن’’بابا پوپٹ، بابا پوپٹ‘‘ کی آوازیں سن سن کر ہمیں اب اس طنزیہ خطاب پر کوئی ہنسی نہیں آتی تھی۔ میں اکثر کھڑکی کے اوپر کے دونوں پٹ بند کرلیا کرتا تھا۔ بابا پوپٹ کا ایک کمال یہ بھی تھا کہ ان کو شہر کے سینما میں چلنے والی تمام فلموں کے گیت ازبر ہوتے تھے، سُر تال کا شعور بھی ضرور ہوگا، اسی لئے جب کوئی گاہک دکان پر نہ ہوتا یا رات گئے جب بابا پوپٹ دکان بند کرتا تو کوئی نہ کوئی ایسا گیت گاتے ہوئے بند کرتا جس کی دھن نغمۂ کوچہ و بازار بن کر مقبول عوام ہوچکی ہوتی تھی۔ چونکہ وہ اکیلے میں اپنے اس فن کی نمائش کیا کرتا تھا اس لئے اس کے بیشتر گاہک بابے کی اس صفت سے بے خبر تھے۔

ہم بھائیوں میں سے کوئی بھی بابے کی دکان سے سودا نہیں خریدتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ایک تو رات گئے تک وہاں بچوں کا ہجوم رہتا۔ کوئی ٹافی مانگ رہی ہے تو کوئی ماربل لے کر جارہا ہے، کسی نے مرونڈا مانگا ہے تو کوئی گچک کی ڈلی کا مطالبہ کررہا ہے۔۔۔ بابا خوشی خوشی یہ سب چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھماتا اور پیسے لے کر ایک چنگیز میں ڈالتا جاتا۔اور دوسری وجہ دکان پر نہ جانے کی یہ تھی کہ وہ پرچون فروشی کی آخری حدوں تک جانے کے لئے تیار رہتا۔ مثلاً اگر کوئی خاتون بابا پوپٹ سے ایک آنے کا گھی بھی مانگتی تو وہ جھٹ ایک کاغذ میں تھوڑا سا گھی رکھ کر اس کی ہتھیلی پر تھما دیتا۔۔۔ اس دور میں بناسپتی گھی شہر میں نہیں آیا تھا۔

ڈالڈا کا نام ضرورسنا تھا لیکن اس کے خریدنے والے کو لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ سارا شہر دیسی گھی استعمال کیا کرتا تھا اور وہ بھی جما ہوا ہوتا۔ تیل کی صورت والا گھی تو بہت بعد میں مارکیٹ میں آیا اور ایسا آیا کہ اب جانے کا نام نہیں لیتا۔۔۔ پار سالوں کا خالص دیسی گھی تو کبھی کا ایک خواب بن چکا!

اتوار کو بابا پوپٹ دکان بند رکھاکرتا تھا شہر کی تمام دکانیں ہفتے میں ایک دن حکماً بند رکھنی پڑتی تھیں۔ ہر دکان میں ایک طیع شدہ فارم دیوار پر لٹکا ہوتا جس میں ہفتے میں دکان کی بندش کا دن بھی لکھا ہوتا تھا۔ اس پر باقاعدہ میونسپل کمیٹی پاک پتن کی نیلے رنگ کی مہر ثبت ہوتی۔

والد صاحب کی طرف سے ہم پر چونکہ فلم دیکھنے کی سخت پابندی تھی اس لئے ہم دو بھائی اتوار کو والی بال ہاتھ میں لئے باہر نکل جاتے۔ چھوٹے بھائی کے ہاتھ میں ہوا بھرنے کی پچکاری اتمامِ حجت کے لئے پکڑا دی جاتی تھی۔

دوپہر کا کھانا ہم ایک بجے ہی کھالیتے اور دواڑھائی بجے ’’والی بال‘‘ کھیلنے کے لئے کشاں کشاں ڈھکی سے اتر کر میدانی علاقے کی طرف جاتے جہاں والی بال گراؤنڈ بنے ہوئے تھے۔ یہ تدبیر اس لئے کی جاتی کہ سارے گلی محلے والے گواہ رہیں کہ ہم کھیلنے کے لئے جارہے ہیں۔

