ایم کیو ایم کے رئیس عرف مما ملائیشیا سے گرفتار

ایم کیو ایم کے رئیس عرف مما ملائیشیا سے گرفتار

  



کراچی(کرائم رپورٹر )ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج رئیس مما کو ملائیشیا سے گرفتار کرلیا گیا۔ رئیس مما کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا گیاہے۔ ملزم کو جلد پاکستان لایا جائے گا۔ سانحہ بارہ مئی میں بے گناہوں کی ہلاکت کا معاملہ ہو یا چکرا گوٹھ میں اہلکاروں سے بھری بس پر فائرنگ، محبت سندھ ریلی میں اندھا قتل عام ہو یا ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ کی سیکڑوں وارداتیں، کراچی میں موت کے ساتھ رئیس ماما کانام بھی لیا جاتا ہے۔ملزم شہر میں چائنا کٹنگ میں بھی ملوث رہا، رئیس مما سانحہ بلدیہ کے مرکزی کردار حماد صدیقی کا قریبی ساتھی ہے۔ذرائع کے مطابق رئیس مما کو انٹرپول کی مدد سے پکڑا گیا۔ رئیس مما کو قانونی کارروائی کے بعد پاکستان منتقل کیا جائے گا۔یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ملزم رئیس مما کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا گیا تھا۔ انتہائی مطلوب ملزم رئیس مما کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے سر توڑ کوششیں کررہے تھے۔ ملزم ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، پولیس پر حملے اور سانحہ چکرا گوٹھ کی واردات میں بھی ہے۔ملزم کو یکم اکتوبر 2017کو متحدہ عرب امارات ایمبیسی سے رجسٹر جنرل آف پاکستان کا دستخط شدہ شناختی کارڈ جاری ہوا تھا۔سانحہ بلدیہ کے مرکزی کردارحماد صدیقی کا قریبی ساتھی ایم کیو ایم کا سیکٹر انچارج اور ٹارگٹ کلنگ سیل کو چلانے والے رئیس ماما نے اپنی دہشت سے ایک عرصے تک کراچی پر راج کیا ۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ رئیس ماما کو جلد پاکستان منتقل کیاجائے گا ۔ذرائع کے مطابق 1992 کے آپریشن کے بعد جب یہاں ایم کیو ایم حقیقی نے اپنا زور پیدا کیا تھا اسے توڑنے میں بھی رئیس مما نے اہم کردار ادا کیا۔رئیس مما کا نام ایم کیو ایم حقیقی کے ساتھ ہونے والے تصادم کے بعد منظرعام پر آنے لگا تھا اور کورنگی و لانڈھی تھانے میں کئی ایف آرز بھی درج ہوئیں 1999 کے بعد رئیس مما مخالف سیاسی جماعت کو کورنگی سے بھگانے میں کامیاب ہوا اور بہ طور سیکٹر انچارج ایم کیو ایم کو دوبارہ سے مضبوط و منظم کیا اور کء نئے یونٹس آفسز کھولنے میں کامیاب ہوا۔رئیس مما کو میڈیا پر اس وقت شہرت ملی جب 2010 میں چکرا گوٹھ کے علاقے میں پولیس بس پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد پولیس اور ملزمان کے درمیان مورچہ بند فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں دو ملزمان کامران عرف مادھوری اور سہیل عرف کمانڈر کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا تھا جنہوں نے دوران تفتیش رئیس مما کا نام لیا تھا،رئیس مما کا نام عام انتخابات 2002، 2008، 2013 اور بلدیاتی الیکشن 2005 اور 2015 میں کورنگی اور لانڈھی میں ایم کیو ایم حقیقی اور جماعت اسلامی کے زیر اثر علاقے سے ایم کیو ایم کے نمائندوں کی کامیابی کے لیے متحرک اور سرگرم کردار کے طور ہر سامنے آیا جب کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کی تحقیقات میں بھی رئیس مما کا نام گردش کرتا رہا ہے۔رئیس مما نے اپنے عہدے کے دوران زیادہ تر کام حماد صدیقی کی سربراہی میں کیا جس کے باعث کہا جاتا ہے کہ وہ حماد صدیقی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا اور اسی کے کہنے پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور سیاسی مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنایا کرتا تھا شاید یہی وجہ ہے کہ 2013 کے بعد حماد صدیقی کے منظر عام سے غائب ہونے کے بعد دبئی میں رئیس مما بھی روپوشی اور گمنامی کی زندگی بسر کررہا تھا۔بانی ایم کیو ایم کی 2013 میں رابطہ کمیٹی سے ناراضی اور رابطہ کمیٹی و کراچی تنظیمی کمیٹی کو معزول کرنے کے بعد نئی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ایم کیو ایم حقیقی سے واپس آئے عامر خان کو ڈپٹی کنونیر بنایا گیا جنہوں نے رئیس مما کو ماضی کی تلخیوں کے باعث سیکٹر کے عہدے پر بحال نہیں کیا اور انہیں مرکز کے الیکشن میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا۔رئیس مما نے عامر خان کے فیصلے کو سنی ان سنی کرتے ہوئے مقررہ وقت تک مرکزی الیکشن سیل میں رپورٹ نہیں کیا جس پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے تحت رئیس مما کی تنظیمی رکنیت معطل کر کے کسی بھی قسم کی تنظیمی سرگرمیوں سے دور کردیا گیا تھا تاہم مارچ 2015 میں ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپے کے بعد سے رئیس مما روپوش تھا جسے آج ملائیشیا سے حراست میں لے لیا گیا۔دوسری جانب سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم حماد صدیقی کو پہلے ہی دبئی میں حراست سے لے لیا گیا ہے جب کہ اس قبل بلدیہ ٹاؤن کے سابق سیکٹر انچارج رحمان بھولا کو ملائیشیا سے حراست میں لے کر پاکستان لایا جا چکا ہے اوراب رئیس مما کی ملائیشیا سے گرفتاری سے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مظلوموں کو انصاف ملنے کی توقع پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر