’’میں یہ کام کرتا تو جمائمہ کی نظروں سے گرجاتا ‘‘ عمران خان نے اپنی اس عادت سے پردہ اٹھاہی دیا جسے جمائمہ پسند نہیں کرتی تھی

’’میں یہ کام کرتا تو جمائمہ کی نظروں سے گرجاتا ‘‘ عمران خان نے اپنی اس عادت ...
’’میں یہ کام کرتا تو جمائمہ کی نظروں سے گرجاتا ‘‘ عمران خان نے اپنی اس عادت سے پردہ اٹھاہی دیا جسے جمائمہ پسند نہیں کرتی تھی

  



لاہور(ایس چودھری)نااہلی کیس سے بریت کے بعد شیخ رشید نے ایک بار پھر عمران خان کے زخم تازہ کردئیے ہیں اور انہیں جمائمہ سے دوبارہ شادی کا مشورہ دیا ہے۔جمائمہ خان نے عمران خان کومنی ٹریل کے عذاب سے نکال کر ان پر ایک بار پھر احسان کردیا ہے۔دیکھا جائے تو عمران خان اور جمائمہ خان میں علیحدگی کے باوجود گہرا تعلق ہے جسے عمران خان نہ بھلانہ جھٹلا سکتے ہیں ۔انہوں نے پانچ سال پہلے اپنی کتاب’’میں اور میرا پاکستان ‘‘میں جمائمہ خان سے علیحدگی کا ذکرکرتے ہوئے اپنے جن احساسات کا ذکر کیا تھا وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عمران خان کی زندگی میں جمائمہ خان کا گہرا اثر رہا ہے اور وہ اسکو شاید ہی بھول پائیں۔انہوں نے لکھا تھا’’جب میں شادی شدہ نہ تھا تو میرے دوست مجھے رشک سے دیکھا کرتے۔ میری زندگی میں سب سے بڑی خوشی اور سب سے زیادہ اطمینان شادی کے بعد آیا۔ میں ہمیشہ سے خطرات مول لیتا آیا ہوں اس لیے کامیابیوں کے ساتھ ناکامیوں کے لیے بھی ذہنی طور پر پوری طرح تیار رہتا ہوں۔ میں ماضی میں جھانک کر دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ ان حالات میں کیا ممکن تھا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کسی بھی قیمت پر اپنی شادی کو بچا لینا چاہیے تھا۔ اب مگر کوئی پچھتاوا نہیں۔ اگر کوئی بات مجھے جمائما سے شادی کرنے سے روک سکتی تو وہ یہی تھی کہ وہ کمسن اور ناتجربہ کار ہے۔ اتنی بڑی آزمائش میں اسے نہیں ڈالنا چاہیے۔ مجھے یہ بات بہت تکلیف دیتی ہے کہ اسے ان تمام ناگوار احساسات سے گزرنا پڑا جو طلاق سے جنم لیتے ہیں۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بہر حال ان سب دکھوں کے بدلے وہ دو خوبصورت بیٹوں کی ماں اور پاکستان کی صورت میں وہ دوسرے وطن کی مالک ہے جہاں اسے پسند کیا جاتا ہے اس لیے پاکستان کے ساتھ اس کی وابستگی قائم ہے۔ سیلاب ہو یا زلزلہ، ملک پر جب بھی آزمائش آئی، وہ سب سے پہلے مدد کیلئے موجود ہوتی ہے۔ پوچھنے والے سوال کرتے ہیں کہ اپنی شادی بچانے کیلئے میں لندن منتقل کیوں نہ ہو گیا؟ میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ برطانیہ میں بس جاوں، کرکٹ اور صحافت کی زندگی بسر کروں۔ میرے لیے یہ ایک بے مقصد حیات ہوتی۔ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ زندگی کسی مقصد اور جنون کے بغیر بسر کی جا سکتی ہے۔ ایک وقت تھا جب مقصد کرکٹ تھا۔ پھر شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جو اگر پروردگار کو منظور ہو ا تو ایک دن عظیم الشان شہر علم کی بنیاد بن جائے گی۔ اب سیاسی جدوجہد میری زندگی کا مرکز و محور بن گئی۔ جمائما کو یہ بات معلوم تھی۔ اس نے ہمہ وقت گھر کے ساتھ چمٹے رہنے والے کسی شخص سے شادی نہ کی تھی۔ میری شخصیت کا تحرک بھی ان اوصاف میں شامل تھا جس نے اس شادی پر اسے آمادہ کیا۔ میرا خیال ہے کہ اگر اس تحرک کو میں کھو دیتا تو خود اس کی نظروں سے بھی گر جاتا۔ حالات کتنے ہی خراب اور منزل کی راہ میں کتنی ہی دشواریاں حائل ہوں، فیصلے کرنا ہی پڑتے ہیں۔ پھر کیوں نہ حوصلہ مندی اور مثبت اندازِ فکر کے ساتھ کیے جائیں۔ یہی سچی زندگی ہے اور اسی میں آدمی کی ابدی مسرت کا راز پوشیدہ ہے‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...