لیکن ڈھکی ختم ہوتے ہی جب سڑک آتی تو سیدھا نشاط سینما کا رخ کرتے جہاں اتوار کو تین بجے بعد دوپہر میٹنی شو دکھایا جاتا تھا۔ یعنی اتوار کو تین شو ہوتے۔ ۔۔۔ایک 3تا 6۔۔۔ دوسرا 6تا 9 ۔۔۔اور تیسرا 9 تا 12 بجے رات۔۔۔ سینما کے صحن میں پان سیگرٹ والے کا ایک کھوکھا بھی تھا۔

ہم وہاں سے دوپان خریدتے اور ساتھ ہی التجائی لہجے میں دکاندار سے کہتے:’’بھائی جان، یہ بال اور پچکاری ذرا شو ختم ہونے تک اپنے پاس رکھ لیں۔ ہم واپسی پر لے لیں گے‘‘۔۔۔ اسے کیا اعتراض ہوسکتا تھا؟

پھر چھوٹا بھائی 5آنے والی کھڑکی کے سامنے لگی لمبی قطار میں جاکھڑا ہوتا اور دو ٹکٹیں خرید لاتا۔ ہم بچتے بچاتے ٹکٹ ہاتھ میں پکڑتے اور دونوں پان کسی دیوار کے ساتھ پھینک کر ہال میں اندر جاکر لکڑی کے بنچوں پر بیٹھ جاتے۔ایک اتوار میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سب سے آخری قطار میں ’’بابا پوپٹ‘‘ بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ بابا تازہ ترین فلموں کے گیت کیسے گالیتا ہے۔

پھر یوں ہوا کہ سال کی 52اتواروں میں ہم جن 45,40 اتواروں کو میٹنی شو پر جاتے تو بابا پوپٹ کو بھی باقاعدہ اپنی اُسی مخصوص جگہ اور اسی مخصوص سیٹ پر براجمان دیکھتے!۔۔۔ ایک بار سردیوں میں تقریباً دس بجے رات جب بابا نے دکان بند کی تو ایک مدھر سی آواز باہر گلی میں سنائی دی:

کبھی سامنے تو آؤ ساجنا

وہ پیچھے رہ گیا بچپنا

اور آگے کھڑی ہے جوانی

اب کچھ یاد نہیں کہ یہ گیت کس فلم کا تھا لیکن اس کی دھن اس قدر دلکش تھی اور لتاکی آواز میں اتنا سوز اور بے تابانہ انتظار کی کیفیت تھی کہ میں نے مجبور ہو کر اپنے بیڈ روم کی کھڑکی کے وہ پٹ کھول دئے جو سکول سے آنے کے بعد بند کردئے جاتے تھے۔ دیکھا تو بابا پوپٹ دکان بڑھا رہا تھا اور تالا لگاتے لگاتے وہ تان بھی لگا رکھی تھی جو اس کی عمر کے ساتھ ہرگز مطابقت نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔ میں تڑپ کر رہ گیا۔۔۔ فوراً مین دروازہ کھولا اور باہر نکل کر بابا جی کو سلام کیا۔ وہ اتنے میں چند قدم دور ہی گیا تھا۔ میں نے کہا:

’’بابا پوپٹ! میری ایک درخواست مانیں گے؟‘‘

’’جی بیٹا کہو تو کیا بات ہے؟‘‘

’’میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں‘‘

’’ضرور پوچھو بیٹا!‘‘

’’بابا جی! یہ سامنے میرا گھر ہے۔ میری درخواست ہے کہ آپ چند لمحوں کے لئے بیٹھک میں آکر میرے ساتھ چند باتیں کریں اور میرے سوالوں کا جواب دیں‘‘

