سپریم کورٹ شاعری نہ کرے ، پانامہ پیپرز میں ملوث تمام افراد کو سزائیں دے : سراج الحق

سپریم کورٹ شاعری نہ کرے ، پانامہ پیپرز میں ملوث تمام افراد کو سزائیں دے : ...

  



ڈیرہ غازیخان، مظفر گڑھ (بیورو رپورٹ، نمائندہ خصوصی، سٹی رپورٹر، نمائندہ پاکستان) جماعت اسلامی پاکستا ن کے امیر و سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پانامہ کیس کے باقی 436 چوروں و لٹیروں کا بھی احتساب کر کے انھیں ہتھکڑیاں لگائے اور اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو اب چوراہوں پر عدالتیں لگیں گی۔ میری لڑائی ظالموں ، جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور حکمرانوں سے ہے وہ ڈیرہ غازی خان میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، سابق وزیر اعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا تو میں ان کو کہتا ہوں کہ آپ کو اللہ نے پکڑا ہے کیونکہ آپ نے ایک عاشق رسول ممتاز قادری کو شہید کیا، آپ کو اسلامی نظریہ کے خلاف عملی اقدامات کرنے ملک میں سیکیولرازم کا نعرہ لگانے اور توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے والوں کو چھپانے پر نکالا گیا ہے، سینٹر سراج الحق کا کہنا تھا سپریم کورٹ شعرو شاعری نہ کرے بلکہ پانامہ پیپر میں شامل تمام افراد کو قرار واقعی سزا دے انہوں نے کہا اگر ملکی عدالتیں انصاف نہیں کریں گی تو وہ وقت دور نہیں جب لوگ دیہاتوں قصبوں اور گلی محلوں سے نکل کر حکمرانوں اور جاگیرداروں کے گھروں کا محاصرہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی عدالتوں میں انگریز کی بجائے قرآن کریم کا نظام اور چیف جسٹس کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کی بجائے قرآن کریم ہاتھ میں دیکھنا چاہتا ہوں سراج الحق نے کہا گزشتہ تین دہائیوں سے ایک ہی خاندان حکمران چلا آرہاھیاگر عوام نے ووٹ دیا تو اس کا مطلب نہیں کہ وہ مغل بارشاہ بن بیٹھیں۔ انہوں نے کہا ملک کی سلامتی کو کرپٹ حکمرانوں سے خطرہ ہے جن کا قبلہ واشنگٹن ہے، امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ایک سروے کے مطابق پنجاب کے دس غریب اضلاع میں ڈی جی خان بھی شامل ہے جبکہ کسی بھی امیر ضلع میں جنوبی پنجاب کا کوئی ضلع شامل نہیں ہے کیونکہ پنجاب کا62 فیصد بجٹ صرف لاہور پر خرچ کیاجاتاھے ، انہوں نے کہا پیپلز پارٹی اورن لیگ نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے سے متعلق ہمیشہ دھوکا دیا اور دروغ گوئی کی،اگر ہماری حکومت قائم ہوئی توبہاولپور کو اس کا حق دینگے اور جنوبی پنجاب کو الگ اتظامی یونٹ بنائیں گے۔ سراج الحق نے کہا کہ چور حکمران اگر غلاف کعبہ میں چھپ جائیں تو ان کو وہاں سے بھی نکال کر قانون کے کٹہرے میں لائیں گے،ان حکمرانوں کو اب کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا وہ اس ملک میں صرف اسلامی نظام رائج کریں گے،ریاست بے گھروں کو مکان اور مظلوموں کی وکالت کرے گی ،آئندہ الیکشن حکمرانوں کا یوم حساب ہوگا سراج الحق نے کہا کہ میں اس نظام کا باغی ہوں جہاں امیر کا کتا مکھن کھائے اور غریب بچہ گندگی کی ڈھیر سے رزق تلاش کرتا ہو، ان ظالم حکمرانوں اور غاصبوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجانے کا وقت آگیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نذیر شہید ڈی جی خان سے 1970 میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور ان کی شخصیت میری آئیڈیل رہی اور ان کے کردار کی خوشبو آج تک میرے دل میں زندہ ہے اس موقع پر صوبائی نائب امیر صوبہ پنجاب شیخ عثمان فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ظلم کے خلاف جدوجہد کر کے اپنے حقوق حاصل کریں انہوں نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان کے حکومتی نمائندوں نے علاقہ کو محرومیوں کے اندھیرو ں میں دھکیل کے رکھ دیا ہے یہاں کھیلنے کے میدان ختم کر دیئے گئے ہیں غازی یونیورسٹی اپنے قیام سے لیکر اب تک وائس چانسلر سے محروم ہے انڈس یونیورسٹی کے طلباء کو جعلی ڈگریاں دیکر ناجائز مقدمات میں پھنسایا گیا ، ہسپتالوں میں علاج نہیں ہے اوریہ جلسہ آئندہ الیکشن ڈیرہ غازی خان کی سیاسی تاریخ کا رخ موڑ دیگا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے دیگر رہنما نائب قیم اظہر اقبال حسن ، نائب امید صوبہ پنجاب چوہدری عزیر لطیف ، مولانا جاوید قصوری ، پروفیسر عطا محمد جعفری ، جاوید اقبال بلوچ ، سعد فاروق نے بھی خطاب کیا جبکہ جلسہ میں جماعت اسلامی کے شیخ حیدر فاروق ، شیخ محمد قاسم ، مرزا محمد عیسی ، حافظ خالد رؤف ، شیخ عبدالستار ، واحد بخش مخلص ، حکیم عبدالمنان شاکر اور محمد یار قریشی ودیگر رہنماؤں کے علاوہ جنوبی پنجاب سمیت ڈیرہ ڈویژن کے چاروں اضلاع کے ضلعی عہدیداران اور کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ دریں اثناء مظفرگڑھ میں سراج الحق نے جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے علیل رکن اور سابق ضلعی امیر مولانا افضل بدر کی عیادت کی بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں غربت اور بیروزگاری نوازشریف اور انکے ٹولے کی وجہ سے ہی ہے وقت آگیا ہے کہ عوام کرپٹ ٹولے کیخلاف احتجاج بلندکریں۔مرکز میں کوئی حکومت نہیں وفاقی حکومت فیصلے کرنے کی قوت وصلاحیت سے محروم ہے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے سوال پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل بحال ہوچکی اور مجلس عمل میں شامل تمام جماعتیں آپس میں رابطے میں ہیں جو جماعتیں مجلس عمل کا حصہ نہیں ان سے رابطے کے لیے جرگہ تشکیل دیدیا گیا ہے سراج الحق کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں صحت وتعلیم کی فراہمی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر رانا عمر دراز فاروقی،حکیم محمد عرفان قریشی،شیرعلی گجر،حافظ بشیراحمد،ضلعی سیکرٹری اطلاعات زاہد مصطفی ودیگر قائدین بھی موجود تھے۔

سراج الحق

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...