حکومت نے عوامی فلاح و بہود کے متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں

حکومت نے عوامی فلاح و بہود کے متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کر رکھے ہیں

  



پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخواکے وزیرتعلیم وتوانائی محمدعاطف خان نے کہاہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کررکھے ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے ان کے مسائل میں خاطرخواہ کمی آجائیگی جبکہ مختلف سیکٹرز میں شروع کئے گئے بڑے منصوبے جیسے کہ فاطمہ الفہر ی کالج ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مردان اور بینظیرچلڈرن ہسپتال بھی بہت جلد مکمل کرلئے جائیں گے۔وہ اپنی رہائش گاہ مردان میں مختلف اداروں کے سرکاری حکام سے مردان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کررہے تھے۔ ان محکموں میں سی اینڈڈبلیو،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ٹی ایم اے مردان کے حکام شامل تھے۔محمدعاطف خان نے حکام کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے نہ صرف بروقت مکمل کئے جائیں بلکہ ان میں اعلی کوالٹی کے میٹریل کا استعمال بھی یقینی بنائے اور اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ فاطمہ الفہری کالج اپنے طرزکا ایک عظیم الشان منصوبہ ہے۔ امتحانی ہال، کیفے ٹیریا اوردوسرے تعمیراتی کام جلدازجلدمکمل کیا جائے گا اور سی اینڈ ڈبلیوایکسین کوسائٹ پلان اوربجٹ کے معاملات مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نکاسی آب،ڈرینیج،گلی کوچوں کی تعمیر پرکام جلدازجلدمکمل کرلیاجائے جبکہ بخشالی مردان بی ایچ یو کوبقایا 4کروڑ90 لاکھ روپے بھی جلدازجلد جاری کرنے کی ہدایت کی ۔اس موقع پر صوبائی وزیر کوبتایاگیاکہ 11سپورٹس ہال پرکام تیزی سے جاری ہے جو دو مہینوں کے اندراندر مکمل کرلیا جائے گا جبکہ ایک سپورٹس ہال کی سائٹ سلیکشن ابھی ہوئی ہے اس سپورٹس ہالزکی تعمیر سے بچوں کو کھیل کھود کے بہترین مواقع میسر ہوں گے۔ محمدعاطف خان کوبتایاگیاکہ مختلف مونومنٹس کی تعمیر کیلئے KPPHA کیساتھ NOC پر بات چیت جاری ہے اور این او سی حاصل کرنے بعد اس پرکام شروع کردیاجائیگاجبکہ شنکرمونومنٹ کی تعمیر کیلئے این او سی حاصل کرنے کاکام تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اسی طرح سکندری پارک اور شنکر پارک بھی بہت جلد مکمل کرلئے جائیں گے۔ محمد عاطف خان نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے شروع کردہ اہم منصوبے بروقت مکمل کرلئے جائیں اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال مردان، بینظیرچلڈرن ہسپتال مردان، باچاخان میڈیکل کالج مردان کوبھی فنڈز ریلیزکردیے گئے ہیں جبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے مد میں امسال مزید تعمیراتی کام کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ گلی کوچوں اور روڈز کی تعمیر کے بعد وفاقی محکموں جیسے کہ سوئی گیس اورواپڈا سے بھی بات کی جائیگی کیونکہ بہت جگہوں پریہ شکایات موصول ہورہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد نئے کنکشنز کے سلسلے میں تعمیراتی کام خراب کرکے اپناکنشکشن لے لیتے ہیں اورپھر روڈ اور گلی اسی طرح خراب چھوڑدیتے ہیں اور یہ بھی شکایت ہے کہ نہ تو وہ نوٹس دیتے ہیں اور نہ ہی وہ کام دوبارہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو کافی مشکلات درپیش ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہرچیز کا ایک طریقہ کارہوتاہے اورباضابطہ اجازت لینی پڑتی ہے تاکہ سرکار کے پیسے کوضائع ہونے سے بچایا جائے اور عوام کی بھی مشکلات میں نہ ڈالاجائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر