سراج الحق جلسہ کی جھلکیاں

سراج الحق جلسہ کی جھلکیاں

  



(محمدنسیم راجپوت سے)

* مرکزی امیرجاعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کے عوامی جلسہ کاانعقاد جماعت اسلامی ڈیرہ غازیخان کی جانب سے شاہین فٹ بال گراؤنڈ میں کیاگیاتھاجبکہ ملحقہ مرکزی عید گاہ میں عوام کیلئے موٹرسائیکل سٹینڈ کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی ۔

* قائدین کے خطاب کیلئے جلسہ گاہ میں 12فٹ اونچااور 40فٹ لمبا سٹیج تیار گیاتھاجس پر تقریبا دودرجن سے زائد کرسیاں رکھی گئیں تھیں۔گراؤنڈ میں شرکاء کے بیٹھنے کیلئے 6000ہزار کرسی لگائی گئی تھی جلسہ گاہ میں کرسیاں فل ہونے کے بعد لوگ کھڑے ہوکر مرکزی قائد ین کاخطاب سنتے رہے ۔

*جلسہ گاہ کے ارد گرد سیکوریٹی کابہترین انتظام کیاگیاتھا جلسہ گاہ میں داخلہ کیلئے پولیس کی جانب سے واک تھرو گیٹ لگائے گئے تھے جبکہ جلسہ گاہ کے اندر سٹیج کی حفاظت کیلئے پولیس کے نوجوان ، سادہ وردیوں میں ملبوس اہلکار اور جماعت کے کارکنان موجود تھے جنہوں نے سٹیج کو گھیرے میں لیاہواتھا۔ اس تمام عرصہ میں پولیس کے ڈی ایس پی سٹی اظہرگیلانی سیکورٹی پرموجود اہلکاروں کے کنٹرول کیلئے موقع پر موجود دکھائی دیے۔

*مرکزی امیر جماعت اسلامی سراج الحق جلسہ گاہ میں دوپہر 3بجکر 20منٹ پر پہنچے جہاں شرکاء نے ان کاکھڑے ہوکر اور نعرے لگاکربھرپور استقبال کیاان کے ہمراہ شیخ عثمان فاروق، پروفیسر عطا محمدجعفری اور جاوید اقبال بلوچ کے علاوہ درجنوں مرکزی اور صوبائی قائدین جماعت اسلامی موجود تھے ۔

*جلسہ گاہ میں سٹیج پر جانے کیلئے مرکزی قائدین کیلئے سٹیج کے پیچھے سے راستہ بنایاگیاتھا ،قائدین کے آنے اور واپس جانے والے راستے کی سیکورٹی کیلئے جلسہ کے اختتام تک پولیس اور جماعت کے کارکنان موجود رہے۔جلسہ گاہ میں داخل ہونے والے راستے کو پولیس کی جانب سے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کیلئے بند کردیاگیاتھا صرف پیدل آنے جانے والوں کوراستہ استعمال کرنے کی اجازت تھی۔

*جلسے کاآغاز تلاوت کلام پاک اور نعت بحضو سرکار دوعالم ؐسے کیاگیاسٹیج سیکریٹری کے فرائض سعد فاروق نے ادا کئے ۔جلسہ گاہ میں سٹیج سے کل 7افراد نے شرکاء سے خطاب کیاجن میں نائب امیر صوبہ پنجاب چوہدری عبیرلطیف،جاوید اقبال بلوچ ،پروفیسر عطا محمدجعفری،مولانا جاوید قصوری ،ظفر اقبال بلوچ ، شیخ عثمان فاروق اور آخر میں مرکزی قائد سینیٹر سراج الحق شامل تھے۔

* شیخ عثمان فاروق نے اپنے خطاب کے بعد مرکزی امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کو خطاب کرنے کی دعوت دی تو تمام شرکاء نے اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکرنعرے لگائے جن میں ’’قائد سالار ہمارا،سراج الحق ہمارا ‘‘ نمایاں تھا۔

* سینیٹرسراج الحق نے شرکاء سے 35منٹ خطاب کیااس دوران وہ موجودہ حکمرانوں اور پاکستان کے ظالمانہ نظا م کے خلاف خوب گرجے برسے ۔شرکاء نے باربار تالیوں سے ان کو داد دی۔ایک موقع پر انہوں نے کہاکہ نوازشریف کہتاہے کہ مجھے کیوں نکالاتو اس کا جواب یہ ہے کہ نواز شریف نے عاشق رسول ممتاز قادری کوشہیدکرایاجس کی وجہ سے نواز شریف اللہ کی پکڑ میں آگئے۔

*اپنی تقریر کے آخرمیں سینیٹر سراج الحق نے کشمیر اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے خود دعاکرائی۔جلسہ 4بجکر 58منٹ پر اختتام پزیر ہوا جس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈیرہ غازیخان میں جماعت اسلامی کے سرکردہ کارکن مرحوم سعید احمد خاکسار کی وفات پر ان کی اہل خانہ سے تعزیت کیلئے ان کی رہائش گاہ واقع بلاک نمبر8 گئے جہاں مرحوم کیلئے فاتحہ خوانی کے بعد ایک اور سرکردہ رکن شیخ عبدالستار کی رہائش گاہ واقع بلاک جے پہنچے جہاں انہوں نے شیخ عبدالستار کے والد شیخ عبدالجبار کے والد کی وفات پر بھی فاتحہ خوانی کی جس کے بعد سینیٹر سراج الحق اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بذریعہ کار لاہور روانہ ہوگئے ۔

جھلکیاں

Back to Conversio

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...