قائد اعظم اور پارلیمانی جمہوریت

قائد اعظم اور پارلیمانی جمہوریت

  



25 دسمبر قائد اعظم محمد علی جناح جیسی عظیم شخصیت کی ولادت کا دن ہے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی الگ شناخت دے کر انکے لیے آزاد وطن کے حصول کو ممکن بنایا۔ مذہبی آزادی،حمہوریت اور برابری جیسے رہنما اصول دے کر ریاست اور عوام کے رشتے کو واضع کیا۔

’’جناح آف پاکستان’’کے مصنف پروفیسر اسٹینلے اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں۔

بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی ہی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے۔

آپ سیاست اور کردار کا اعلیٰ نمونہ تھے۔آپ نے مخالفین کی شاطرانہ چالوں اور جھوٹی سیاست کو جمہوری سیاست سے مات دی۔ قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز برصغیر کی پہلی جماعت کانگریس سے کیا اور پھر مسلم لیگ میں شامل ہوئے جس طرح آئینی اور جمہوری طریقے سے پاکستان بننے کی قرارداد سندھ اسمبلی سے پاس ہوئی ٹھیک اسی طرح قائد اعظم نے بھی پاکستان کا خواب ایک جمہوری اور پارلیمانی نظام حکومت کے طور پر دیکھا تھا۔

قائد اعظم اپنی سیاسی زندگی میں تقریباً 35 سال تک ہندوستان کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن رہے۔ اس دوران آپ نے جمہوری آزادی اور قانون کی بالادستی کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی۔

قائد اعظم کی زندگی کا اہم ترین مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی، جمہوری اور آئینی حقوق کی پاس داری تھا اور وہ خود بھی کبھی قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ آپ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے سب سے بڑے حامی اور مشاورت پر پختہ یقین رکھنے والے تھے۔

لندن کے روزنامہ ورکر لندن کو ایک انٹرویو میں قائد اعظم نے کہا کہ مسلمان پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں جس کا کسی بھی رنگ یا نسل سے کوئی تعلق نہ ہوگا اور وہ جمہوری حکومت عوام کے تابع اور عوامی امنگوں کی ترجمان ہوگی۔

یاد رہے کہ لندن میں 14 دسمبر 1944 میں قائد اعظم نے واضع کر دیا تھا کے جمہوریت مسلمانوں کے خون میں شامل ہے کیوں کہ مسلمان، انسانیت، برابری، بھائی چارے اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

قائد اعظم کی وفات کے بعد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اندرونی انتشار سے سیاسی اور معاشی استحکام کا بڑا مسئلہ بنا رہا ہے۔ مختلف ادوار میں عوامی منتخب جمہوری حکومتوں کو کرپشن کے الزامات لگا کر غیر جمہوری طریقوں سے ختم کر کے پارلیمنٹ اور آئین کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء4 الحق اور جنرل مشرف نے جمہوریت کے تسلسل پر شب خون مار کر ملک اور قوم کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے حالانکہ قائد اعظم فوج کی سیاست میں مداخلت کے اس درجہ مخالف تھے کہ جب سبھاش چندر بوس نے جاپان کی مدد سے انڈین نیشنل آرمی قائم کی تو قائداعظم نے یہ کہہ کر اس کی مذمت کی کہ فوج کو سویلین اتھارٹی کی حکم عدولی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے بعد جون 1948 میں اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فوج پر لازم ہے کہ وہ دستور کا احترام کرے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ہمیشہ ہم نے قائد اعظم کے جاری کردہ آئینی، جمہوری اور عوامی اصولوں کی نفی کی ہے۔

ایک دفعہ دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں کسی شخص نے جذبات میں آ کر قائد اعظم کے لیے ‘‘شاہ پاکستان زندہ باد’’ کا نعرہ لگا دیا۔ جس کو آپ نے سخت ناپسند کیا اور فرمایا دیکھیے آپ لوگوں کو اس قِسم کی باتیں نہیں کرنی چاہیءں۔ پاکستان میں کوئی بادشاہ نہیں ہو گا۔ وہ مسلمانوں کی جمہوری ریاست ہوگی جہاں سب برابر ہوں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہم نے طبقات اور لسانیت کی ایک ایسی لکیر کھینچ دی ہے جس نے جمہوری معاشرہ کے بننے میں رکاوٹیں اور اکائیوں کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

21 مارچ 1948 ڈھاکہ میں ایک پبلک میٹنگ سے ایک خطاب میں قائد اعظم نے فرمایا

یاد رکھو اب تمہارے ہاتھوں میں حکومت بنانے اور تبدیل کرنے کا اختیار ہے مگر غلط طریقے سے نہیں۔ اگر آپ مطمئن نہیں ہیں تو آپ آئینی طریقے سے حکومت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

قائداعظم نے جس جمہوری اور آئینی طور پر طاقتور پاکستان کا خواب دیکھا تھا افسوس ہم اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

28 مارچ 1948 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں ریڈیو خطاب میں کہا کہ آپ کو مکمل آزادی ہے آپ اپنی حکومت آئینی طریقے سے بنائیں اور کوئی بھی گروہ غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کو ختم نہیں کر سکتا نہ ہی اپنی رائے منتخب حکومت پر مسلط کر سکتا ہے۔ حکومت اور اس کی پالیسوں کو صرف اور صرف منتخب نمائندے ہی تبدیل کر سکتے ہیں۔

مگر آج بھی حکومت مخالف جماعتیں حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے صرف دھرنوں اور لانگ مارچ جیسے ہتھکنڈوں کو ہی اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہے ان مقاصد کے حصول کے لیے انہیں غیر جمہوری راستوں کو ہی کیوں نہ اپنانا پڑے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم بانی پاکستان قائد اعظم کے فلسفہ سیاست، آئین، نظام حکومت، جمہوریت اور عوام کے رشتے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

جمہوریت،نظام حکومت،ریاست اور مذہب کے تعلق کے حوالے سے ابھی بھی ہم بحث و مباحثے میں الجھے رہتے ہیں حالانکہ قیام پاکستان سے پہلے ہی قائد اعظم نے اس حوالے سے اپنا واضع نکتہ نظر دے دیا تھا۔

قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ریاست پاکستان اپنے شہریوں کو امن و انصاف دے اور یہاں کے رہنے والے خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم سب کو یکساں جمہوری حقوق حاصل ہوں۔

جنوری 1948 میں امریکی عوام کے نام پیغام میں قائد اعظم نے واضح کیا تھا کہ پاکستان کا دستور جمہوری ہو گا۔

قائد اعظم پاکستان کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسا پارلیمانی جمہوری نظام عوام کو دینا چاہتے تھے جس میں قانون کی بالادستی ہو، برابری ہو اس کے ساتھ ساتھ وہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ چاہتے تھے جس کا حل صرف اور صرف ایک جمہوری پارلیمانی طرز حکومت ہی ہو سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...