بند کمرے کا فیصلہ نہیں چلے گا ، احتساب کے نام پر دباؤ نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں : سعد رفیق

بند کمرے کا فیصلہ نہیں چلے گا ، احتساب کے نام پر دباؤ نتائج تباہ کن ہو سکتے ...

  



لاہور (این این آئی ) خواجہ رفیق شہید فاؤنڈ یشن کے زیر اہتمام خواجہ محمد رفیق شہید کی 45ویں برسی کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں قراردادوں کی بھی منظوری دی گئی ۔ صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور زعیم حسین قادری اور صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کی جانب سے قراردادیں پیش کی گئیں جن میں کہا گیا کہ یہ اجتماع اس بات کا عہد کرتا ہے کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی ،جمہوریت کے تسلسل اور بروقت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی کامیابی سے انعقاد تک کی حمایت اوراس نظام کے خلاف غیر آئینی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔یہ اجتماع کشمیری عوام پر بھارتی افواج کے مظالم اور کشمیری عوام کے حقوق کو غصب کرنے کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتاہے کہ کشمیری عوام کو انکا بنیادی حق اوراقوام متحدہ کی قراردادوں پر فی الفور عملدرآمد کرے ۔یہ اجتماع امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ یر و شلم میں منتقل کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ یہ نمائندہ اجتماع پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفرکو سراہتاہے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے اور انفراسٹر اکچر کی بحالی سمیت تمام ترقیاتی امور کو جمہوری تسلسل کے ذریعے جاری رکھنے کی حمایت کرتا ہے ۔ جمہوریت پسندوں کا نمائندہ ایوان قومی سیاست میں بد زبانی ،بد اخلاقی ، عدم برداشت اور سازشوں کے کلچر کی شدید مذمت کرتا ہے او ران عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ جمہوری ،سیاسی اخلاقیات اور مشرقی روایات کی پاسداری کریں ورنہ قوم ان کا سخت محاسبہ کر ے گی۔یہ ایوان غیر جانبدار اور آزادانہ احتساب کے عمل کی مکمل حمایت کر تا ہے مگر احتسابی عمل کے نام پر سیاسی قائدین کو ہراساں کرنا ،ان پر زبر دستی نا اہلی کی تلوار لٹکانا اور خوفزدہ کرکے دباؤ میں لاکر قومی مفادات کے منافی اقدامات کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں اور یہ نمائندہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے ایسے کسی ہتھکنڈے سے گریز کیا جائے ۔یہ نمائندہ ایوان خواجہ رفیق شہید کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور تجویز کرتا ہے کہ موجودہ سیاسی قائدین خواجہ رفیق شہید کی جمہوریت پسندی کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں اور جمہوریت کے دفاع کی خاطر ڈٹ جائیں جس طرح میاں نواز شریف جمہوریت کے دفاع کی خاطر ڈٹ گئے ہیں۔

قرارداد

لاہور( این این آئی) پاکستان کو اس وقت بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا ہے اورکوئی بھی حکومت ، سیاسی جماعت اورادارہ تنہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا،آپس کی رسہ کشی کی جنگ سے پاکستان کا نقصان اوراس کے دشمنوں کو فائدہ ہوگا ،پاکستان کے سپہ سالار نے ڈنکے کی چوٹ پر جمہوریت اور اس کے تسلسل کی حمایت کی ہے ،جمہوریت منزل بھی ہے اور منزل تک پہنچنے کا راستہ بھی ہے ،منتخب اور غیر منتخب ادارے سر جوڑ کر بیٹھیں ، اگر کسی نے زیادتی کر دی ہے ، زیادتی کر رہا ہے یا ذہن میں زیادتی کا پروگرام بنا رہا ہے تواس کو ترک کر دیا جائے ،ووٹ کی طاقت سے فیصلہ ہو کہ ملک کو آگے کون لے کر جائے گا او رچلائے گا اور پھر سب اس کو مان لیں ،اگر ہم نہیں مانیں گے تو ملک خطرات میں گھرا رہے گا،دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست ایک پار ٹوٹ چکی ہے اور اب مزید سانحات کا متحمل نہیں ہو سکتی ،تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے خواجہ محمد رفیق شہید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام خواجہ محمد رفیق شہید کی 45ویں برسی کے موقع پر’’ آئین اور جمہوریت کو درپیش چیلنجز اور ان کا حل ‘‘کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق ، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی، ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما خالد مقبول صدیقی ، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر خواجہ سلمان رفیق ، زعیم حسین قادری ،خواجہ احمد حسان ،لارڈ میئر کرنل (ر) مبشر جاوید ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئر پرسن صباء صادق سمیت اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہملک کی بنائی گئی مصنوعی سیاسی جماعتوں نے ملک کا ستیا ناس کردیا، اداروں میں رسہ کشی سے پاکستان کے دشمن فائدہ اْٹھانے کی کوشش کریں گے، پاک فوج کے سپہ سالار کا سینیٹ میں خطاب بہت بڑا واقعہ ہے ، آرمی چیف نے ڈنکے کی چوٹ پرجمہوری نظام کی حمایت کی ہے جب کہ چیلنجزاتنے بڑے ہیں کہ کوئی جماعت، حکومت یا ادارہ مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ہم نے موضوع بدلا ہے اور نہ نظریہ بدلتے ہیں او رہماری جدوجہد کا عنوان ایک ہی ہے ۔ اب کسی بند کمرے کا فیصلہ نہیں چلے گا، میں بھاری دل سے کہتا ہوں کہ سات دہائیوں سے موضوع وہی ہے اور ہم منزل مقصود پر نہیں پہنچ پائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چار اکائیوں پر مشتمل 21کروڑ عوام کا ملک ہے اگر ہمیں اس ملک کو اکٹھا رکھنا ہے تو اس میں سوائے جمہوری روایات کے آگے بڑھنے کا دوسر اکوئی راستہ نہیں ۔ سب سیاسی جماعتیں ، صحافتی ادارے ، عدلیہ، فوج ،سول بیورو کریسی پاکستان میں اسٹیک ہولڈر ہیں۔ جب اس میں کوئی شک نہیں تو پھر ملک میں جمہوریت سے بار بار کھلواڑ کیوں کیا گیا ۔ پاکستان بنانے والوں کو منزل نہیں ملی، ملک بنا کر تھک ہار کر آنے والے اپنی بحالی میں لگ گئے جبکہ اقتدار اور پالیسی میکنگ پر آمرانہ اور جاگیردارانہ سوچ کا قبضہ ہوا، ہم آج تک جمہوریت کے حقیقی مقاصد حاصل نہیں کرسکے، ہم یہ ضرورچاہتے ہیں کہ لڑائی نہ ہو اور سب مل کرآگے بڑھیں کیونکہ لڑائی میں کچھ نہیں ملتا ،آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو معاف کریں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی ٹرین کانٹا بدل سکتی ہے اور نہ پٹڑی بدل سکتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑائی نہ ہو اورایک دوسرے سے بات کر کے اتفاق رائے سے قومی ایجنڈا کی بنیاد پر آگے بڑھا جائے ۔ اپنے اپنے مائنڈ سیٹ کی وجہ سے بعض اوقات اختیارات کا ناجائز استعمال بھی ہوا ہے ،ہم دیکھتے ہیں لیکن رد عمل نہیں دیتے کیونکہ اس سے خرابی بڑھ جائے گی ۔ پاکستان کو اس وقت بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا ہے ،کوئی بھی حکومت ، سیاسی جماعت اورادارہ تنہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ ریاستی اداروں پارلیمنٹ ، وزیر اعظم آفس، عدلیہ ،سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی آپس کی رسہ کشی کی جنگ سے ملک کا نقصان ہوگا اوراس سے پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ ہوگا ۔ سی پیک بن رہا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستان امریکہ کی بجائے چین کو دیکھتا ہے اور ایک نیا بلاک دیکھ رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ منتخب اور غیر منتخب ادارے سر جوڑ کر بیٹھیں ، اگر کسی نے زیادتی کر دی ہے ، زیادتی کر رہا ہے یا ذہن میں زیادتی کا پروگرام بنا رہا ہے اس کو ترک کر دیا جائے ۔