بھارت نے اپنے سیوریج اور صنعتی فضلے کے 7 نالے پاکستان میں داخل کردئیے : ضیا شاہد

بھارت نے اپنے سیوریج اور صنعتی فضلے کے 7 نالے پاکستان میں داخل کردئیے : ضیا ...
بھارت نے اپنے سیوریج اور صنعتی فضلے کے 7 نالے پاکستان میں داخل کردئیے : ضیا شاہد

  



لاہور (ویب ڈیسک)بھارت نے ستلج کو لکڑی کے پشتوں سے بند کردیا  تاکہ پانی پاکستان نہ جائے لیکن بھارت  صنعتی علاقے کا گندہ زہریلا کیمیکلز زدہ پانی پاکستان میں چھوڑ رہا ہے، یہ پانی گنڈاسنگھ ستلج میں اور ہڈیارہ نالے سے راوی میں آرہا ہے جو انتہائی خطرناک اور مضر صحت ہے، یہ زہریلا پانی راوی کے ذریعے بھی دوسرے دریاﺅں میں جارہا ہے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ’’لائیو ٹی وی‘‘ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

 نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام سیمینار  سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ  ہم راوی ستلج واٹر فورم کے زیراہتمام تیاری کر رہے ہیں اور جلد اپنے مندوبین یورپ بھیجیں گے، یہ سب کچھ اس ادارے سے شروع کیاگیا۔ درحقیقت یہ صرف دریائی پانی کے استعمال کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا براہ راست تعلق خطے کی ماحولیات سے ہے اور یہی ہمارا کیس ہے جو ہم دنیا کو سمجھانا چاہتے ہیں، بھارتی آبی دہشت گردی میرا آخری بڑا کام ہے جو میرے اور میرے ملک کے لئے اہم ہے ،آبی دہشت گردی کی بجائے بھارت کی دریائی دہشت گردی کانام دیاجائے کیونکہ ہمارے دریا اسکی دہشت گردی کے شکار ہیں۔جس پر آج تک کسی نے صحیح معنوں میں کام ہی نہیں کیا میں نے اس پر کام کر نے کےلئے سب سے پہلے انڈس واٹر کمیشن کی دستاویز کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ  1960میں سند ھ طاس معاہدے کے تحت ہم نے اپنے تین دریا ستلج ،بیاس،روای فروخت کردئے گئے یہ تاثر ہی غلط ہے۔ 1960میں جو معاہدہ ہوا اس کے مطابق ہندوستان سے صرف زرعی پانی کا معاہد ہ ہوا تھا نہ کہ سارے پانی کے استعمال کا معاہدہ ہوا تھا۔اس میں طے ہونے والی شقوں کو چھپایا جارہا ہے کیوں کہ اس میں ہمارے لیڈروں ،بیورکریٹس اور ماہرین کی نا اہلی تھی۔ 1960سندھ طاس معاہدے کے مطابق خطے کے تین دریا چناب ،جہلم اور سندھ ہمارے حصے میں اور ستلج ،بیاس اور راوی بھارت کے حصے میں آئے اسی معاہدے میں بھارت نے ایک شق رکھوائی اور اس کو باور کراتے ہوئے پاکستان سے دستخط بھی کروائے اس شق کے مطابق تین دریا جن میں چناب ،جہلم اور سندھ جو پاکستان کے حصے میں آئے ہیں وہ بھارت کے جس حصے میں بہتے ہیں ان پر زرعی پانی کے علاوہ باقی تینوں طرح کے استعمال پراس کا حق ہے اور ہمیشہ رہے گالیکن ہمارے نااہل لوگوں نے بھارت سے یہ باور نہ کرایا کہ تین دریا جو بھارت کے حصے میں آئے ہیں ان پر بھی پاکستان کا ویسا ہی حق ہوگا جیسے بھارت کا ہے اور نہ اس بارے دستخط کراوئے گئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ زرعی پانی کے علاوہ پانی کے تین استعمال اور بھی تھے پہلا استعمال گھریلو پانی جس سے گھریلو استعمال کےلئے پانی دوسرا آبی حیات جن میں دریائی مخلوق جانور ،مویشی ،چرند پرندوغیرہ اوراس پانی کا تیسرا استعمال ماحولیات کا تھاتاکہ پانی کے بہاﺅ کے اردگرد درختوں کا اگنا سبزہ کا اگتا رہے۔ 1961-62 میںجب یہ دریا بند کر دیئے گئے تو ستلج جو ہیڈ سلمانکی سے شروع ہوکر پنجندتک جاتا تھا اس کے کنارے 72ہزار ماہی گیر آباد تھے جن کا ذریعہ معاش صرف مچھلی پکڑنا تھا وہ بے روزگا ر اور بے گھر ہوکر رہے گئے اسطرح بھارت نے پاکستان کا معاشی قتل کیا اسکو دہشت گردی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔

’’میں یہ کام کرتا تو جمائمہ کی نظروں سے گرجاتا ‘‘ عمران خان نے اپنی اس عادت سے پردہ اٹھاہی دیا جسے جمائمہ پسند نہیں کرتی تھی

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہٹ کر میں نے سالانہ نیشنل ہیلتھ رپورٹ کا بھی بغور جائزہ لیا اس رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب کا خاص کر ضلع بہاولنگر اس پانی آبی دہشت گردی کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس سے وہاں کے لوگ مہلک امراض جن میں گردوں کا ناکارہ ہونا ،جگر کا ختم ہونا ،کینسر اور ہیپاٹایٹس سی جیسی امراض میں مبتلا ہیں اس کی وجہ جو ماہرین بتاتے ہیں وہ یہ کہ پانی کی سطح اپنے لیول سے کم ہورہی ہے، پانی کی کمی کی وجہ سے آرسینک زہر کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور /ماحولیات