سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 7

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 7
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 7

  



شاہی طبیب نے کئی کئی بار اس کے زخم کو دیکھا اور دوہی دنوں میں اس قابل کر دیا کہ وہ آسانی سے چل پھر سکے۔ پھر اسے حکم ملا کہ وہ شام کو ’’نائٹ ‘‘ کا اعزاز قبول کرنے کیلئے دربار میں حاضر ہو۔

سرخ بارہ دری کے نیچے شامیانہ لگا تھا جس کے شہتیر غلاف پوش اور غلاف چاندی کے تاروں کے پھول پہنے ہوئے تھے اور اس کے چاروں گوشوں میں فرانس اور انٹیسک اور شہنشاہ اور ملکہ کے جھنڈوں کے بھڑک دار پھر یرے لہرا رہے تھے۔ قالینوں اور کھالوں کے فرش پر جرمنی، آسٹریاصقلیہ، یروشلم اور فرانس کے نواب ، نائٹ ، سردار، امیر اور طبقہ الوادیہ اور بطقہ البیطار کے شہسوار اور جرمانہ کے مشہور شمشیر زن بیٹھے ہوئے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بارہ دری کے چبوترے پر اطلس کے زرد نمگیر ے کے نیچے چاندی کے تخت پر طلائی کر سی بچھی ہوئی تھی۔ اس پر میانہ قد، معمولی خدوخال اور بے قرار ہاتھ پیروں کا مالک ایک کم رو آدمی جگمگا تا لباس اور بیش قیمت تاج پہنے مرغ زریں بنا بیٹھا تھا۔ اس کے ایک طرف ڈیوک آف برگنڈی دونوں ہاتھوں پر تلواریں لئے کھڑا تھا۔ دوسری طرف پیرس کے شاہی گرجا کا اسقف انجیل حمائل کئے موجود تھا۔ پھر وہ لوئی کے خاص برداروں کے گرزوں کے جلو میں نیزوں کی زبانوں اور بنے ہوئے دیو پیکر جسموں اور چمکدار تلواروں اور آئینہ بند بکتروں کے ہجوم سے گزرتا ہوا تخت کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔

ایک خادم نے اسے گھٹنوں پر گرادیا اور کمر سے پتی کھول دی ۔ برگنڈی کا ڈیوک جس کے قد کو خود کی کلغی نے اور بالا کر دیا تھا آگے بڑھا اور تلوار لوئی کے ہاتھ میں دے کر اپنی کمر سے نائٹ ہڈ کی زرنگار پٹی کھو کر اس کی کمر میں باندھ دی۔ اب لوئی نے پادری کے منہ سے نکلتے ہوئے مقدس کلمات کے ساتھ کھڑے ہو کر تلوار کو چپٹا کر کے اس کے سر اور دونوں شانوں پر چھلا دیا اور تلوار برگنڈی کے ڈیوک کو پکڑا دی جس نے پورے احترام کے ساتھ اس کی پیٹی کے منقش نیام میں ڈال دی۔ پھر لوئی نے اپنا برہنہ ہاتھ پیش کیا جس پر اس نے عقیدت کا بوسہ دیا۔ اب جنگی باجے جنگی دھن میں بجنے لگے اور گردن جھکا کر چاروں طرف تحسین کے نعرے لگانے والوں کا شکریہ ادا کرتا رہا۔

جب وہ الٹے قدموں سے واپس ہوااور لوئی اندر چلا گیا اور اس کی کرسی پر پردہ ڈال دیا گیا تو ایک ایک آدمی نے مبارکباد دی۔ وہ بڑی احتیاط سے ہاتھ ملاتا رہا لیکن زخم میں تکلیف شروع ہو گئی۔ اس نے چلتے چلتے قحطان کو چند ہدایتیں دیں اور اپنے بیمار خانے کی طرف چلا جو ملکہ کی بارگاہ کی قنات بندی کے اندر تھا۔ داخلے کے دروازے پر ایک لانبے تڑنگے زرہ پوش آدمی نے بڑی عیار مسکراہٹ سے اس کو مبارکباد دی اور کینہ توز نگاہوں سے گھور کر ہاتھ ملایا ۔ جب وہ اپنے خیمے کے اندر جانے لگا تو وہی اونچی چوڑی چکلی نارمن عورت آئی جو اسے تلوار کی نوک پر یہاں تک لائی تھی اور جس کا نام ایلس تھا، اس کو مبارکباد دی اور اس کے ساتھ ہی خیمے میں داخل ہوئی۔ لباس تبدیل کرنے میں مدد دی اور اس کے لیٹ جانے کے بعد بڑے ادب سے گزارش کی۔

’’آپ آرک سے محفوظ رہنے کی کوشش کیجئے۔‘‘

’’آرک ؟ ۔۔۔کون؟ ‘‘

’’آرک جرمانیہ کے سواروں کا سردار ہے ۔ یورپ میں اس کی بہادری کی بڑی دھوم ہے۔ اسے ملکہ عالم کی خدمت میسر تھی لیکن اِدھر کئی دن سے باریاب نہیں کیا گیا۔ آج اس نے آپ کو دیکھا ہے۔ آپ کا اعزاز دیکھا ہے اور میں نے اس کی دغا باز آنکھوں میں سازش رینگتی محسوس کی ہے۔ ‘‘

ایلس کے جانے کے بعد وہ بڑی دیر تک ایلس اور آرک کے متعلق سوچتا رہا ۔ پھر زندگی اور زندگی کے خدشات پر غور کرتا رہا۔ ہتھیلی پر ٹپک پڑنے والے مواقع پر فکر کرتا رہا جو اگر مٹھی میں بند کر لئے جائیں تو زندگی کی نہج بدل جاتی ہے اور اگر ان کو ہتھیلی سے گر جانے دیا جائے تو زندگی عذاب ہو جاتی ہے اور انسان مٹی کے ڈھیلوں سے بھی سستے ہو جاتے ہیں۔ پھر اسے اپنے باپ کی یاد آئی جو دمشق کے چھوٹے سے ممولے کو اس قہار لشکر سے ٹکرانے کا خواب دیکھ رہے تھے اور چہیتے بیٹے کی خطرناک خدمت سے منسوب اندیشوں سے خائف تھے۔پھر اس نے اپنے آپ کو یقین دلایا کہ موجودہ کیفیت ایک زندگہ حقیقت ہے اور گزشتہ دنوں میں جو کچھ پیش آیا ہے وہ لوحِ محفوظ میں پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا اور یہ زر کار حادثہ کسی شاندار کارنامے کا دیباچہ ہے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس رات ملکہ فرانس کے منظور نظر نائٹ، خاص برداروں کے افسر جون دی نائٹ کو لشکر کا انتظامی گشت کرنا تھا۔ اسے فرانسیسی اسلحہ خانے کا سب سے قیمتی بکتر پیش کیا گیا جس کے سینے پر سونے کا عقاب اڑ رہا تھا اور خود پر سونے کی کلغی لگی تھی اور ڈھال پر فرانس کا تاج بنا تھا اور جڑاؤ پیٹی میں کھڑ کھڑاتی ہوئی وزنی تلوار کے صلیبی قبضے پر جواہرات جڑے تھے۔ سر سے پاؤں تک لو ہے میں غرق ہو کر وہ اس گھوڑے پر سوار ہوا جو اس کی خطرناک محبت کا اکیلا راز دار تھا۔ آج وہ پہلی بار شاہی قیام گاہ کی پشت پر میلوں میں پھیلے ہوئے خیموں کے شہر کی طرف چلا تھا۔ آسمان پر چاند کی گول مشعل جل رہی تھی اور دمشق کے گلابی جاڑوں کی ٹھنڈی ہوا خنجر کی طرح کھلے ہوئے حصوں کو کاٹ رہی تھی اور وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتی ہوئی چھولداریوں اور خرگاہوں کے درمیان سے گزررہا تھا جس کے دروازوں پر پنشاخے جل رہے تھے۔ اس کی تلوار کا سیمیں نیام گھوڑے کی آہنی پا کھر سے ٹکڑا رہا تھا۔ اور وہ آنکھیں پھاڑے تین طرف دیکھتا ہوا چل رہا تھا۔ راستوں میں جگہ جگہ بڑے بڑے مادروشن تھے جن میں مسلمانوں کے گھروں سے لوٹے ہوئے لکڑی کے منقش صندوق، مقدس کتابوں کے نسخے، پچی کاری کئے ہوئے دروازے، آبنوسی کرسیاں، اخروٹ کی تپائیاں، اور صندل کی چوکیاں چٹخ چٹک کر جل رہی تھیں۔ بھالوں میں پیوست ادھڑے ہوئے پرندے بھیڑ اور بکری کے بچے بھُن رہے تھے۔ نیند کے قرابے کھجوروں کی چٹائیوں سے ڈھکے تھے، ٹوٹے گھڑوں کے ٹکڑے ادھر اُدھر ڈھیر تھے ۔ انگور کی کچی شراب کے مشکیزے مردہ جانوروں کی طرح پڑے تھے۔ لعشی سپاہی جنگلی آوازوں میں چیخ رہے تھے، چلا رہے تھے۔ گارہے تھے بجا رہے تھے، ہتھیاروں کو چمکار ہے تھے، گھوڑوں کا ساز سی رہے تھے، شام اور عراق کی سرحدی بستیوں سے پکڑی ہوئی ننگی معصوم عورتوں کے جسموں کو جھنجھوڑ رہے تھے۔ اس کا خون کھول گیا اور ہاتھ تلوار کے قبضے پر چلا گیا اور جی چاہا کہ۔۔۔لیکن وقت کی نزاکت نے صبر کی تلقین کی۔ وہ جلنا پھنکنا اس حد بندی تک آگیا جہاں جرمانیہ کے آہن پوش پیدل مجاہد پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ ہمر کاب سپاہی جو آگے آگے چل رہے تھے اپنے گھوڑے موڑنے لگے۔ اسی وقت پہلو کے خیمے سے بوڑھی بھیانک مردانہ چیخ نے اسے جھنجھوڑ ڈالا اور وہ بلبلا اٹھا۔(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس