القدس اسرائیلی ریاست کے حوالے کرنا مسلمانوں،عیسائیوں کی توہین ، مسیحی رہنما

القدس اسرائیلی ریاست کے حوالے کرنا مسلمانوں،عیسائیوں کی توہین ، مسیحی رہنما

  



مقبوضہ بیت المقدس( مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کو عبرتناک شکست کے بعد فلسطین میں مقیم عیسائی برادری نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ القدس کو اسرائیلی ریاست کے حوالے کرنا مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کی توہین اور تذلیل ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت اللحم میں کانفرنس سے خطاب میں عیسائی مذہبی رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ’اعلان القدس‘ کو مسلمانوں اور عیسائیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطینی ہونے کے ناطے مسلمان اور عیسائی دونوں قومیں امریکی صدر کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کو مسترد کر تی ہیں، امریکی صدر کا اعلان صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم کی توہین ہے، بیت المقدس فلسطینی قوم کا مشترکہ انسانی، روحانی، قومی اور مذہبی مرکز ہے جسے کسی غیرریاست کو نہیں دیا جاسکتا ۔بشپ عطا حنا کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے بدترین اور انتہائی خطرناک ہیں۔ قابض اسرائیل کو فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور امریکیوں کو ہمارا مقدس شہر چھین کرغیروں کو دینے کا کوئی حق نہیں۔ فلسطینی اوقاف مساجد پر حملے عیسائی عبادت گاہوں پر حملوں کے مترادف ہیں، مسلمان ہمارے ساتھ ہمارے گرجا گھروں کی حفاظت میں کھڑے ہیں اور قبلہ اول کے دفاع میں ہم ان کے ساتھ ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان نئے عالمی استعماری پروگرام کا حصہ ہے جس کا اصل مقصد فلسطین کے مسئلہ کے وجود کو ختم کرنا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...