القدس کے مسئلے پر گفتگو سے انکار، آسٹریلوی شخص نے نمازی کی ناک توڑ دی

القدس کے مسئلے پر گفتگو سے انکار، آسٹریلوی شخص نے نمازی کی ناک توڑ دی
القدس کے مسئلے پر گفتگو سے انکار، آسٹریلوی شخص نے نمازی کی ناک توڑ دی

  



سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) نامعلوم آسٹریلوی شہری نے مسجد آسٹریلیا میں قائم "عمر بن الخطاب" میں عشاءکی نماز کے بعد داخل ہو کر ایک نمازی کے ساتھ عرب اسرائیلی تنازع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے موضوع پر گفتگو شروع کر دی، نمازی نے اس شخص کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کرنے سے صاف انکار کر دیا،بات سے انکار کرنے پر نامعلوم شہری نے نمازی کے منہ پر زور دار مکا مار کر اس کی ناک توڑ دی۔

کلبھوشن کی اہل خانہ سے ملاقات کروانے کا صلہ بھارت نے دیدیا ، بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے تین جوان شہید

اسلامک سوسائٹی آسٹریلیا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے ، جو مسجد ”عمر بن الخطاب “ میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے، وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نامعلوم شخص اچانک مسجد میں پہنچا اور وہاں موجود دو افراد کی جانب بڑھا۔ ان دو میں سے ایک شخص تو فوری طور پر وہاں سے د±ور چلا گیا تاہم دوسرا اپنی جگہ پر رہا۔ نامعلوم شخص نے اس نمازی پر سوالات کی بارش کر دی تاہم نمازی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر سوال پوچھنے والا شخص چراغ پا ہو گیا اور اس نے چلّاتے ہوئے کہا کہ "تمہارا اس حوالے سے کوئی موقف تو ہونا چاہیّے"۔ اس کے بعد ایک زور دار مکّا مار کر نمازی کی ناک توڑ دی جس سے خون بہنے لگا۔ حملہ آور دوسرا مکا مارنے والا تھا مگر اچانک وہاں سے فرار ہو گیا۔ نامعلوم شخص کے ہاتھوں زخمی ہونے والا نوجوان بھی آسٹریلوی باشندہ ہے جس نے 10 برس قبل اسلام قبول کیا تھا۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلامک سوسائٹی کے سربراہ زریقہ کے مطابق مسجد کے اندر سیکیورٹی کیمرے کی وڈیو پولیس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس کے ذریعے "نفرت پر مبنی" اس جرم کے مرتکب شخص کی شناخت کر لی جائے گی۔

ویڈیو دیکھیں:

مزید : بین الاقوامی


loading...