بابا پہلے تو متذبذب نظرآیا۔ لیکن میری مسکین صورت دیکھ کر کہا:’’چلو بیٹا، چلتے ہیں‘‘۔۔۔میں نے مکان میں جا کر بیٹھک کی کنڈی اندر سے کھولی اور وہ اندر آکر میرے سامنے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے پہلے تو یہ پوچھا : ’’کیا خان صاحب گھر پر ہیں؟‘‘۔۔۔ میں نے کہا: ’’نہیں میں گھر میں اکیلا ہوں۔ باقی لوگ چچا کے ہاں گئے ہوئے ہیں اور دیر سے واپس آئیں گے کیونکہ جس تقریب پر وہ گئے ہیں وہ رات ایک بجے کے بعد ہی ختم ہو گی؟‘‘۔۔۔ پھر اس نے پوچھا: ’’تم کیوں نہیں گئے بیٹا؟‘‘۔۔۔ میں نے جواب دیا: ’’صبح میرا ٹیسٹ ہے اس لئے اس کی تیاری کر رہا ہوں‘‘۔

میں نے بابا جی سے پہلا سوال یہ کیا : ’’آپ رہتے کہاں ہیں؟‘‘۔۔۔ جواب دیا: ’’ڈھکی سے نیچے اتریں تو سامنے جہاں تم لوگوں کے کھیلنے کے گراؤنڈز بنے ہوئے ہیں ناں ان کے ساتھ ہی سائیں لاکھے شاہ کا جو تکیہ ہے وہاں جا کر سو رہتا ہوں اور صبح صبح وہیں سے نہا دھو کر اور نماز پڑھ کر دکان پر آ جاتا ہوں۔۔۔‘‘

میرا اگلا سوال تھا کہ آپ کا کوئی بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن یا رشتے دار نہیں اس شہر میں؟۔۔۔ یہ سوال سن کر بابا پوپٹ کا چہرا یکدم سنجیدہ ہو گیا۔ اسے چپ دیکھ کر میں نے ایک اور سوال داغ دیا: ’’آپ ہر اتوار فلم دیکھنے کیوں جاتے ہیں؟ آپ کی عمر کے لوگ تو میٹنی شو میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ کیا وہاں کسی رشتے دار سے کبھی ٹاکرا نہیں ہوا؟‘‘

’’رشتے دار‘‘ کا نام سننا تھا کہ بابا پوپٹ کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔۔۔ میں سخت پریشان ہوا۔۔۔۔ ہم ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو کررہے تھے۔۔۔۔ بابا جی نے میری پریشانی دیکھی تو سر سے سفید پگڑی اتار کر آنکھیں پونچھنے لگا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ بار بار اس کے پچکے ہوئے سفید گال آنسوؤں سے تر ہوئے جا رہے تھے۔۔۔

پھر وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگا: ’’بیٹا! سنو!!۔۔۔ میں تحصیل فاضلکا انڈیا کا رہائشی تھا۔ میرے محلے میں سارے سکھ یا ہندو رہا کرتے تھے۔میں بھی ہندو تھا۔ اور میرا نام لبھورام تھا۔ میں نے میٹرک فاضلکا سناتن دھرم ہائی سکول سے کیا۔

تحصیل مکتسر میں میری تھوڑی سی زمین تھی جس پر ہمارے خاندان کا گزارا تھا۔ وہیں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی جس میں پانچ سات مسلمان نماز بڑھنے آیا کرتے تھے۔

ان کی زمینیں بھی میری زمین کے آس پاس ہی تھیں۔ ان سے دوستی ہوگئی تو ایک دن مسجد کے مولوی صاحب نے باتوں باتوں میں اسلام اور پاکستان بننے کا ذکر کیا۔ ان کو معلوم تھا کہ میں کٹر ہندو ہوں لیکن وہ تو مسلمان بھائیوں سے مخاطب تھا۔

میں امام مسجد کی باتیں سنتا رہا۔ مجھے بالکل معلوم نہیں کہ کیوں میرے دل میں مسلمانوں کی عزت بڑھنے لگی ہے۔ میرے بیٹے اور داماد بھی کبھی کبھی میرے ساتھ ہوتے ۔

میں نے ان کا تعارف بھی مولوی صاحب سے کروایا اور وہ سب مولوی فضل دین کے وعظ سے اتنے متاثر ہوئے کہ گھر جا کر سب خواتین کو بھی یہ کہانی سنا دی۔

