چائے کی پیالی میں طوفان(4)

چائے کی پیالی میں طوفان(4)
چائے کی پیالی میں طوفان(4)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نہایت عرق ریزی اور تحقیق کے بعد یہ چشم کشا حقیقت سامنے آئی ہے کہ جیسے ملک کی بیورو کریسی، پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کی شفاف پالیسیز کو تسلیم کرنے اور ملک کو معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے ان کے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے ہچکچا رہی ہے بالکل اسی طرح میڈیا میں بھی بعض ایسے افراد موجود ہیں جو کسی بھی طرح یہ حقیقت ماننے کو تیار نہیں کہ کفایت شعاری اور طرز حکمرانی میں تبدیلی کی وجہ سے اب انہیں وہ سب کچھ نہیں مل سکتا جو سابق ادوار حکومت میں ملتا رہا ہے۔

اور یہ افراد اخبارات کے مالکان نہیں بلکہ ان کے وہ خود ساختہ چہیتے ہیں جو اپنے ذاتی اور سطحی مفادات کے لیے ٹیلی ویڑن انڈسٹری اور اخبارات کے مالکان کے نام پر کارکنوں کی برطرفیوں میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم پر میڈیا کے خلاف بے جا پابندیوں اور بقایا جات روکنے تک کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اکتوبر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے وزیراعظم کو اخباری صنعت اور الیکٹرانک میڈیا کے مسائل سے آگاہ کیا اور قومی میڈیا کی بقا کی خاطر یہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر میڈیا کو یقین دلایا کہ موجودہ دور حکومت میں اسے اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی میسر ہوگی اور میڈیا کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ ان کے بقول آج میڈیا کو جتنی آزادی حاصل ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بقایاجات کی ادائیگیوں کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر نیوز پرنٹ پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے۔

ہم میڈیا کی مثبت تنقید کا خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اقتصادی مسائل کے سبب میڈیا کو بھی مسائل کا سامنا ہے تاہم ان مسائل پر جلد قابو پالیا جائے گا۔ دوران ملاقات میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور دوسرے مخالف امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

نومبر میں وزیراعظم عمران خان نے سرکاری اداروں کے ذمہ میڈیا کے بقایاجات کی فوری ادائیگی کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا اداروں کی مشکلات سے بہ خوبی آگاہ ہیں اور میڈیا ورکرز کو بے روزگار نہیں ہونے دیں گے اس لیے میڈیا کے تمام تصدیق شدہ بقایاجات فوری طورپر ادا کیے جائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتوں نے سرکاری اشتہارات کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا جب کہ موجودہ حکومت میرٹ پر اشتہارات جاری کرے گی۔ سرکاری اداروں کو میڈیا اداروں کے بقایاجات فوری طورپر ادا کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

ان تمام اقدامات کے باوجود اب بھی وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر میڈیا سنسر شپ تک کا الزام عائد کیا جاتا ہے جس کا مقصد قومی اور بین الاقوامی سطح پر پی ٹی آئی حکومت کو بدنام کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔سابقہ حکومتوں نے مصنوعی اور سیاسی طریقوں سے میڈیا انڈسٹری کا کاروباری حجم تیس سے پینتیس ارب روپے تک پہنچا دیا تھا جبکہ اس کا اصل حجم بیس ارب سے بھی کم تھا۔ شاید وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کا قصور یہی ہو کہ اب سرکاری اشتہارات سیاسی وابستگیوں کے بجائے میرٹ پر ملیں گے۔
میڈیا انڈسٹری اور خاص طور پر اخبارات میں مالکان کا نام استعمال کر کے اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے خود ساختہ خداؤں نے پی ٹی آئی حکومت کی حقیقت پسندانہ پالیسیوں کو میڈیا انڈسٹری کے لیے نام نہاد مالی بحران قرار دیتے ہوئے تین ہزار سے زائد اخباری کارکنوں کو ملازمتوں سے برطرف کر دیا۔اسی مبینہ ‘مالی بحران’ کو بنیاد بنا کر پاکستان میں میڈیا کا سب سے بڑا ادارہ سمجھے جانے والے جنگ گروپ نے پشاور، کراچی اور لاہور سے شائع ہونے والے پانچ اخبارات اور دو ایڈیشنز کو بند کر کے تقریباً پانچ سو کے قریب ملازمین کو فارغ کر دیا۔

بند ہونے والے اخبارات میں روزنامہ عوام، ڈیلی نیوز، روزنامہ انقلاب، پشاور اور فیصل آباد سے شائع ہونے والے جنگ کے دو ایڈیشنز اور دو ڈمّی اخبارات پاکستان ٹائمز اور وقت شامل ہیں۔ان سات میں سے چار اخبارات لاہور سے شائع ہو رہے تھے جبکہ دو کراچی اور روزنامہ جنگ کا ایک ایک ایڈیشن پشاور اور فیصل آباد سے شائع ہو رہا تھا۔

بند ہونے والے روزناموں میں تین شام کے اخبارات شامل ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے کراچی اور لاہور سے شائع ہو رہے تھے۔برطرف ہونے والے ملازمین کا تعلق پشاور، لاہور، کراچی، فیصل آباد اور کوئٹہ سے ہے اور ان میں صحافیوں کے علاوہ اخباری کارکن بھی شامل ہیں۔
برطرف ملازمین کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ سے حکومت کی طرف سے اخبارات کو اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں جبکہ جائیداد کی خرید و فروخت یا ریئل اسٹیٹ کا کاروبار بھی ڈالر کی قمیت میں بار بار اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مندی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بیشتر روزنامے ‘مالی بحران’ کا شکار ہو گئے ہیں۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -