میڈیا ،سیاسی جماعتیں حقیقت پسند بنیں ،ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں

میڈیا ،سیاسی جماعتیں حقیقت پسند بنیں ،ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں
میڈیا ،سیاسی جماعتیں حقیقت پسند بنیں ،ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں

  

تجزیہ:۔ ناصرہ عتیق

عجیب ماحول بن چکا ہے۔ سچ اور جھوٹ کا پتہ لگانا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی بنا پر کرپشن، اقربا پروری،سفارش اور بد عنوانی ہمارے مزاج اور سماج میں رچ بس گئے ہیں من حیث القوم ہم اخلاقی اور تہذیبی انحطاط کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر چکے ہیں۔سر گودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں جاوید احمد کی ہسپتال میں ہتھکڑی لگی لاش کا ہر طرف تذکرہ ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی سرخیوں اور ٹاک شوز کا موضوع یہی ہے۔ حکومت کی بے حسی،ظالمانہ کارروائیوں اور یکطرفہ احتساب کا کوئی زاویہ پوشیدہ نہیں رہنے دیا گیا۔حکومت مخالف جذبات کو ابھارنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔مگر افسوس کسی میڈیا ہاؤس نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ یہ پروفیسر صاحب یہاں تک پہنچے کیسے تھے انہوں نے ایسا کیا کام کیا تھا کہ اداروں نے انھیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ اس میں دو رائے تو ہو ہی نہیں سکتی کہ بیماری کی شکایت پر مرحوم کو فوری طور پر علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جانی چاہئے تھیں اور ان کی ہتھکڑی اس سارے عمل سے پہلے کھل جانی چاہئے تھیں اس پر ایک انکوائری کمیٹی کام کر رہی ہے وہ اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔کچھ عرصہ پہلے بھی جب پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا تھا تب اس پر بھی طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ ایک پروفیسر اور استاد کو ہتھکڑی لگا دی گئی ہے۔ لیکن تصویر کے سارے رخ سامنے آنے چاہئیں وہ بھی جن پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔متوازن، منصفانہ اور جمہوری معاشرہ کے لیے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا میڈیا، سیاسی و سماجی رہنماؤں کے علاؤہ گھروں میں بیویاں، مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

تجزیہ -