میری بیوی اور اولاد جانتی تھی کہ ہم نے محلے کے ایک مہاجن گنگورام سے اپنی دس ایکڑ زمین رہن رکھ کر قرض لیا ہوا تھا اور بیٹے بیٹیوں کی شادیاں کی تھیں۔

کئی برس سے وہ مہاجن میری ہاڑی اور ساؤنی (ربیع اور خریف) کی رقم بیاج (سود) میں لے رہا تھا اور مُول (اصل زر) جوں کا توں تھا۔ ایک بار جب میں سود کی ششماہی بیاج کی قسط نہ دے سکا تو اس نے ڈگری کر دی۔

کیس عدالت میں چل رہا تھا اور انہی ایام میں مولوی فضل دین سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ میری عمر اس وقت 50،55 سال ہوگی۔ جب گنگو کے مطالبے بڑھنے لگے تو مجھے اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ تقسیم کی تحریک زوروں پر تھی اور فاضلکا کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ پاکستان میں رہے گا یا اندیا میں چلا جائے گا۔

ایک روز مولوی فضل دین اور میرے دوسرے مسلمان دوست میرے پاس آئے اور کہا : ’’لبھورام! اگر تم مسلمان ہو جاؤ تو پاکستان کی سرحد قریب ہی ہے۔

ہم بھی یہاں سے نکل کر پاکستان چلے جائیں گے اور تم بھی مسلمان بن کر ہمارے ساتھ آ جانا‘‘۔۔۔۔ یہ ایک سخت اور مشکل فیصلہ تھا۔ آخر میں نے سوچا کہ پاکستان جانے ہی میں عافیت ہے۔

میں نے مولوی فضل دین کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے میرا نام کریم بخش رکھا۔ یہ اگست 1947ء کے پہلے ہفتے کا ذکر ہے۔ اگلے ہفتے اعلان ہو گیا کہ فاضلکا انڈیا میں چلا گیا ہے۔

میں نے اپنے گھر جا کر اپنے بیوی بچوں اور نواسوں پوتوں سے بات کی۔ وہ سارے میرے ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔ 16 اگست کوہم سب اپنے محلے سے نکلے تو محلے داروں کو شک ہو گیا کہ یہ سارا خاندان کہاں جا رہا ہے۔ ان لوگوں نے ہمارے پیچھے جاسوس لگا دیئے اور ہم جب عین پاکستان کی سرحد پار کرنے والے تھے تو سکھوں نے ہمیں آ لیا‘‘۔

یہاں پہنچ کر بابا پوپٹ کی ہچکی بندھ گئی۔۔۔لیکن وہ چپ نہ ہوا۔ رک رک کر کہنے لگا۔ ’’ان ظالموں نے میری آنکھوں کے سامنے میرے ایک ایک بچے اور بچی کو کرپانوں اور تلواروں سے چھلنی کر دیا اور مجھے لے جا کر خود پاکستان کی سرحد پار کرائی اور کہا: ’’اب باقی ساری عمر مسلمانوں میں گزارنا اور خوش رہنا!‘‘۔۔۔’’یہ دکان، میرا یہ کاروبار،فلمیں دیکھنا ، گیت گانا، رات گئے تک بچے بچیوں کے ہجوم میں گھرا رہنا میرے محرومی کے اسی درد کا مداوا ہے بیٹا!‘‘۔۔۔پھر کچھ دنوں بعد بابا پوپٹ عرف کریم بخش عرف لبھورام اپنی دکان چھوڑ کر چلا گیا۔

شائد اسے احساس ہو گیا تھا کہ جس راز کو اس نے 8،10 برس سے دنیا سے چھپا رکھا تھا وہ افشاء ہو چکا ہے اور وہ مزید اس شہر میں نہیں ٹھہر سکتا۔ میں نے بابا لاکھے شاہ کے تکیئے پر جا کر اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: ’’پتہ نہیں۔ وہ ایک دوماہ سے کہاں غائب ہو گیا ہے؟۔۔۔ کہتا تھا کسی لڑکے نے میری روح کے زخم ہرے کر دیئے ہیں‘‘

مزید : رائے /کالم


loading...