ساحل اور وسائل پر اختیار کے بغیر ہمیں حکومت کا کوئی منصوبہ قبول نہیں: اختر مینگل

ساحل اور وسائل پر اختیار کے بغیر ہمیں حکومت کا کوئی منصوبہ قبول نہیں: اختر ...

  



کوئٹہ (این این آئی )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اخترجان مینگل نے کہاہے کہ غیر جمہوری قوتوں نے ہمیشہ بلوچستان کے لوگوں کو جمہوری انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکا ہے اپنے آپ کو ملک کے رکھوالے کہنے والوں نے گزشتہ کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلوچستان کو بارود کی لیبارٹری بنادیا گیاہے نت نئے تجربات نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیاہے آج پاکستان دنیا میں تن ونتہا رہ گیاہے بلوچستان کے کسی بھی اہم ایشوپربات کریں تو کہاجاتا ہے کہ آپ بات نہ کریں یہ معاملہ کورٹ میں ہے یہ سیکورٹی ایشوہے چینی ہمارے دوست ہیں انکے خلاف نہ بولیں بلوچستان حکومت کا نام ایشیاء کی کرپٹ ترین حکومتوں میں آنے کے بعد زرغون روڈ پر کالا ٹیکہ لگادینا چاہیے سی پیک سے بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک ہمیں اپنی سرزمین کا مالک تسلیم اور ساحل وسائل پر اختیار نہیں دیا جاتا کسی بھی قسم کا منصوبہ قابل قبول نہیں ہے یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ کے مقامی میرج ہال میں ممتاز سیاسی وقبائلی رہنماء سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، ملک عبدالولی کاکڑ ، میر حمل کلمتی ،موسی جان بلوچ ،آغا حسن بلوچ ،نذیر بلوچ ،ملک نصیر شاہوانی ،محی الدین بلوچ ،سید ناصر علی ہزارہ ،نوابزدہ اورنگزیب خان جوگیزئی ،احمد نواز بلوچ ،اختر حسین لانگو سمیت پارٹی کی کابینہ ،سینٹرل کمیٹی کے اراکین اور سینکڑوں کی تعداد میں کارکن بھی موجود تھے ۔سردار اختر مینگل نے کہاکہ ہمیں بلوچستان کے کسی بھی اہم مسئلے پر بات کرنے کی اجازت نہیں ریکوڈک پر بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ عدالت میں ہے سی پیک پر بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ سیکورٹی ایشوہے سیندک پربات کرتے ہیں توکہتے ہیں کہ چینی ہمارے دوست ہیں ہمیں بتایا جائے ہم کس مسئلے پر بات کریں۔ ہم کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرینگے جس کی بنیاد بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار ہو اور یہاں کے لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے اگریہ بات کسی کو اچھی لگے یا نہ لگے میری بلا سے ہم نے پہلے بھی مخالفت کی ہے اور آئندہ بھی کرینگے ۔چار سال سے گوادر او ربلوچستان کے نام پر دنیا سے بھیک مانگ مانگ کر اپنے پیٹ پال لئے اور لوگوں کو ارب پتی بنادیا لیکن بلوچستان کے لوگوں کو انکے ساحل وسائل پر حق نہیں دیا بلوچستان کے نام پر لئے گئے پیسے سے دوسرے صوبوں میں پاور پلانٹ ،ٹرینیں ،سڑکیں بن گئیں لیکن یہاں پر کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔بلوچستان کی وفاق میں کوئی حیثیت نہیں یہ اکائی نہیں کالونی کے طورپر دیکھا جاتا ہے اگر حکومتی ترجمانوں اور میڈیا کے دعوؤں کو حقیقت میں دیکھتے تو بلوچستان کے ہر گاؤں ہر چپے میں دودھ اور شہد کی نہریں سکول ،کالج ،یونیورسٹیاں ،ہسپتال ہوتے او ریہاں کوئی نوجوان بے روز گار نہیں ہوتا درحقیقت بلوچستان کی صورتحال اسکے برعکس ہے ۔جب بھی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ غیر جمہوری کہاگیا۔ طاقتور لوگوں نے جن سیاسی جماعتوں کا بیج بویا انہیں اپنی نرسری میں پایا تن آور درخت بنایا آج وہی جماعتیں ان سے برداشت نہیں ہورہی ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی غیر جمہوریتی قوتوں نے شب خون مارا ہے بلوچستان کے قوم پرستوں نے ان کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے کہاکہ حاجی لشکری رئیسانی سے کافی عرصے سے رابطے میں تھے لیکن بعض لوگوں نے خوف کی فضاء پیدا کی ہوئی تھی کہ بلوچستان نیشنل پارٹی میں جو جائے گا بچ نہیں پائے گا یہ وہی لوگ ہے جو ہماری عملی جدوجہد سے خائف ہیں حاجی لشکری رئیسانی نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کی آواز د وٹوک الفاظ میں بلند کیا ہے انکی بی این پی میں شمولیت خوش آئندہے اور اس شمولیت سے بلوچستان کی سیاست میں جملہ اور اہم تبدیلی آئے گی ۔

مزید : علاقائی