پاکستان کی فلم انڈسٹری میں انقلابی تبدیلیاں آرہی ہیں ،سید نو

پاکستان کی فلم انڈسٹری میں انقلابی تبدیلیاں آرہی ہیں ،سید نو

  



ر

کراچی(اسٹاف رپورٹر )پاکستان کی فلم انڈسٹری میں طویل عرصے تک ہر حیثیت میں کام کرنے والی شخصیت فلم ساز و ہدایت کار سید نور نے کہا کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری میں انقلابی تبدیلیاں آرہی ہیں اور ہمیں اپنا مستقبل بہتر نظر آرہا ہے ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے گھر چھوٹے اور سینما گھر بڑے ہوتے تھے اب گھر بڑے اور سنیما گھر چھوٹے ہوگئے ہیں اور فلم بینوں کا ایک نیا طبقہ بھی میسر آیاہے وہ آرٹس کونسل کراچی میں ہونے والی عالمی اُردو کانفرنس کے چوتھے روز ’’فلم کا سفر‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں اظہارِ خیال کررہے تھے۔ اس موقع پر سینئر فلمسٹار منور سید، قوی خاں نئی نسل کے ڈائریکٹر نبیل قریشی اور فلمسازو رائٹر فضا ء علی نے بھی فلم کا سفر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جبکہ کاشف گرامی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ سید نور نے کہاکہ اگر یہ نئے بچے اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نہ آتی تو فلم انڈسٹری بند ہوجاتی۔ انہوں نے کہاکہ فلم انڈسٹری کے اصل بحران کی وجہ سینما گھروں کا ٹوٹنا تھا، سید نور نے تسلیم کیا کہ ’’چین آئے نہ‘‘ میں وہ واحد فلم تھی جو فلاپ ہوئی ہے اس فلم پر ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ ہوئے اس میں سے ایک روپیہ بھی واپس نہیں آیا، انہوں نے کہاکہ میری فلم کے ساتھ یہ ہوا کہ ایک مخالف لابی نے ریلیز سے پہلے ہی اس پر تبصرے شروع کردیئے اور اتنا بُرا لکھا گیا اگر وہ تبصرے میں بھی پڑھ لیتا تو اپنی فلم دیکھنے نہ جاتا اسی وجہ سے میری فلم کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔فلم ٹی وی کے سینئر فنکار اور ماضی کے فلم ساز قوی خان نے کہاکہ میں نے بحیثیت فلم ساز بارہ فلمیں بنائی ہیں میں نے اپنی فلموں کے نیگیٹو اپنے گھر کے ایک کمرے میں لاکر رکھ دیئے تھے جس سے میری بیوی بھی تنگ تھی ایک دن میں نے غصے میں کہہ دیا کہ یہ سب کباڑیئے کو دے دینا اور بیوی نے حقیقتاً وہ پرنٹ کباڑیئے کو دے دیئے اب معلوم نہیں کیا یہ المیہ ہے یا خوش قسمتی۔ انہوں نے کہاکہ فلم انڈسٹری کو کسی اور نے نہیں بلکہ انڈسٹری کے اپنے لوگوں نے تباہ کیا ہے لیکن اب حالات اچھے ہیں اور ہمارے نوجوان اچھی فلمیں بنا رہے ہیں۔ سینئر فلمسٹار منور سعید نے کہاکہ ماضی میں سنہرے دن تھے جب ہماری فلم انڈسٹری عروج پر تھی پھر ضیاء الحق صاحب آئے تو انڈسٹری زوال پذیر ہونا شروع ہوگئی اب ہم فلم کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احمدندیم قاسمی کے افسانے ’’گنڈاسہ‘‘ کے حوالے سے فلم بنی تھی جب میں فلم میں گیا تو مجھے کہاگیا کہ یہ پنجابی فلم نہیں کرسکتے جس کو میں نے چیلنج سمجھا اور اُردو سے زیادہ پنجابی فلموں میں کام کیا ہے۔ منور سعید نے کہاکہ ہماری فلموں کا ماضی بہت اچھا تھا اور اُمید ہے مستقبل بھی اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سینماکمرشل آرٹ ہے لیکن ضروری ہے کہ اس کے ساتھ آپ کو پیغام بھی دینا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب لوگ فلم دیکھنے سینما گھروں میں آئیں گے۔ نئی نسل کے ہدایت کار نبیل قریشی نے کہاکہ فلم انڈسٹری کی بحالی میں جدید سہولیات کے کردار کو نظر ادناز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ میں دشواریوں پر یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں تین تین سنسر بورڈ ہیں جس کی وجہ سے فلم میکرز کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلمساز ورائٹر فضاء علی نے کہاکہ فلم دراصل ایک خواب ہوتی ہے اور اہم خوابوں کو فلم کے پردے پر منتقل کرتے ہیں اور لوگ ان خوابوں کو دیکھنے کے لئے سینما گھروں کا رُخ کرتے ہیں۔ فضاء علی نے کہاکہ نئی فلموں کی کامیابی میں سوشل میڈیا کا کردار بھی بہت بڑھ گیا ہے اب ہم اس کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی ریلیز کے حوالے سے مقررین نے کہاکہ 1965ء سے پہلے ہمارے یہاں ہندوستان اور ہماری فلمیں ایک ساتھ ریلیز ہوتی تھیں ہندوستانی فلموں کی ریلیز اس شرط پر ہونی چاہئے کہ ہندوستان میں بھی ہماری فلموں کی نمائش ہو۔ پاکستانی اور ہندوستانی فلموں کو برابر کے شوز ملنے چاہئے۔ نئی نسل کے فلم میکرز نے اس حوالے سے کہاکہ بھارتی فلموں کی وجہ سے آڈئنس سنیما کی طرف آنا شروع ہوئی ہے اس سے بھارتی فلموں کی نمائش ہونی چاہئے اگر آ پ کی فلم میں دم ہے تو چاہے سلمان خان آجائے یا شاہ رخ آجائے آپ کی فلم ضرور چلے گی۔نبیل قریشی اور فضاء علی نے کہاکہ ماضی میں سنیما گھر اس وجہ سے بند ہوئے تھے کہ اچھی فلم بننا بند ہوگئی تھی اب اچھی فلمیں بن رہی ہیں تو سینما گھر پھر آباد ہورہے ہیں ہماری فلموں کو بھارتی فلموں سے زیادہ شوز دیئے جاتے ہیں جبکہ قوی خان نے کہاکہ ہمیں اپنی چیزوں کی قدر کرنا چاہئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...