پاکستان کی وہ انتہائی بڑی یونیورسٹی جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے ایک ساتھ بیٹھنے اور گھومنے پھرنے پر پابندی لگا دی گئی ،سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا

پاکستان کی وہ انتہائی بڑی یونیورسٹی جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے ایک ساتھ بیٹھنے ...
پاکستان کی وہ انتہائی بڑی یونیورسٹی جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے ایک ساتھ بیٹھنے اور گھومنے پھرنے پر پابندی لگا دی گئی ،سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا

  



چارسدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کیمپس کی حدود میں طلبا اور طالبات کے اکھٹا بیٹھنے اور گھومنے پھرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی کے چیف پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل کے دستخط شدہ مختصر اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی حدود میں طلبا و طالبات کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا طالبات کا یونیورسٹی کے مرد ملازمین کے ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کی حدود میں سگریٹ نوشی کرنے، چھتوں پر چڑھنے، اور داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیپس کی حدود میں مردوں کے چادر پہننے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

ادھر سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پر باچا خان یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کو بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا ہے جس پر صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

پشاور کے نوجوان صحافی عبدالروف یوسفزئی نے اعلامیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ' یہ فیصلہ ہمیں ملک میں اعلیٰ تعلیم کی پستی کی حالت بتاتا ہے۔'

ایک اور صارف ساجد علی لکھتا ہے کہ اس فیصلے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، کئی مغربی ممالک میں ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں سگریٹ نوشی پر کوئی پابندی نہیں۔

خیال رہے کہ باچا خان یونیورسٹی پانچ سال قبل سابق عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں قائم ہوئی تھی۔

تاہم یہ یونیورسٹی جنوری 2016 میں اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جب اس ادارے میں صبح کے وقت چار شدت پسند یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور ان کے حملے میں 14 طلبہ سمیت 18 افراد شہید ہو گئے تھے۔

مزید : قومی


loading...