فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر310

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر310
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر310

  



ایف ڈی سی کی پانچ منزلہ خوبصورت اور جدید ترین عمارت دیکھ کر ہم بہت متاثر ہوئے۔ ایک طرف ایڈیٹنگ روم تھے جو مغرب کے معیار کے مطابق مکمل ائرکنڈیشنڈ تھے اور وہاں ویسی ہی احتیاط برتی جاتی تھی جیسی کہ یورپی ملکوں کے ایڈیٹنگ رومز میں ہوتی ہے۔ لیبارٹری دیکھ کر تو سچ مچ ہماری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں۔ یہ جدید ترین رنگین لیبارٹری بھی ہر طرح سے مغربی معیار کے مطابق تھی۔ ہر کام کمپیوٹر کے ذریعے ہو رہا تھا اور بہت سُرعت کے ساتھ‘ بہتر نتائج برآمد ہو رہے تھے۔ سٹوڈیو کا ایک فلور مکّمل ائرکنڈیشنڈ تھا۔ آلات جدید ترین تھے۔ ایسے کیمرے، ٹرالی اور ڈولی آج تک پاکستانی نگار خانوں کو نصیب نہیں ہو سکی ہے۔ ساؤنڈ ریکارڈنگ کے لئے بھی بہترین اور جدید ترین طریقہ کار تھا۔

ہمیں خوشی بھی ہوئی رشک بھی آیا اور عبرت بھی حاصل ہوئی۔ یہ وہ منصوبہ تھا جو مغربی پاکستان میں پروان چڑھا تھا لیکن اس پر عمل مشرقی پاکستان اور اب بنگلہ دیش میں ہوا۔ ہم کاغذی منصوبے کی حد سے آگے نہ بڑھ سکے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر309 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بھٹّو صاحب کے دور میں بہت تیر مارا تو نیشنل فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (نیف ڈیک) بنا دی گئی جو بذات خود سفید ہاتھی بلکہ پورس کا ہاتھی ثابت ہوئی۔ اس سے نہ حکومت کو فائدہ پہنچا نہ فلمی صنعت کو۔ کروڑوں روپے کا نقصان البتہ قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑا۔ نگران حکومت کے قیام سے پہلے یہ عالم تھا کہ عملے کے ارکان کو تنخواہیں دینا بھی دوبھر تھا۔ سننے میں آیا ہے کہ اس ادارے کو ختم کیا جا رہا ہے۔ کافی عرصہ قبل یہ ادارہ ختم ہو چکا ہے۔

یارانِ تیزگام نے منزل کو جا لیا

ہم محوِ نالۂ جرس کارواں رہے

بات یہ ہو رہی تھی کہ چند سرپھرے اور دل جلے افراد نے مشرقی پاکستان میں بڑی جدوجہد کی، پُرخلوص کام کیا اس لئے آج بنگلہ دیش کی فلمی صنعت مضبوط و مستحکم بنیادوں پر قائم ہے۔

ڈھاکہ میں بنگالی فلموں کی کامیابی کے بعد اردو فلموں کا بھی آغاز ہوگیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی پہلی اردو فلم ’’چندا‘‘ تھی جو 1962ء میں تیار ہوئی تھی۔ اس نے مغربی پاکستان میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ دراصل مشرقی پاکستان کے فلم ساز نئے موضوعات‘ سیدھے سادے ا نداز میں فلماتے تھے۔ اداکار بھی نئے ہوتے تھے۔ ماحول اور پیشکش کا طریقہ بھی سادہ اور پُراثر ہوتا تھا جو مغربی پاکستان کے فلم بینوں کو بھی پسند آتا تھا اور وہاں بے حد کم لاگت سے بنائی جانے والی فلمیں یہاں بے پناہ کامیابی اور دولت حاصل کرتی تھیں۔ مشرقی پاکستان کی دوسری اردو فلم ’’تلاش‘‘ تھی۔ ’’چندا‘‘ میں شبنم اور رحمان پہلی بار مغربی پاکستان میں متعارف ہوئے تھے۔ اس کی موسیقی دلکش تھی۔ اداکار‘ ہدایت کار‘ موسیقار سبھی نئے تھے پھر بھی اس نے سارے پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔

فلم ’’چکُوری‘‘ کے فلم ساز و ہدایت کار احتشام تھے۔ اس فلم میں انہوں نے شبنم اور رحمان کا سہارا لینے کے بجائے دو بالکل نئے چہرے پیش کئے تھے۔ یہ ندیم اور شبانہ تھے۔ چندا‘ تلاش اور چکوری تینوں سُپرہٹ فلمیں ثابت ہوئیں۔ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے مقابلے میں فلمی صنعت سے وابستہ بیشتر لوگ تعلیم یافتہ‘ ذہین اور اچھا خاندانی پس منظر رکھتے تھے۔ ان میں صحافی مصنّف‘ شاعر‘ دانشور اور دوسرے ممتاز شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں فلمی صنعت مضبوط اور صحت مند بنیادوں پر قائم ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے قابل ذکر ترقّی کرلی۔ اس کے بعد تو مشرقی پاکستان کے فلم سازوں میں اس قدر خود اعتمادی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ زیادہ تعداد میں اردو فلمیں بنانے لگے اور انہیں مغربی پاکستان کی نسبتاً پرانی تجربہ کار اور ترقّی یافتہ فلموں کا کوئی ڈر نہیں رہا۔

یہ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم اور پاکستان کی پہلی سینما سکوپ فلم بنانے کا اعزاز ڈھاکہ کی فلمی صنعت کو حاصل ہوا تھا۔ 1964ء میں ظہیر ریحان نے پاکستان کی پہلی رنگین فلم بنائی تھی جس کا نام ’’سنگم‘‘ تھا۔ اس وقت تک مغربی پاکستان میں صحیح معنوں میں کوئی مکّمل رنگین فلم نہیں بنائی جا سکی تھی۔ آغا جی اے گل اور ہدایت کار شریف نیّر کی فلم ’’نائلہ‘‘ ’’سنگم‘‘ کے بعد ریلیز ہوئی تھی۔ ظہیر ریحان ہی کو پاکستان کی پہلی سینما سکوپ فلم ’’جلتے سورج کے نیچے‘‘ بنانے کا بھی امتیاز حاصل ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان کے ذہین اور حوصلہ مند لوگوں نے فلم کے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا اور ان میں سے بہت سے لوگ مغربی پاکستان میں آ کر فلمیں بنانے لگے تھے۔ فلم ساز ہدایت کار‘ موسیقار‘ گلوکار‘ ایڈیٹر‘ اداکار‘ سبھی شعبوں میں مشرقی پاکستان کے لوگوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور نام پید کیا۔ ان میں نذرالاسلام‘ روبن گھوش‘ مصلح الدین‘ گلوکار بشیر احمد‘ مصطفی‘ شاعراختر یوسف‘ اداکار رحمان‘ اداکارہ شبنم کے نام نمایاں ہیں۔ ڈھاکہ میں تعلیم یافتہ افراد نے فلم کے مختلف شعبوں میں بہت اچھّی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ احتشام‘ مستفیض‘ عطاء الرحمن‘ سُبھاش دتہ‘ بے بی اسلام‘ فتح لوہانی‘ قاضی ظہیر‘ ظہیر ریحان‘ نذرالاسلام جیسے افراد نے مختلف شعبوں سے ممتاز حیثیت حاصل کی اور ان کی کارکردگی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ڈھاکہ کی فلمی صنعت میں سبھی اداکار تعلیم یافتہ اور اچھے متوسط خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں رحمان‘ خان عطا‘ ہارون‘ عظیم‘ خلیل‘ مصطفی‘ سُبھاش دتہ‘ انور حسین‘ اکبر وغیرہ صف اوّل کے اداکار تھے۔ ایکٹریسوں میں شبنم‘ سلطانہ زمان‘ شبانہ‘ سجاتا‘ سبیتا‘ کابوری‘ چترا‘ روزی‘ نسیمہ خان‘ ریشماں‘ انورہ‘ مایا ہزاری‘ رانی سرکار نے بہت شہرت حاصل کی۔

ظہیر ریحان بہت ذہین اور تعلیم یافتہ مصنف اور ہدایت کار تھے۔ انہیں مغربی پاکستان میں رہنے کا موقع نصیب نہیں ہوا لیکن نذرالاسلام جیسے لوگوں نے لاہور آ کر بہت اچھّی فلمیں بنائیں۔ ڈھاکہ میں انہوں نے فلم ’’کاجل‘‘ اور ’’پیسہ‘‘ بنائی تھی۔ وہ بنیادی طور پر فلم ایڈیٹر تھے مگر جب ہدایت کاری کی طرف مائل ہوئے تو بہت اچھّے اور ممتاز ہدایت کاروں کی صف میں شامل ہوگئے۔ پاکستان میں انہوں نے آئینہ‘ احساس‘ بندش‘ زندگی‘ لوّاَسٹوری‘ نہیں ابھی نہیں، جیسی کامیاب اور یادگار فلمیں بنا کر شہرت حاصل کی۔

