کسی کو پاکستان کا اسلامی و نظر یاتی تشخیص مجروح کرنے کی اجازت نہیں دینگے : حافظ حمد اللہ

کسی کو پاکستان کا اسلامی و نظر یاتی تشخیص مجروح کرنے کی اجازت نہیں دینگے : ...

  



باجوڑایجنسی( نمائندہ پاکستان )جماعت علمائے اسلام( ف ) باجوڑ ایجنسی کی یوتھ وونگ کے زیر اہتمام (یوتھ کنونشن ) کا انعقاد خار سکول گراؤنڈ میں ہوا جس میں سینیٹر حافظ حمد اللہ جان ،سابقہ سینیٹر اور امیر جے یو آئی باجوڑ مولانا عبد الرشید ،جنرل سیکرٹری مولانا محمد لائق ،احمد زیب خان ،قاری عدنان صوبائی صدر جے ٹی آئی ،جے ٹی آئی باجوڑ کے صدر رحمت اللہ ،فاٹا کنوینیئر خالد جان داوڑ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر حافظ حمد اللہ جان نے کہا کہ پاکستان میں سیکولر قوتیں سرگرم عمل ہیں جو ملک کے اسلامی اور نظریاتی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں جس کی مثال حلف نامے سے عقیدہ ختم نبوت کے شق کو نکالنا تھا لیکن جماعت علمائے اسلام نے اس مذموم مقاصد کو بروقت نشاندہی کرتے ہوئے اس شق کو اپنے اصلی روح میں دوبارہ بحال کیا اور سیکولر قوتوں کا راستہ روکا انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اسلامی اور نظریاتی تشخص کا دفاع ہمیشہ جماعت علمائے اسلام( ف )اور غیور قبائل نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے کیا ہے اور آئندہ بھی اس قسم کی قربانیوں سے گریز نہیں کریں گے اُنہوں نے فاٹا اصلاحات کے بارے میں جماعت علمائے اسلام یوتھ کو خصوصی طور پرمخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کو مختلف سیاسی پارٹیوں کے طرف سے فاٹا اصلاحات کے نام پر سبز باغات دکھائے جارہے ہیں لیکن اصلاحات کے نام پر پس پردہ قبائلیوں کو اپنے الگ صوبے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے جو قبائلی عوام کو کسی بھی صورت منظور نہیں ہیں اور فاٹا کے نوجوان اس سے باخبر رہیں اُنہوں نے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں فلاحی ریاست بنانے کے نام پر مغربی ملک میں مغربی ایجنڈے کے تکمیل کیلئے کام رہی ہیں جو فحاشی اور عریانیت پر مبنی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ سینٹ میں میں نے ایک بل پیش کیا جس میں حلف نامے سے عقیدہ ختم نبوت نکالنے کے وجوہات معلوم کرنے کیلئے حکومت سے جواب طلب کیا کہ اس شق کو نکالنے سے پاکستان کو کیا فائدہ پہنچتا ہے لیکن پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے سنیٹرز نے میرے بل کی مخالفت کی جو اسلام دشمنی کی زندہ مثال ہے ۔سابق سنیٹر اور جماعت علمائے اسلام (ف) باجوڑ کے امیر مولانا عبد الرشید نے اپنے خطاب میں فاٹا اصلاحات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ جماعت علمائے اسلام کے علاوہ فاٹا کے تمام سیاسی پارٹیاں اصلاحات کے نام پر سیاسی سکورنگ کر رہے ہیں کیونکہ اُنہوں نے متعدد بار جماعت علمائے اسلام کیساتھ تحریری شکل میں معاہدے کئے ہیں لیکن پھر اپنے وعدوں سے مُکر گئے ہیں اگر وہ فاٹا اصلاحات میں مخلص ہیں تو جماعت علمائے اسلام (ف) کیساتھ ون فوائنٹ ایجنڈے (یعنی ایف سی آر کے خاتمے کیلئے ) مشترکہ کوششیں کریں اگر اُنہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر وہ فاٹا کے عوام سے کس منہ سے ووٹ مانگے گے۔کنونشن میں جے ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر قاری عدنان ،باجوڑ کے صدر رحمت اللہ ،فاٹا کے صدر خالد جان ،سمیع اللہ سواتی ،طاہر حنفی ،قاری محمد مصطفی ،حاجی اکبر جان مولانا احمد سعید وزیرستانی ،عمران ماہر ،سیکرٹری اطلاعات جے یو آئی مجاہد خان اور جماعت علمائے اسلام (ٖ ف ) باجوڑ کے یوتھ نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...