اسلامیہ کالج پر چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں، حافظ نعیم الرحمن

اسلامیہ کالج پر چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں، حافظ نعیم الرحمن

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر )امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اسلامی کالج کی قدیمی اور وسیع و عریض عمارت کو خالی کرانے اور تقریباً 15000طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو لاحق خطرات کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ، محترم جسٹس ثاقب نثارکو خط لکھا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس حوالے سے ازخود نوٹس کاروائی کرتے ہوئے پورے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم جاری فرمائیں اور مکمل تحقیقات تک اسلامیہ کالج کی عمارت پر قبضے کو رکوائیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ موجود صورتحال میں کراچی کے عوام بالخصوص اسلامیہ کالج کے ہزاروں طلبہ اور اساتذہ میں شدید صدمہ اوربے چینی و اضطراب پایا جاتا ہے کیونکہ نہ صرف اس ٹرسٹ کی قانونی حیثیت بڑی مشکوک ہے بلکہ اس نے اپنے بقیہ تعلیمی ادارے حاصل کرنے کے بعد ان کا غیر تعلیمی اورتجارتی استعمال کیا ہے لہٰذا اب اس ہی طرح کے خدشات اس زمین اور عمارت کے بارے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ معاملات اتنے سادہ نہیں جتنے عدالتوں میں پیش کیے جارہے ہیں نیز یہ کہ انتہائی اہم نوعیت کے چند بنیادی سوالات اور نکات کے تصفیہ کے بغیر کالج کے بارے میں کوئی فیصلہ مبنی برحق نہیں ہوسکتا۔ انہو نے کہا کہ کے ایم سی کی یہ زمین خریدی یا فروخت کے ذریعہ حاصل نہیں کی گئی بلکہ یہ صرف اور صرف تعلیمی مقاصد کے لئے الاٹ کی گئی۔ کیا اس پر نجی ملکیت کے اُصول و ضوابط کا اطلاق ہوتا ہے؟اسلامیہ ایجوکیشن سوسائٹی ایک پبلک ٹرسٹ تھا اس میں کب اور کس وقت اس طرح کی تبدیلیاں کی گئیں کہ اس ٹرسٹ کے بانی کے ورثاء ٹرسٹی بن گئے کیا یہ تبدیلیاں قانونی حیثیت کی حامل ہیں ؟لہٰذا اس وقت ٹرسٹی حضرات اور ٹرسٹ دونوں کی قانونی حیثیت کا تعین انتہائی ضروری ہے۔اگر اس ٹرسٹ کی پیش کردہ حیثیت کو بالفرض محال قانونی مان لیا جائے تو کیا قبضہ لینے کے بعد ٹرسٹ اس تعلیمی ادارے کو ختم کرنے اور زمین کو دیگر مقاصدکے لئے استعمال اور فروخت کا مجاز ہے جس طرح اس نے دوسرے اداروں کے ساتھ کیا؟جبکہ زمین کے ایم سی کی اور عمارت مخیر حضرات سے جمع کردہ پیسے سے تعمیر شدہ ہے۔تمام تر عدالتی کارروائیوں میں حکومت کے اہلکاروں کا کرداربہت ہی بودا اور مشکوک نظر آتا ہے۔ کہیں اس پورے معاملے کو ملی بھگت سے تو یہاں نہیں پہنچایا گیا یا سرکاری اہلکاروں کی روایتی فرض ناشناسی کی وجہ سے مقدمات میں صحیح موقف پیش نہیں کیا گیا۔ کیا کمزور موقف پیش کرنے کی وجہ سے زمین اور کالج غلط ہاتھوں میں چلا جائے ؟کالج کے 15000 طلبہ اور اساتذہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس شہر میں جبکہ تعلیم نجی ہاتھوں میں جانے کے بعد تجارت بن چکی ہے۔ کیا ٹرسٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ کالج ختم کرکے تعلیمی مقاصد کے لیے لی گئی زمین کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہو۔اس ادارے کے خاتمہ کے بعد کمزور مالی حیثیت رکھنے والے والدین کے لئے اپنے بچوں کی تعلیم کے مواقع مزید کم ہوجائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خط میں اسلامیہ کالج کی تاریخ کے حوالے سے کہا کہ اسلامیہ کالج کراچی میں قانون، سائنس، آرٹس اور کامرس کی تعلیم فراہم کرنیوالا ایک عظیم ادارہ ہے جس میں قریباََ 15000 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔کالج کی انتہائی قیمتی زمین قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں مفتی اعظم پاکستان جناب محمد شفیع صاحب علیہ الرحمہ (والد گرامی ریٹائرڈ جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب) کو دارالعلوم کے قیام کے لئے الاٹ کی گئی تھی لیکن چونکہ انہوں نے دارالعلوم کورنگی میں قائم کرلیا تھا اس لیے انہوں نے یہ زمین کسی اور ادارے کو تعلیمی مقاصد کے لئے الاٹ کرنے کی درخواست دی نیز علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اﷲ علیہ کی اہلیہ اور ان کے دیگراعزاء نے بھی درخواست دی کہ یہ زمین اسلامیہ ایجوکیشن سوسائٹی کو الاٹ کردی جائے جس سے علامہ شبیر احمد عثمانی وابستہ رہے تھے چناچہ زمین علامہ شبیر احمد عثمانی کی یاد میں تعلیمی ادارہ قائم کرنے کے لئے مذکورہ سوسائٹی کو 1957میں الاٹ کردی گئی۔ سوسائٹی نے اس 22349 گز زمین پر اسلامیہ کالج کے نام سے ایک عظیم الشان ادارہ قائم کیا جو آج بھی قائم ہے۔ 1971 میں تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ اس اسلامیہ کالج کو بھی قومی تحویل میں لیا گیا۔ایک عرصہ کے بعد جب ان اداروں کو De-Nationalise کرنے کی پالیسی آئی تو ٹرسٹ کے بانی جناب اے۔ایم ۔قریشی مرحوم کے کچھ ورثاء نے بطور ٹرسٹی اس کا لج کو واپس لینے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کردی اور مختلف عدالتوں میں کیس داخل کردیے جن میں سوسائٹی کو ایک ذاتی ٹرسٹ اور کالج کی زمین کو ٹرسٹ کی ملکیت کے طور پر ظاہر کیا گیا اور اب تک معاملات اس ہی نہج پر جاری ہیں یہاں تک کہ رینٹ کنٹرولر کی عدالت نے عمارت کا خالی قبضہ ٹرسٹ کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ تعلیم ہر صورت میں بنیادی حق کی حیثیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے حکومتوں نے یہ اہم ترین معاملہ تعلیمی تاجروں کے سپرد کردیا ہے اور سرکاری تعلیمی ادارے سرکاری نااہلی‘ تغافل اور کرپشن کے سبب تباہی کے دھانے پر ہیں اس صورت میں اس طرح کے تعلیمی اداروں کو بچانے کی جدوجہد ہمارے نزدیک بہت ہی مبارک کام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر اعلیٰ عدلیہ کی کارروائی یقیناًکراچی کے شہریوں پر عظیم احسان ہوگا ‘ اور امید ہے کہ بہت سے پوشیدہ معاملات بھی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آجائیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...