امریکہ کے بعد گوئٹے مالا کا بھی اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان

امریکہ کے بعد گوئٹے مالا کا بھی اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان
امریکہ کے بعد گوئٹے مالا کا بھی اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان

  



گوئٹے مالا سٹی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وسطی امریکہ کے ملک گوئٹے مالا نے بھی اسرائیل میں قائم اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کردیا ۔ گوئٹے مالا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بیت المقدس سے متعلق قرار داد کے خلاف ووٹ دینے والے 9 ممالک میں شامل تھا۔

گوئٹے مالا کے صدر جمی مورالز نے اپنے فیس بک پیغام میں سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ٹیلی فونک رابطے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔’ گوئٹے مالا اور اسرائیل میں اس وقت سے بہترین تعلقات ہیں جب ہم نے اسرائیل کے قیام کی حمایت کی تھی‘۔

یروشلم کبھی اسرائیلی دارالحکومت نہیں ہوسکتا کیونکہ۔۔۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی بینجمن نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور زیر غور آئے لیکن سب سے اہم بات گوئٹے مالا کا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کے حوالے سے ہوئی۔ ’ گوئٹے مالا کے لوگو، میں آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں نے چانسلر کو اسرائیل میں قائم سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کی ہدایت کردی ہے، خدا آپ کا نگہبان ہو‘۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کیلئے ویب سائٹ پر ’’لائیو ٹی وی ‘‘ کے آپشن یا یہاں کلک کریں

واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی صدر ٹرمپ کے امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مذمتی قرار داد منظور کی گئی تھی۔ امریکہ ، اسرائیل اور گوئٹے مالا سمیت دیگر 6 چھوٹے چھوٹے ممالک نے اس قرار داد کی مخالفت کی تھی جبکہ اس قرار داد کی حمایت میں 128 ووٹ آئے ۔ امریکہ کی جانب سے 6 دسمبر کو اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد گوئٹے مالا پہلا ملک ہے جس نے اپنے سفارتخانے کی منتقلی کا اعلان کیا ہے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /بین الاقوامی /عرب دنیا /انسانی حقوق


loading...