قائداعظمؒ ۔۔۔ زندہ باد

قائداعظمؒ ۔۔۔ زندہ باد

  



ہمیں قائداعظمؒ کی ذاتی دیانت اور فراست پر پورا بھروسہ تھا۔ جب انہوں نے یہ کہہ دیا کہ ’’پاکستان بنے گا‘‘ تو ہمیں بھی پورا یقین ہو گیا کہ پاکستان بن کے رہے گا۔ پوری قوم کا یہ بے مثال اعتماد قائداعظمؒ کو ناگہانی طور پر حاصل نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے برسوں کی ریاضت، سالہاسال کی بے لوث خدمت کے بعد یہ مقام حاصل کیا تھا

قائداعظمؒ سے کسی نے بڑے ادب کے ساتھ پوچھا:’’قائداعظم ؒ ! دیکھنے میں آپ اس قدر نحیف سے آدمی نظر آتے ہیں، لیکن یہ بات سمجھ میں بالکل نہیں آتی کہ آپ اپنی قوم کی خاطر اس قدر مشقت کس طرح برداشت کر رہے ہیں۔ براہ کرم یہ سمجھا دیجئے کہ آپ اس حالت میں اتنا کچھ کیونکر کرلیتے ہیں؟‘‘ قائداعظم نے برجستہ جواب دیا۔ ’’دو وجہ سے‘ ایک تو اِس لئے کہ مَیں بہت کم کھاتا ہوں اور دوسرے اِس لئے کہ میرے دِل کے اندر کوئی چور نہیں ہے‘‘۔

مارچ 1940 ء کی ایک صبح کو لاہور کے ایک کالج میں کچھ نوجوان لیکچرار جمع تھے اور اس معجزے پر حیرت کا اظہار کر رہے تھے جسے گزشتہ شب انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھاتھا۔ وہ معجزہ یہ تھا کہ جو بات ایک دن پہلے تک محض خواب و خیال معلوم ہوتی تھی،وہی اب ایک حقیقت بن کر مسلمانان برعظیم کے دل و دماغ کو منور کر رہی تھی۔ اس انقلاب کا سبب صرف اتنا تھا کہ رات آل انڈیامسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کے پیرانہ سال، مگر جواں ہمت قائد محمد علی جناحؒ نے مسلسل چند گھنٹوں تک ایک معرکۃ الآرا تقریرکر کے یہ اعلان کر دیا تھا کہ اس برعظیم کے مسلمان ایک قوم ہیں۔ ایک ایسی قوم جو اپنا ایک مسلک رکھتی ہے اور ساتھ ہی یہ عزم کہ وہ اپنے اس ملک میں آزاد ہو کر رہے گی۔ ان لفظوں میں کچھ ایسا اعجاز تھا کہ کل جو لوگ ہراساں تھے کہ آخر یہ سب کچھ کس طرح ہو گا۔ آج ان کے دل خود بخود گواہی دے رہے تھے کہ یہ ہو کے رہے گا۔

ہم میں سے وہ لوگ جنہیں 1940 ء سے چند برس پہلے کے حالات یاد ہیں۔ گواہی دیں گے کہ کس طرح بے یقینی اور بے بسی کی وہ کیفیت جس میں ہم سب مبتلا تھے، قرار داد پاکستان نے یک بیک زندگی کے جوش اور حرارت ایمانی میں بدل دی تھی اب ہر بات ممکن نظر آتی تھی، اب پاکستان کا وجود ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آگیا تھا۔ یہ ذہنی انقلاب اس لئے پیداہوا کہ ہمیں قائداعظمؒ کی ذاتی دیانت اور فراست پر پورا بھروسہ تھا۔ جب انہوں نے یہ کہہ دیا کہ ’’پاکستان بنے گا‘‘ تو ہمیں بھی پورا یقین ہو گیا کہ پاکستان بن کے رہے گا۔

پوری قوم کا یہ بے مثال اعتماد قائداعظمؒ کو ناگہانی طور پر حاصل نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے برسوں کی ریاضت، سالہاسال کی بے لوث خدمت کے بعد یہ مقام حاصل کیا تھا کہ آخر کار نو کروڑ مسلمان متحد ہو کر ایک مضبوط دیوار کی طرح ان کے پیچھے کھڑے تھے۔ قرارداد پاکستان کے منظور ہونے سے تقریباً تین برس پہلے علامہ اقبالؒ نے قائداعظمؒ کو لکھا تھا کہ ’’آج ہندوستان بھر میں آپ ہی ایک مسلمان ہیں جس سے قوم کو بجا طور پر یہ توقع ہے کہ وہ ہمیں آنے والے طوفان سے سلامت نکال لے جائے گا‘‘۔ اس ایک جملے میں قائداعظمؒ کی سیاسی بصیرت‘ فکری عزم و استقلال اور بے غرضانہ خدمتِ قوم کے پہلے تیس اور آخری دس برسوں کا خلاصہ بیان ہو گیا تھا۔ علامہ اقبالؒ اور ملت اسلامیہ کی سب امیدیں اس ’’ایک ہی مسلمان‘‘ نے جس طرح پوری کی ہیں اس کی کہانی اب تاریخ کے صفحات پر جلی حروف میں لکھی جا چکی ہے۔

بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں جب قائداعظمؒ نے قومی آزادی کے لئے اپنی چہل سالہ جدوجہد شروع کی توہمارے برعظیم کا سیاسی نقشہ یہ تھا کہ حکومت انگریز وائسرائے کے ہاتھ میں تھی اور حکومت کا کاروبار ایک ایسی کونسل کے مشورے سے طے پاتا تھا،جس کے سب ارکان انگریز تھے۔ ہر درجے اور ہر مرتبے کے انگریز عہدہدار زندگی کے ایک ایک محکمے پر قابض تھے۔ صوبوں کے گورنر، کمشنر سب انگریز تھے۔ ریلوے کے بڑے اور چھوٹے افسر، سڑکوں کے، جنگلات کے،ہروں کے بااختیار حاکم‘ محکمہ صحت کے سب قابلِ ذکر کارکن، یہاں تک کہ ضلع کے ہسپتالوں کے ڈاکٹر تک سب انگریز تھے۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور رجسٹرار، صوبائی تعلیمات کے ناظم اور ضلع بہ ضلع گھومنے والے انسپکٹر تعلیمات سب کے سب انگریز تھے۔ فوج انگریزوں کے ہاتھ میں تھی۔ پولیس پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ سب سے اونچی عدالتوں میں انگریز کا حکم چلتا تھا۔ جومحصول ہم ادا کرتے تھے انہیں انگریز جمع کرتے اور انگریز ہی خرچ کرتے۔سرکاری دفتروں، عدالتوں، یونیورسٹیوں اور مدرسوں کی زبان انگریزی تھی۔ انگریزی اثرات سے بھری ہوئی اس فضا کے پیچھے ہندو نے اپنا ہاتھ انگریز کے ہاتھ میں دے رکھا تھا، جس کے صدقے حکومت کے کاروبار سے باہر تجارت اور صنعت و حرفت پر ہندو کا قبضہ تھا۔ زندگی کے عام کاروبار میں جہاں چھوٹے انگریز عہدہ دار ختم ہوتے تھے وہاں سے بڑے ہندو اہل کار شروع ہو جاتے تھے۔ اس طرح برعظیم کے تقریباً ہر حصے میں مسلمان قوم پر عرصۂ حیات تنگ ہو رہا تھا۔ یہ تھے وہ حالات جن میں علامہ اقبالؒ نے فکری طور پر اور قائداعظمؒ نے عملی طور پر انسانی زندگی کی یہ بنیادی حقیقت ثابت کر دکھائی۔

کافرہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلمان

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی!

مومن کا اب تقدیر الٰہی بننا کس طرح ممکن ہوا؟ اس سوال کا جواب قائداعظمؒ کی زندگی کی پوری داستان میں موجود ہے۔

وہ ایک دراز قد انسان ضرور تھے، لیکن عمر کی کسی منزل میں بھی نہ خاص طور پر تنومند تھے، نہ کسی نمایاں تن و توش کے مالک لیکن ان کی آنکھوں میں بجلی کی ایک چمک تھی جو ان کی روح کے لامحدود خزانوں کا پتہ دیتی تھی۔ عملی زندگی کے پہلے بیس بائیس برس تک انہوں نے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی کہ متحدہ ہندوستان میں عظیم مسلم اقلیت کے حقوق کا آئینی تحفظ کس طرح کیا جائے؟ جناحؒ کے چودہ نکات میثاق لکھنؤ وغیرہ اسی دور کے کارنامے ہیں۔