کیونکہ ہار ماننے والے ہم بھی نہیں اور ہمارا ٹریک ریکارڈ موجود ہے ، اس میں سے کچھ نہیں نکلے گا ۔ الیکٹرانک ، پرنٹ اورسوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی مہم سے کچھ نہیں ملے گا ،واحد راستہ ہے کہ بروقت انتخابات ہوں ،ووت کی طاقت سے فیصلہ ہو کہ ملک کو آگے کون لے کر جائے گا او رچلائے گا اور پھر سب اس کو مان لیں ،اگر ہم نہیں مانیں گے تو ملک خطرات میں گھرا رہے گا ۔دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست ایک پارٹ ٹوٹ چکی ہے اور پاکستان مزید سانحات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امنگوں کے ساتھ ایک تحریک چلائی تھی کہ ایسی عدلیہ معرض وجود میں آئے گی جو سول یافوجی حکمران ہوں یا ادارے تمام اس کے سامنے جوابدہ ہوں گے ہم جس مقصد کے لئے نکلے تھے میں احترام سے کہتا ہوں کہ افتخار محمد چوہدری نے اسے پورا نہیں ہونے دیا اور معاملے کو آلودہ کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ مل کر آگے بڑھنا ہے ۔(ن) لیگ عدلیہ کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی نہیں ہے ،ہم ٹکراؤ کرنا چاہتے ہیں اور نہ یہ ہوگا ،عدلیہ ہمارے قابل احترام ہے ،جو فیصلے قانون و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کریں گے ہم عزت و احترام اور شائستگی سے اس پر تنقید کریں گے اور یہ ہمارا بنیادی حق ہے جسے کوئی نہیں چھین سکتا۔ نواز شریف کے بارے میں عدلیہ کے فیصلے سے جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کونقصان ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے سپہ سالار نے سینیٹ میں خطاب کیا ہے اور یہ بہت بڑا واقعہ ہے ان کا بیانیہ وہی ہے جو ہم سب کا ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں ،یہ بہت حوصلہ افزاء ہے۔ پہلے فوج کے سربراہ ہیں جنہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر جمہوریت اور اس کے تسلسل کی حمایت کی ہے ،اس کی تائید کی جانی چاہیے ،ہم اس کی تائید کرتے ہیں اور انہیں بھی کرنی چاہیے جن پر ان کا حکم لازم ہے ،انہیں بھی حکم کی اطاعت کرنی چاہیے۔ہم نے سنا ہے جو بھی آرمی چیف سے ملنے جاتا ہے وہ واپس آکر کہتا ہے کہ وہ انتہائی جمہوری مزاج کے حامل شخص ہیں جو انتہائی خوش کن یہ عمدہ بات ہے اور اسکی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ،ہم اسکی سپورٹ کرتے ہیں اور انہیں بھی کرنا چاہیے جو چھوٹی چھوٹی شرارتیں کرتے رہتے ہیں ،ہم ان کا زیادہ مائنڈ نہیں کرتے لیکن یہ چھوٹی چھوٹی شرارتیں انہیں کہیں نہیں پہنچائیں گی لیکن اگر یہ سلسلہ بند کر دیا جائے تو کیا ہی اچھا ہے ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں پوری قو ت کے ساتھ کہتا ہوں کہ پاکستانی کی سیاسی جماعتوں کے اندر ویسی جمہوریت نہیں ہے جیسی ہونی چاہیے اور یہ وہ کڑوا سچ ہے جسے سیاستدانوں کو تسلیم کرنا چاہیے ۔ جمہوریت کو فروغ دینے کے لئے جماعتوں کے اندر ادراے بنانا ہوں گے ،سیاسی جماعتوں کے اندر احتساب کا موثر نظام ہونا چاہیے ،نچلی سطح پر جمہوریت کا نظام لانا ہوگا اگر ایسا نہیں ہوگاتو پھر مورثیت کا الزام لگے گا اور ہم سے اس کا دفاع نہیں ہوگا۔ سو جہاں ہم جمہوریت کو ڈسٹرب کرنے والی قوتوں کا ذکر کرتے ہیں وہیں ہمیں اپنی صفوں میں بھی صفائی کرنی چاہیے ،جماعتوں میں لوگوں کو شامل کرتے وقت احتیاط کرنی چاہیے تاکہ وہ وقت نہ آئے کہ ختم حکومت کا ایجنڈا دل میں لے کر ختم نبوت کے پاکیزہ نام پر استعفے دینا شروع کر دیں ۔ جو لوگ استعفے د ے رہے ہیں ان کا ختم نبوت سے کوئی تعلق نہیں اور جو لوگ اس طرح کی سیاست کر رہے ہیں وہ اپنی سوچ پر نظر ثانی کریں ۔ عاشقان مصطفی کو تقسیم نہ کیا جائے اور ایسی لکیر نہ کھینچے یہ ملک کی سالمیت کے لئے خطرناک ہو گی ،جلسوں میں لوگوں کو ایمان کے نئے سرے سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کاسلسلہ بندکیاجائے۔انہوں نے کہا کہ میری طاہر القادری سے استدعا ہے کہ اگر ان کا عدالتی نظام پر اعتماد ہے تو وہاں مقدمہ لڑیں ،جو عدالتیں وزرائے اعظم کو نا اہل کر سکتی ہیں ،جہانگیر ترین کو نا اہل کر سکتی ہیں اگر آپ کا موقف درست ہوا تو اسے بھی تسلیم کیا جائے گا ،موجودہ عدالتیں دباؤ میں نہیں ہیں ۔ کنٹینر پر چڑھنے ،گالم گلوچ ، دھول اڑانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ،عدالت میں جا کر فیصلہ لینا چاہیے ۔ آپ باقر نجفی کی رپورٹ پر استعفیٰ مانگ رہے ہیں اس رپورٹ کولے کر عدالت میں چلے جائیں آپکو انصاف مل جائے گا ۔ جمہوری نظام کو نئی آزمائش سے دوچار نہ کریں، کچھ لوگ آپ کے کندھوں کو استعمال کرنا چاہے رہے ہیں، آپکے بیان کو جمہوریت کو منہدم کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، دھرنا دینا بہادری نہیں ۔ جو لوگ جمہوریت کی شاخ پر بیٹھیں اسے ہی کیوں کاٹنا چاہتے ہیں، طاہر القادری کو مشتعل کر کے کیا نکالنا چاہتے ہیں ۔ اگر انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تو پی ٹی آئی کو کو کیا ملے گا آپ لوزر ہوں گے ،پیپلز پارٹی کو بھی انتخابات کے بغیر کچھ نہیں ملے گا ،اگر ہم سب واضح ہیں توپھر جمہوریت سے کھلواڑ کیوں کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت آگے بڑھے گی ،بروقت انتخابات ہوں گے اور (ن) لیگ نواز شریف کی قیادت میں انتخابی مہم میں جائے گی ۔انشا اللہ وہ دن آئے گا جب ووٹ کے ذریعے نئی پارلیمنٹ بنے گی ،اس کے لئے عوام کا فیصلہ چلے گا بند کمر ے کا فیصلہ نہیں چلے گا۔احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ 70سال میں ایک بھی وزیراعظم مدت پوری نہیں کرسکا ، آج قوم کو انتشار کے بجائے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، امریکی صدر اور نائب صدر پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ یہاں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کیلئے اے پی سی کی جارہی ہے۔اے پی سی میں اس بات کو مرکوز رکھیں کہ ہم نے ٹرمپ کو کیا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں چلانا اناڑیوں کا کام نہیں ، عمران خان سے زیادہ تجربہ کار تو یونین کونسل کا چیئرمین ہے پھر کیسے 20کروڑ عوام کا ملک عمران خان کے ہاتھ میں دیدیں۔نواز شریف اور ٹیم کا تجربہ تھا کہ آج سی پیک سے پاکستان کو توجہ کا مرکز بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیں صبح وشام درس دیتے ہیں کہ کرپشن ختم کروں گا، عمران خان بتائیں خیبرپختونخوا میں 5 سال میں بھی احتساب کمیشن کیوں نہ بن سکا اور انہی کی جماعت میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے جسٹس (ر)وجیہہ الدین کو کیوں نکالا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بدترین کرپشن کا الزام لگا کر شیرپا ؤکو کابینہ سے نکالا، وہ بتائیں کیا اس وقت انہوں نے سچ بولا یا جب شیر پاؤ کو دوبارہ حکومت میں شامل کیا ۔کرپشن پروری میں عمران خان کی خیبر پختوانخواہ حکومت کا جنرل مشرف کی (ق) لیگ کے سوا کسی اور سے کوئی مقابلہ نہیں ۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن ہوگیا تو تحریک انصاف کا بھانڈا پھوٹ جائے گا، خیبرپختونخوا ہ میں ان کے اراکین اسمبلی نے انہیں کہہ دیا ہے کہ وہ سینیٹ الیکشن میں اپنی مرضی کریں گے، عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ قوم سے ووٹ لینے کی بات کرتے ہیں وہ سینیٹ میں اپنے اراکین اسمبلی سے ووٹ لے کر دکھائیں ۔انہوں نے کہا کہ 2013 میں کسی سے پوچھتے تھے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو جواب ملتا بجلی یا دہشت گردی لیکن 2017 میں کوئی یہ نہیں کہے گا کہ بجلی اور دہشت گردی مسئلہ ہے،آج کراچی میں امن ہے، بلوچستان میں پاکستان کے پرچم لہرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013میں 20،20گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی،لوگ لالٹین اور موم بتیاں جلانے پر مجبور ہو گئے تھے آج بتائیں 20،20گھنٹے بجلی آتی ہے یا نہیں۔انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ اکتوبرکی بات تھی جب نوازشریف برطانیہ کے دورے پر جانیوالے تھے،تو ایک اجلاس ہوا جس میں کافی لوگوں نے شرکت جس میں ا ن کوکہاکہ وزیراعظم صاحب اس وقت مارکیٹ میں خبرگرم ہے اپریل کے بعدکسی وقت لانگ مارچ کی جائیگی اور اس لانگ مارچ کے ذریعے حکومت کاتختہ الٹنے کی سازش کی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ سیاست اور ہمارے دور پر بھی دھبہ ہے ۔ میں خود گواہ ہوں کہ ایک میٹنگ میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف آنسوؤں سے رو پڑے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چونکہ یہ واقعہ ہمارے دور میں ہوا ہے میں اس کو بڑا بوجھ سمجھتا ہوں کیونکہ ہماری سیاست میں قتل اور گولی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 17جون کے واقعہ سے ڈاکٹر طاہر القادری کو بیرون ملک سے آنے کا جاز مل گیا اور وہ اسی بنیاد پر واپس آئے تاکہ پی ٹی آئی اور (ق) لیگ کو حکومت کے خلا ف تحریک چلانے کے لئے آمادہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن تاریخ کے پردوں سے راز نکلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء آرہا ہے ہم نے جو سفر کیا ہے میں کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خوشحالی او ر مضبوطی کے سفر کا پہرہ دیں ۔ نواز شریف کی قیادت میں ہم نے اسے کامیابی سے طے کیا ہے انشا اللہ 2018ء میں شہباز شریف کی قیادت میں اسے آگے لے کر جائیں گے۔ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ و ہ شب خون مارے ۔ سیاسی جماعتیں وقت کی نزاکت کو سمجھیں خارجی چیلنجز اور انتشار کی بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق نے اپنے والد کے نام کو زندہ رکھا ہے اور ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اوران کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور وہ مشن صرف ملک میں جمہوریت کو فروغ دینا تھا ۔ خواجہ رفیق شہید آزادی کی تحریک کے نوجوان تھے ۔ ،وہ آئین ، جمہوریت اورپاکستان کے لیے شہید ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستا ن وجود میں آیا تو پاکستان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ہم سب نے مل کر محنت کی ہے توآج ملک میں تمام اشیاء وافر مقدارمیں موجود ہیں ۔جب پاکستان وجود میں آیا تو صرف چند شہر تھے اور باقی سب گاؤں تھا اور آج پاکستان میں ترقی ہے ،اس بات کا بہت دکھ ہے کہ پاکستان کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ معرز عدلیہ سے درخواست ہے کہ خدا کے لیے آپ سیاسی معاملات میں مت آئیں ۔نواز شریف کے کیس میں نہ کوئی اپیل ہے اور نہ ہی کوئی وکیل ہے یہ کیسا فیصلہ ہے ۔تمام ادارے کرپشن کرتے ہیں لیکن صرف نشانے پر آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوا ز شریف پاکستان کا واحد سیاستدان ہے جو تین مرتبہ وزیر اعظم رہا لیکن آج اپنی بیٹی کے ساتھ عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے اور یہ کام صرف نواز شریف ہی کر سکتا ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کوشش کرینگے جمہوریت حکمرانوں کے ہاتھوں سے عوام کے ہاتھوں تک جائے،پاکستان میں جمہوریت ہے اور جمہوریت کا تسلسل ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ پاکستان کوسراٹھاکرچلناہے تو جمہوریت کے ساتھ ہی چل سکتا ہے،جمہوریت منزل بھی ہے اور منزل تک پہنچنے کا راستہ بھی۔

سعد رفیق

مزید : صفحہ اول


loading...