ڈھاکہ کے فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے بھی بہت اچھّی اردو فلمیں بنائیں چکَوری‘ تلاش‘ چندا‘ اِیندھن‘ بَندھن‘ سَنگم‘ تنہا‘ آخری سٹیشن‘ بھیّا‘ نواب سراج الدولہ‘ مِلن‘ دَرشن‘ ’’چھوٹے صاحب‘‘ نے مغربی پاکستان میں بھی بہت کامیابی حاصل کی۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مشرقی پاکستان کے فلم والے ہر اعتبار سے مغربی پاکستان والوں سے مختلف تھے۔ تعلیم نے انہیں روشن خیال اور منکسرالمزاج بنادیا تھا۔ وہ نئے خیالات پیش کرنے‘ یا نئے تجربات سے بالکل نہیں گھبراتے تھے اور اس بنا پر نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے تھے۔ وہاں کے نگار خانوں میں نظم و ضبط اور تہذیب و تمدن کے آثار نمایاں طور پر نظر آتے تھے۔ وہاں بیشترایکسٹریس تعلیم یافتہ اور متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے بے جا ناز نخروں اور تصنّع کی عادی نہیں تھیں۔ نگار خانے پر کسی درس گاہ کا گمان گزرتا تھا جہاں چھوٹے بڑے کا احترام اور ڈسپلن دیکھنے کو ملتا تھا۔ اداکار اور اداکارائیں سادہ لباس پہن کر سائیکل رکشا یا سائیکل پر سوار ہو کر سٹوڈیو آتے تھے اور وقت کی پابندی کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔ عام زندگی میں وہاں کی ایکٹریس بھاری میک اپ استعمال نہیں کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کی فلمی صنعت مالی اعتبار سے بھی مستحکم اور مضبوط ہوگئی تھی۔ ان کی فلموں میں سادگی اور تازگی کا عنصر غالب تھا‘ نتیجہ یہ ہوا کہ سقوط مشرقی پاکستان سے پہلے وہاں کی فلمی صنعت پائیدار اور صحت مند بنیادوں پر مستحکم ہو چکی تھی۔ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد بھی ان کی ترقّی کا سفر جاری رہا۔ جب وہاں اردو فلموں کی تیاری کا دور شروع ہوا تو کہانی نویس اور نغمہ نگاروں کی حیثیت سے ممتاز شعرا اور ادیبوں کی تلاش کی گئی۔ منشی قسم کے اَن پڑھ لوگوں سے مدد نہیں لی گئی۔ سرور بارہ بنکوی‘ اختر یوسف‘ نقی‘ مصطفی جیسے مستند ادیبوں اور شاعروں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

مشرقی پاکستان والوں کو سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں مغربی پاکستان سے بہت شکایات تھیں۔ یہی شکایات فلمی صنعت کے لوگوں کو بھی تھیں اور کافی حد تک درست اور بجا بھی تھیں۔ آغاز میں مشرقی پاکستان کی فلمیں غیر معیاری تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کے معیار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ فلم سازی کی رفتار بھی کافی حد تک بڑھ گئی۔ بنگلہ فلموں کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی فلمیں بھی تیار ہونے لگیں۔ رنگین اور سینما سکوپ فلمیں بھی بنائی گئیں۔ مگر اس کے باوجود انہیں شکایت رہی کہ مغربی پاکستان کے فلم ساز انہیں کمتر اور پسماندہ تصّور کرتے ہیں۔ اس میں کچھ صداقت بھی تھی۔ یہ دراصل مغربی یا مشرقی پاکستان کا مسئلہ نہ تھا بلکہ بدقسمتی سے یہاں کی فلمی صنعت سے وابستہ لوگ خود کو بہت ارفع اور بلند تر سمجتے تھے‘ وہ بھلا مشرقی پاکستان کی نوزائیدہ صنعت کو کیا خاطر میں لاتے۔ مشرقی پاکستان میں جب بھی کوئی فلمی میلہ یا فلمی تقریب منعقد ہوتی تھی وہ مغربی پاکستان کے فلم والوں کو ضرور مدعو کرتے تھے۔ یہاں سے بہت کم لوگ ان دعوت ناموں کو قبول کرتے تھے۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان میں اس قسم کی فلمی تقریبات میں مشرقی پاکستانیوں کو مدعو کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی تھی۔ یہاں کے فلمی لوگ اپنے حال میں مگن اور برتری کے احساس میں مبتلا تھے۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر311 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...