’’ میں اپنے باپ کو گولی ماردوں گا کیونکہ ۔۔۔‘‘بلوچ بچے نے ایسی بات کردی کہ جسے سن کر پوری قوم فوج کو مبارکباد دے گی

’’ میں اپنے باپ کو گولی ماردوں گا کیونکہ ۔۔۔‘‘بلوچ بچے نے ایسی بات کردی کہ ...
’’ میں اپنے باپ کو گولی ماردوں گا کیونکہ ۔۔۔‘‘بلوچ بچے نے ایسی بات کردی کہ جسے سن کر پوری قوم فوج کو مبارکباد دے گی

  



لاہور (ایس چودھری )بلوچستان میں تعلیم سب سے بڑا ہتھیار بننے جارہی ہے۔سکولوں میں بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے کے لئے ایف سی بلوچستان میں امن کے دشمن دہشت گردوں اور ڈاکووں کے بچوں کو بھی سکولوں میں مفت تعلیم دے کر ان میں مادر وطن کی قدروقیمت اجاگر کررہی ہے ۔اسکا مثبت نتیجہ یہ نکل رہاہے کہ جو جرائم پیشہ لوگ حکومت اور قانون سے ٹکرا رہے تھے انہیں انکے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں نے ہتھیار پھینکنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایک سینئیر کالم نگار ملک فدا الرحمن نے اپنے دورہ بلوچستان کے دوران سوئی میں ایف سی کے سکول کا دورہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بلوچستان میں امن لانے کے لئے مستقل بنیادوں پر فراریوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جارہا ہے،انہوں نے فراریوں کے بچوں سے ملاقاتیں بھی کیں جو حب الوطنی سے سرشار ہوچکے ہیں ۔انہوں نے لکھا ہے کہ ’’ ایف سی کا یہ سکول مڈل تک ہے۔ اس کے پرنسپل سعید احمد صاحب اور وائس پرنسپل عائشہ رانا ہیں۔ سکول کی صفائی اور نظم و ضبط بلاشبہ لاہوراور اسلام آباد کے کسی بھی معیاری سکول سے کم نہیں تھا۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں چونکہ حالات بہت ہی خراب تھے فراری جگہ جگہ وارداتیں کرتے اور ڈاکے مارتے پھر رہے تھے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ پھر اس علاقے کو جان بوجھ کر تعلیم سے بھی دور رکھا گیا تھا۔ مجھے بہت سے لوگوں نے بتایا ہے کہ ایف سی بلاتفریق بلوچستان میں ہر بچے کو تعلیم دے رہی ہے۔ ایف سی ان لوگوں کے بچوں کو بھی پڑھا رہی ہے جن کے والدین دن رات ایف سی کے افسروں اور جوانوں پر راکٹ اور گولیاں برسا رہے ہیں۔ یہ ایسی بات تھی کہ جس پر یقین کرنا ذرا مشکل تھا۔ میں نے ایف سی سکول کے پرنسپل سے پوچھا کہ آپ کے سکول میں فراریوں کے بھی بچے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کافی زیادہ ہیں۔ بہر حال وہ تقریباً 20بچوں کو لے کر آ گئے جو سکول کے خوبصورت یونیفارم میں تھے جو ان کوسکول کی طرف سے مفت مہیا کئے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیس نام کی کوئی چیز نہیں۔ ان کو کتابوں سمیت ہر چیز مفت مہیا کی گئی تھی۔ سکول کے بچوں سے گفتگو کا آغاز ہوا تو جس سے پوچھوں کہ آپ کا باپ کیا کرتا ہے وہ کہتا کہ میرا باپ مزدوری کرتا ہے۔ کیا مزدوری کرتا ہے اس کا انہیں بھی علم نہیں تھا۔ لیکن اسی دوران مجھے ایک تیسری کلاس کے بچے محمد ارشد ولد رند علی کا جواب سن کر بہت حیرانی ہوئی۔ جب میں نے محمدارشد سے پوچھا کہ تم تعلیم سے فارغ ہو کر کیا بنو گے تو اس نے فوراً کہا میں ایف سی بنوں گا۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ یہ ایک فراری کا بیٹا ہے اس کے باوجود میں نے پوچھا کہ ایف سی کو تو دہشت گردوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ ارشد نے دو ٹوک جواب دیا میں بھی لڑوں گا۔ میرا اگلا سوال یہ تھا کہ اگر دوسری طرف سے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر تمھارا دوسرا بھائی آ کر ایف سی کے ساتھ لڑنے لگا تو پھر کیا کرو گے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس کا جواب پھر ذرا شدت میں تھا کہ میں اس کو مار دوں گا۔ میں نے پھر سوال کیا کہ اگر دوسری طرف تمھارا باپ شدت پسندوں کے ساتھ مل کر ایف سی پر حملہ کرے تو پھر تمھارا کیا ردعمل ہوگا۔ اس کا پھر وہی جواب تھا کہ میں اس کو بھی گولی مار دوں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بچے کے چہرے پر سرخی کچھ زیادہ ہی دکھائی دینے لگی۔ میں نے کہا کہ آپ کو بھائی اورباپ کی طرف گولی چلاتے ہوئے کچھ خیال نہیں آ ئے گا تو ا س نے کہا’’ پاکستان میرا ملک ہے میری ماں ہے۔ بلوچستان میری ماں ہے، یہاں کی مٹی میری ماں ہے۔ جو بھی میرے ملک میری ماں کی شہرت کو نقصان پہنچائے گامیں اسے گولی مار دوں گا‘‘ان تمام باتوں کے دوران اس بچے کی آنکھیں، چہرے کی سرخی اور غصے سے کاپنتے ہوئے ہونٹ جن جذبات کا اظہار کر رہے تھے ان کو شاید میں ساری زندگی نہ بھلا سکوں۔ محمد ارشد کے والد کا نام رند علی قبیلہ بگٹی اور قوم بجلانی ہے،وہ پٹ فیڈر نہر کی آر ڈی 238پر وارداتیں کرتا تھا اور اس نے عوام اور سرکاری املاک کو بہت نقصان پہنچایاتھا۔ اب جب اس نے دیکھا کہ میرے بچوں کی اس طرح تربیت کی جار ہی ہے کہ میرا خاندان اور میرے علاقے کا آنے والا مستقبل بہت روشن ہوگا تو وہ رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے باقی بچے بھی پڑھ رہے ہیں۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...