لیکن یہ دور مجموعی حیثیت سے قائداعظمؒ کی شکست کا دور ہے۔’’شکست‘‘ کے لفظ سے ہمیں کوئی غلط فہمی نہ ہونی چاہئے۔ مرد مومن کی ہر شکست کسی بڑی فتح مندی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ اس تمام مدت میں جس کا ذکر ابھی ہوا‘ قائداعظمؒ کی شخصیت کی تعمیر اوران کے تدبر کا ارتقا اس طرح پر ہوتا چلا گیا کہ ظاہری ناکامی کا یہی دوران کی آخر فتح مبین کی بنیاد بن گیا۔ 1930ء کے قریب ان کی فراست ایمانی نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا، جہاں ان پر یہ ظاہر ہوا کہ مسلمانوں کے حقوق کا آئینی تحفظ متحدہ ہندوستان میں سرے سے ممکن ہی نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے متحدہ ہندی قومیت کے بت کو توڑا اور 1935 ء سے بعد کے دس بارہ برس مسلمانوں کی علیحدہ قومی حیثیت کی تعمیر میں لگا دیئے۔ اس زمانہ کا ایک واقعہ مجھے خاص طور پر یاد آتا ہے۔ 1943 ء (یا 1944 ء) کا ذکر ہے، جب قائداعظمؒ کا سن پینسٹھ برس سے متجاوز تھا‘ کسی نے ان سے بڑے ادب کے ساتھ پوچھا۔ ’’قائداعظمؒ ! دیکھنے میں آپ اس قدر نحیف سے آدمی نظر آتے ہیں، لیکن یہ بات سمجھ میں بالکل نہیں آتی کہ آپ اپنی قوم کی خاطر اس قدر مشقت کس طرح برداشت کر رہے ہیں۔ براہِ کرم یہ سمجھا دیجئے کہ آپ اس حالت میں اتنا کچھ کیونکر کرلیتے ہیں؟‘‘ قائداعظم نے برجستہ جواب دیا۔ ’’دو وجہ سے، ایک تو اِس لئے کہ مَیں بہت کم کھاتا ہوں اور دوسرے اِس لئے کہ میرے دِل کے اندر کوئی چور نہیں ہے‘‘۔

یہ ایک مرد مومن کا دو ٹوک جواب تھا۔ لہجے کی یہ قطعیت صرف اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے باطن کا محاسبہ سختی سے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جس کی بصیرت زندگی کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں اس کی رہنمائی کرتی ہو۔ اس قسم کا ایک واقعہ میرے مشاہدے میں اس وقت آیا جب 1946 ء میں عید الاضحی کی تقریب پر دہلی کے مسلمانوں کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے ایک عجیب و غریب نکتہ ارشاد فرمایا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بہار میں ہزارہا مسلمان مرد، عورتیں اور بچے سفاکی سے قتل کر دیئے گئے تھے۔ قائداعظمؒ نے کہا ’’لوگ مجھ سے بار بار کہتے ہیں کہ ہم صرف آپ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں۔ پھر دیکھئے ہم کس طرح سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ آپ ہمارے جرنیل ہیں۔ ہمیں ایک دفعہ حکم دیجئے کہ ہم آگے بڑھیں‘‘ اس کے بعد قائداعظمؒ نے جو کچھ فرمایا وہ میرے حافظے پر آج تک نقش ہے‘ کہنے لگے۔ ’’مَیں کس فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دوں؟ کیا ان لوگوں کو جو ابھی تک بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے ہیں، جنہیں تنظیم کی کئی منزلیں طے کرنی ہیں؟‘‘ اس کے بعد قائداعظمؒ نے اپنی آواز بلند کی اور فرمایا: ’’اگر قائداعظمؒ اس حالت میں لوگوں کو آگے بڑھنے کی دعوت دے تو وہ جرنیل نہیں،بلکہ مجرم ہو گا‘‘!۔

یہ تھا اس مرد مجاہد کا انداز کار جسے ہم نے بجا طور پر اپنا سب سے بڑا رہنما قرار دیا۔ 1940 ء کے بعد جب طوفان بلا واقعی پھوٹ پڑا تو اس کی صاحب ضمیر ہستی کہیں باطل کے خس و خاشاک پر بجلی بن کر گری‘ کہیں ناتوانوں کی حمایت میں ایک آہنی دیوار بن گئی۔ اس نے شرارت، خوف، فریب، لالچ،الغرض دشمنوں کی ہر یورش کا مقابلہ کیا۔ زمانے نے دیکھا کہ کروڑوں کے اس برعظیم میں صرف ایک انسان اپنی قوت ایمانی کے سہارے تن کر سیدھا کھڑا رہا۔ وہ مکر و دغا کے ہر جال سے نکلا اور بنئے کی دولت کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر لگاتا، انگریز کے قہر و جبروت کو تیغ نگاہ سے تسخیر کرتا، بالآخر اس پاک سرزمین تک آپہنچا۔ آج ہمارے دِل اس کے لئے شکرگزاری کے احساس سے لبریز ہیں۔ اس کا نام اور کام ہم سب کے دلوں میں زندگی کی ایک نئی امنگ پیدا کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ زندہ باد قائداعظمؒ ، پائندہ باد پاکستان!

مزید : ایڈیشن 1


loading...