دہشتگردی کی ہر شکل کو مسترد کرتے ہیں ، نان سٹیٹ ایکٹرز نے سرحدی تحفظ کو دھچکا پہنچایا : ایاز صادق

دہشتگردی کی ہر شکل کو مسترد کرتے ہیں ، نان سٹیٹ ایکٹرز نے سرحدی تحفظ کو دھچکا ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) سپیکرقومی اسمبلی ایازصادق کا کہنا ہے کہ دنیا میں دہشتگردی سے اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں جب کہ پاکستان کو 120 ارب ڈالر کا مالی نقصان پہنچا ہے۔اسلام آ باد میں 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس ’’دہشت گردی اور بین العلاقائی رابطے‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر ایازصادق کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سال میں دہشت گردوں سے دنیا کا کوئی خطہ محفوظ نہیں رہا، دنیا میں دہشتگردی کی وجہ سے اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد جان کی بازی ہارچکے ہیں، جبکہ پاکستان کو 120 ارب ڈالرکا مالی نقصان پہنچ چکا ہے، کانفرنس میں شریک تمام ممالک دہشتگردی کوہرشکل میں مسترد کرتے ہیں، اسپیکرزکانفرنس کوفورم کی شکل میں ہرسال ہونا چاہیے۔ایازصادق نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزیں پاکستان، ترکی اورایران میں ہیں، پارلیمانی ڈپلومیسی سے چیلنجزکا مقابلہ بہتراندازمیں کیا جاسکتا ہے ۔ 6 ممالک کے اسپیکرز کی کانفرنس میں شرکا نے خطے کی سیکیورٹی اور عالمی سطح پر نئے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔کانفرنس میں افغانستان، ترکی، ایران، روس، چین اور پاکستان کے اسپیکرز نے شرکت کی اور اپنے خطابات کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اقدامات اور علاقائی رابطے بڑھانے کا ذکر کیا۔کانفرنس سے صدر مملکت ممنون حسین اور چیرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ 6 اقوام کے پارلیمانی سربراہان اسلام آباد میں پہلی مرتبہ جمع ہوئے جو امن، خوشحالی سے وابستگی کا اعادہ اور تعاون کی نئی بنیادیں استوار کرنے مل بیٹھے ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی سے اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور دہشت گردی سے پاکستان کو اب تک 120 ارب ڈالر کا مالی نقصان بھی پہنچا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں دہشت گردوں سے دنیا کا کوئی خطہ محفوظ نہیں رہا، کانفرنس میں شریک تمام ممالک دہشت گردی کو ہر شکل میں مسترد کرتے ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمانی ڈپلومیسی سے چیلنجز کا مقابلہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے، آپس کے اختلافات سے ترقی نہیں رکنی چاہیے، ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد اور دوستی کے لئے ایک دوسر ے کاہاتھ تھام لیں۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز نے ملکی سرحدوں کے تحفظ اور قوموں کی خودمختاری کو دھچکا پہنچایا،سرد جنگ کے بعد کی صورتحال دوسپرپاور کے دور سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جن چھ ممالک کے منتخب نمائندگان اس ہال میں اکٹھے ہوئے ہیں جو کرہ ارض پر کل آبادی کے چوتھائی حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ چھ اقوام کے پارلیمانی سربراہان مشترکہ امن اور خوشحالی سے وابستگی کا اعادہ کرنے اور باہمی تعاون کی نئی بنیادیں استوار کرنے کے لیے اسلام ااباد میں پہلی مرتبہ جمع ہوئے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ فیصلے کی گھڑی ہے جب منتخب نمائندے ، احترام،اعتماد اور دوستی کے ساتھ رہنے اور اپنے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ایک عظیم قدم اْٹھارہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران دہشت گردوں کے حملوں سے دنیا کا کوئی خطہ محفوظ نہیں رہا ،مشرق وسطیٰ کے جلتے ہوئے میدانوں سے کشمیر میں بنیادی حق خود ارادیت تک، دنیاانتہا پسندی کی بنیادی وجوہات سے نبردآزما ہونے میں ناکام رہی ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کا حالیہ اختلاف نہ صرف بین الاقوامی قانون اور اس سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی طرف ایک قدم ہے بلکہ امن کی کاوشوں کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہے۔یہ مسئلہ دنیا کے لوگوں کو مزید تقسیم کرنے اور مذہبی دشمنی کو ہوا دینے کی طرف ایک منفی قدم ہے۔ایاز صادق کا کہا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ ہونے کی حیثیت سے ہم نے سیکھاہے کہ اختلاف کو کیسے ختم کیا جائے اور اختلافات کے باوجود اتفاق رائے کیسے پیدا کیا جائے۔یہ پارلیمانی سفارتکاری کا حسن ہی ہے جس کے ذریعے عوام کے حقیقی نمائندے تمام بڑے تنازعات کے پر امن حل کے لیے گفت وشنید کر سکتے ہیں۔ا سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بطور ہمسایہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے اور اس کے لیے ہمیں امن، اعتماد اور باہمی احترام کی فضامیں رہنا ہو گا،ہمیں یہ چاہیے کہ ہمارے اختلافات ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے سیاہ بادل ہماری راہ میں رکاوٹ ہیں،مگر ہمیںیہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ناامیدی میں بھی امید کی کرنیں ہوتی ہیں،ہم دہشت گردی کی تمام صورتوں اور جہتوں کی مذمت کرتے ہیں اور ہم نے ہمیشہ تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیا ہے۔اسلام آباد میں ہونے والی 6ملکی سپیکرز کانفرنس کے شرکاء نے کہا ہے کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں سے سلامتی والے مذہب اسلام کا نام بدنام کررہے ہیں‘خطے کے ملکوں کو مل کر ایسے عناصر کا سدباب کرنا ہوگا‘ افغانستان پر پہلے روسی اور بعد میں اتحادی قبضہ خطے میں دہشت گردی کی بڑی وجہ بنا‘ دہشت گردی پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے‘ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے تمام ملکوں کے ارکان پارلیمنٹ کو سرگرم اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا سپیکر کانفرنس ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں اہم فورم ثابت ہوگی‘ امریکہ کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی امن کے لئے خطرہ ہے۔ اتوار کو چھ ملکی سپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ولسی جرگہ کے سپیکر عبدالرؤف ابراہیمی نے کہا کہ دہشت گردی گردی سے سب سے زیادہ افغانستان کے عوام متاثر ہوئے‘ افغان عوام گزشتہ ایک دہائی سے خودکش حملوں اور دھماکوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں سے سلامتی والے مذہب اسلام کا نام بدنام کررہے ہیں خطے کے ملکوں کو مل کر ایسے عناصر کا سدباب کرنا ہوگا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے وائس چیئرمین چنک پنگ نے کہا کہ چین مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔ علاقائی اور عالمی امن کے لئے خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں۔ سپیکر کانفرنس ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں اہم فورم ثابت ہوگی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی شوریٰ کے سپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ دہشت گردی کی بڑی وجہ ایک خاص مذہبی فرقے کا اپنے نظریات زبردستی دوسروں پر مسلط کرنا ہے۔ افغانستان پر پہلے روسی اور بعد میں اتحادی قبضہ خطے میں دہشت گردی کی بڑی وجہ بنا۔ روسی سینٹ ڈوما کے چیئرمین دولوڈن نے سپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے تمام ملکوں کے ارکان پارلیمنٹ کو سرگرم اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ ترک سپیکر اسماعیل قہرمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش مسائل میں انتہا پسندی اور دہشت گردی سرفہرست ہیں دہشت گردی سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ امریکہ کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی امن کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے دوست ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ میں امریکی عزائم کے خلاف موثر کردار ادا کیا۔ ترک سپیکر نے چھ ملکی سپیکرز کانفرنس کو مستقل فورم بنانے کی سردار ایاز صادق کی تجویز سے اتفاق کیا۔

سپیکرز کانفرنس

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان، چین ، روس، ترکی، ایران اور افغانستان نے علاقائی سالمیت،خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب‘ قومیت‘ تہذیب‘ ثقافت یا نسلی گروپ کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیئے‘ دہشت گردی ہمارے ممالک سمیت پوری دنیا کیلئے مشترکہ خطرہ ہے‘ ہم اس کی کسی بھی قسم کی مذمت کرتے ہیں‘ ہماری حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں‘ پاکستان اور بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں عالمی اور علاقائی امن کو یقینی بنانے کیلئے جموں کشمیر کے تنازعہ کا پرامن حل نکالیں،دہشت گردی کے نظریات کے پھیلاؤ اور پروپیگنڈاکی روک تھام کے موثر تعاون ضروری ہے۔ اتوار کو اسلام آباد میں منعقدہ پہلی سپیکرز کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے گئے29نکاتی مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم بیلٹ و روڈ کے منصوبے کی سپورٹ اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور عالمی تعاون کیلئے مئی 2017ء میں چین میں منعقد بیلٹ و روڈ فورم کی کامیابی کو سراہتے ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہم تعلیم‘ انسانی وسائل کی ترقی‘ ثقافتی تبادلوں اور صحت کے ذریعے عوامی سطح پر رابطوں اور تعاون کی حوصلا افزائی کریں گے۔ اعلامیہ میں دہشت گردوں کی جانب سے پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایسے ممالک کی حکومتوں اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ 15 جولائی کو ترکی میں فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے شرپسندوں کو قانون کے کٹھڑے میں لانے کیلئے ترکی کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ مشترکہ اعلامیہ میں القدس کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات اور فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مڈل ایسٹ کے مسئلے کا حل عالمی قانون کے مطابق ہونا چاہیئے۔ اعلامیے میں عراق اور شام میں داعش کی شکست کے ضمن میں حاصل کی گئی کامیابیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کیلئے داعش ایک سنجیدہ خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں کی جائیں۔ مشترکہ اعلامیے میں تشدد کے خاتمے اور شامی بحران کے سیاسی حل کیلئے آستانہ فریم ورک کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں ایک ملک کو دوسری ریاستوں کی جانب سے یک طرفہ یا اضافی علاقائی قوانین جو عالمی قوانین‘ اقوام متحدہ کے چارٹر کی نفی ہوں اور خودمختاری اور آزادی کی خلاف ورزی ہوں‘ کے استعمال کو مسترد کرتا ہے۔ اعلامیہ میں اس بات پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے کہ مذاکرات‘ اعتماد سے دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کیلئے مدد کی جائے۔ اعلامیہ میں کثیرالجہتی سفارتکاری بشمول پارلیمانی سفارتکاری کی حوصلاافزائی کا عزم کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں ممالک معاشروں اور عوام کی سطح پر اقتصادی ترقی کیلئے روابط بڑھانے کیلئے کاوشوں پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔مشترکہ اعلامیے میں سپیکرز اور وفود کے سربراہان نے پاکستان کی جانب سے سپیکر کانفرنس کی بھرپور اور گرمجوش میزبانی پر سپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ وفود کے سربراہان اور سپیکرز نے آئندہ سال دوسری سپیکر کانفرنس کا انعقاد تہران میں کرانے پر رضامندی ظاہر کی۔ اعلامیہ میں توثیق کی گئی ہے کہ تمام ممالک تعاون کے ترجیحی علاقوں میں تعاون بڑھائیں گے‘ ایسے بین العلاقائی راوبط بڑھائیں جائیں گے جو تمام شریک ممالک کے درمیان تجارت‘ سرمایہ کاری‘ انفراسٹرکچر‘ سیاحت‘ عوامی سطح پر رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے تمام ممالک کے مفاد میں ہوں۔ مشترکہ اعلامیے میں تمام علاقائی راوبط کے اقدامات پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کی سپورٹ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں شریک ممالک کے درمیان وسائل‘ تجربے‘ اطلاعات کے تبادلے‘ راوبط بڑھانے کیلئے منصوبوں میں سہولتوں کی فراہمی اور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اعلامیے میں راوبط کے فوائد کیلئے پرائیویٹ اور سرکاری شعبوں میں وسیع تر آگاہی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا جن میں اقتصادی مواقعوں کی صلاحیت‘ ورکشاپ‘ سمپوزیم‘ سیمینار‘ بزنس مشن اور کورسز کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے میں تمام ممالک کے درمیان باہمی مفاد‘ بالخصوص سیکورٹی‘ معیشت اور تجارت کے شعبوں میں جامع تعلقات کے فروغ کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔اعلامیے میں ڈرگ ٹریفکنگ اور دہشت گردی و جرائم کی دوسری شکلوں کے بڑھتے ہوئے راوبط پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں شریک ممالک کے درمیان خطے اور عوام کیلئے امن‘ خوشحالی اور استحکام کو مضبوط بنانے کیلئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیہ میں علاقائی اور عالمی سطح پر باہمی‘ قریبی اور خوشگوار تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر رضامندی ظاہر کی گئی کہ اقوام متحدہ‘ ایس سی او اور دیگر علاقائی و عالمی تنظیموں کے فریم ورک میں تعاون کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیے میں علاقائی سالمیت‘ خودمختاری‘ سیاسی آزادی اور اپنی ریاستوں کے اتحاد کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

اعلامیہ

اسلام آبا د ( آئی ین پی ) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ مسئلہ و کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ اس خطے سے جنگ کے بادل چھٹ سکیں ،پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے ،دہشت گردی کی وجہ سے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں جبکہ ہمیں ایک سو بیس ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا،حکومتِ پاکستان کے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے ضمن میں ہماری مسلح افواج خصوصی تجربہ اور مہارت رکھتی ہیں جس سے ہمارے ہمسایہ ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں،دہشت گردی کوئی مقامی معاملہ نہیں بلکہ اس کا سبب بیرونی طاقتوں کی مداخلت ہے ، نائن الیون کے افسوسناک واقعہ کے بعد پاکستان کو جنگ کی اس دلدل میں گھسیٹ لیا گیا۔ ان حالات کی وجہ سے پاکستان میں امن وامان بری طرح متاثر ہو،خطے کا مستقبل فعال رابطوں، باہمی تجارت اور تعاون میں پوشیدہ ہے جس میں پاک چین اقتصادی راہداری ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اتوار کو سپیکر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون نے کہا کہ خطے کے اہم ترین دوست اور برادر ممالک کے اسپیکرز کی میزبانی میرے لیے باعثِ مسّرت ہے ۔ میں اسلام آباد کی خوبصورت فضاؤں میں دل کی گہرائی سے آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ یہ کانفرنس خطے کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور علاقائی ترقی وخوشحالی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ضمن میں بے انتہا مفید ثابت ہو گی انہوں نے کہا کہ پاکستان، ایران، چین ، ترکی، روس اور افغانستان ایسے ہمسائے، دوست اور برادر ممالک ہیں جن کا جغرافیہ ، مشترکہ اقدار و خیالات اور ایک جیسے حالات اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے مل جل کر کام کرنے کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ ہماری جغرافیائی قربت تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی سڑکیں اور ریلوے لائنیں خطے کو پاکستان کے ذریعے پوری دنیا سے ملا رہی ہے۔ زمینی راستوں کا یہ نیٹ ورک ایک خطہ ایک شاہراہ کے ذریعے فاصلے سمیٹ کر دنیا کے مختلف خطوں کو ایک دوسرے سے قریب کردے گا۔ اقتصادی راہداری کی طرح آپٹک ہائی وے مواصلاتی رابطوں کو مزید آسان بنا دے گی اور اس خطے کے صحراؤں ، پہاڑوں اور سمندروں سے گزرنے والی تیل اور گیس کی پائپ لائنیں صنعت و حرفت اور ٹیکنالوجی کا ایک نیا جہاں تخلیق کریں گی۔ اس پس منظر میں؛ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کے حقیقی نمائندوں کا یہ اجتماع ان امکانات سے مؤثر طور پر فائدہ اُٹھانے کے لیے تعلیمی، اقتصادی اور ثقافتی سطح پر تعاون کے ضمن میں ٹھوس تجاویز پیش کر سکے گا صدر مملکت نے کہا کہ مختلف خطوں اور تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان اس سلسلے میں اپنا تاریخی کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔پاکستان اور چین کی انتھک محنت کے نتیجے میں مختلف براعظموں کو باہم ملانے والی اقتصادی راہداری کی مکمل فعالی میں اب زیادہ دیر نہیں رہ گئی جس کے نتیجے میں مغربی چین اور خاص طور پر وسط ایشیا کے ممالک کو بحیرۂ عرب کے ذریعے ایشیا کے دیگر حصوں، افریقہ اور یورپی ممالک کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ پاکستان اس عظیم خواب کو تعبیر دینے کے لیے اپنی بہترین کوششوں میں مصروف ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس خطے کا مستقبل فعال رابطوں، باہمی تجارت اور تعاون میں پوشیدہ ہے جس میں پاک چین اقتصادی راہداری ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اس جذبے کے تحت ہم خطے کے تمام ممالک کو اقتصادی راہداری میں شرکت کی پر خلوص دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ جس اقتصادی استحکام اور خوش حالی کا خواب دیکھ رہا ہے ، اس کی تعبیر علاقائی امن و استحکام، پُرامن بقائے باہمی اور ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کے پاکیزہ جذبے سے مشروط ہے ۔ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پُرخلوص اور غیر مشروط تعاون کیاکیونکہ ہم بڑی سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں استحکام سے پورے خطے کا امن وابستہ ہے۔ یہ ایک ایسی مشترکہ خواہش ہے جس کے حصول کے لیے ہم ہر سنجیدہ کوشش میں بھر پور تعاون کریں گے۔ اسی طرح عسکریت پسندی کے سدِباب کے لیے ہم نے سرحدی سلامتی کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے ہمسایہ ممالک کو بھرپور تعاون کی پیش کش کی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ سرحدی نگرانی کا فعال نظام اس سلسلے میں مؤ ثر ثابت ہو سکتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے خطے کے کئی ممالک میں مسائل پیدا کیے ۔ پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی کی وجہ سے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں جبکہ ہمیں ایک سو بیس ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے جامع اقدامات کیے ہیں جن میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں کئی کارروائیاں ہوئیں جبکہ آپریشن ضربِ عضب کے تحت قبائلی علاقوں میں مؤثر کارروائی کی گئی۔ حکومتِ پاکستان کے ان اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا، دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے ضمن میں ہماری مسلح افواج خصوصی تجربہ اور مہارت رکھتی ہیں جس سے ہمارے ہمسایہ ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اس سلسلے میں ہم اپنے تمام دوستوں کے ساتھ مخلصانہ تعاون کی پیشکش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بڑے اور سنگین مسئلے سے نمٹنے کے بعد اب ہماری توجہ اس امر پرہے کہ مستقبل میں ایسی صورتِ حال کبھی پیدا نہ ہو۔ جہاں تک ہمارے خطے کا تعلق ہے،دنیا کے اس حصے کی بیشتر قوموں کے باہمی تعلقات خوشگوار اور ان کے درمیان تعاون کی بہترین فضا موجود ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم یہ مسئلہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ دہشت گردی کوئی مقامی معاملہ نہیں بلکہ اس کا سبب بیرونی طاقتوں کی مداخلت ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ نائن الیون کے افسوسناک واقعہ کے بعد پاکستان کو جنگ کی اس دلدل میں گھسیٹ لیا گیا۔ ان حالات کی وجہ سے پاکستان میں امن وامان بری طرح متاثر ہوا۔ہماری کوشش ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچا جا سکے۔صدر مملکت نے کہا کہ عوام کے حق خود اختیاری اور بنیادی حقوق کی سلبی بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے جس کی ایک زندہ مثال کشمیر کا مسئلہ ہے جس کے عوام گزشتہ سات دہائیوں سے اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس مسئلے نے برصغیر کا امن داؤ پر لگا رکھا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ اس خطے سے جنگ کے بادل چھٹ سکے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو کسی دوسرے ملک سے نوٹس لینے کی ضرورت نہیں ، امریکا،اسرائیل اور بھارت کا نیا گٹھ جوڑ بن گیاہے،امریکاافغانستان میں ناکامی کی ذ مے داری پاکستان پر ڈال رہا ہے ،بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے، دنیا نے امریکی فیصلہ قبول نہیں کیا،پاکستان اپنی سا لمیت پر ہرگز سمجھوتا نہیں کرے گا،معیشت کی بحالی کے لیے 6ممالک کردار ادا کریں، وقت آگیاایشیااپنی قسمت کے فیصلے خودکرے،ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی،پاکستان ڈائیلاگ اور ہمسایہ ملکوں سے دوستانہ تعلقات پر یقین رکھتاہے سی پیک سے خطے میں نئے معاشی دورکا آغاز ہوگا،اتوار کو 6ملکی سپیکر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ سی پیک سے خطے میں نئے معاشی دورکا آغاز ہوگا، امریکا، اسرائیل اور بھارت کا اتحاد سامنے آیا ہے، ایشیا کواپنی قسمت کافیصلہ کرنیکاوقت آگیاہے،ملکی اتحادکوانتہاپسندی اورفرقہ واریت کیخلاف بھی کرداراداکرناچاہیے انہوں نے کہا کہ ہمیں ون بیلٹ ون روڈ کو آگے لیکربڑھنے کی ضرورت ہے ،ہم6ملکوں کو صورتحال کایرغمال بننے کے بجائے حکمت عملی طے کرنی چاہیے ،انہوں نے کہا کہ سپرپاورزکی خواہشات کے برعکس واقعات تنازعات بن جاتے ہیں،پاکستان ڈائیلاگ اور ہمسایہ ملکوں سے دوستانہ تعلقات پر یقین رکھتاہے،بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے،میاں رضا ربانی نے کہا کہ دنیا نے بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ قبول نہیں کیا،پاکستان اپنی سا لمیت پر ہرگز سمجھوتا نہیں کرے گا،معیشت کی بحالی کے لیے 6ممالک کردار ادا کریں، وقت آگیاایشیااپنی قسمت کے فیصلے خودکرے،ورنہ تاریخ معاف نہیں کریگی، پاکستان کو کسی دوسرے ملک سے نوٹس لینے کی ضرورت نہیں ،امریکاافغانستان میں ناکامی کی ذمے داری پاکستان پر ڈال رہا ہے،ٹرمپ نے ر وس ،چین ،شمالی کوریا،ایران اوردہشتگردوں کو چیلنج قراردیا،صدر ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی میں3چیلنجز کا ذکر کیا، میاں رضا ربانی نے کہا کہ بیت المقدس کے مسئلے پرجنرل اسمبلی میں امریکا کو جواب مل گیا،امریکانے د ہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کیا، امریکی صدر نے افغانستان سے متعلق پالیسی کا اعلان کیا،ہمیں امریکی پالیسی میں افغانستان میں ان کی شکست نظر آئی

رضاربانی

مزید : صفحہ اول


loading...