اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 99

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 99

  

یہ کوٹھری کیا تھی ایک تنگ و تاریک کھوہ تھی جہاں زمین پر چترالی نیم بے ہوش پڑی تھی۔ میں اسے اس اندھیری کھوہ سے نکال کر باہر والی کوٹھری میں لے آیا۔ میں ایس ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا کہ بدقسمت ڈاکو نے موقع پاکر میرے قریب پڑی ہوئی ننگی تلوار اٹھالی اور پوری طاقت سے میرے سر پر وار کردیا۔ ظاہر ہے میری بجائے اگر کوئی دوسرا انسان ہوتا تو اس کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے ہوگئے ہوتے لیکن وہاں میں بیٹھا تھا۔ تلوار کی ضرب بھرپور تھی۔ چنانچہ وہ میری پتھر ایسی کھوپڑی سے ٹکرا کر جھنجھنائی اور ٹوٹ گئی۔ ڈاکو یہ سمجھا کہ شاید میں نے اپنے سر پر لوہے کا پترا چڑھا رکھا ہے۔ اس نے مجھے گردن سے پکڑلیا اور مجھ سے الجھ گیا۔ وہ کافی ہٹا کٹا آدمی تھا اور مجھ سے دو گنے وزن کا تھا۔ مگر میری طاقت کے سامنے اس کی حیثیت بالکل ایسی تھی جس طرح کسی ہاتھی کے مقابلے میں کوئی چوہا سامنے آگیا ہو۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 98 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چترالی ابھی تک بے ہوش پڑی تھی۔ یہ کم بخت تیسرا ڈاکو میرے لئے سخت پریشانی کا باعث بنا ہوا تھا۔ میں اسے ہلاک کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس خیال سے میں نے اس کی کنپٹی پر ایک ہلکا سا مکا جمادیا وہ ایک طرف کو گرا اور بے ہوش ہوگیا۔

میں نے چترالی کو کاندھے پر رکھا اور زینہ چڑھتا ہوا تہہ خانے سے باہر برآمدے میں آگیا۔ تازہ ہوا میں سانس لینے سے چترالی کو ہوش آگیا۔ میں نے اسے زمین پر لٹادیا اور بتایا کہ جلمیک اس کا محبوب بھی میرے ساتھ ہے اور کھنڈر کے باہر کھڑا اس کا انتظار کررہا ہے۔ چترالی کا چہرہ ڈاکوؤں کے خوف سے اترا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر اور اپنے محبوب کا سن کر اس کے چہرے پر ہلکی سی سرخی آگئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔

’’بھگوان کے لئے مجھے یہاں سے نکال کر لے چلو۔‘‘

خدا جانے وہ دونوں ڈاکو باہر نکل کر کس طرف چلے گئے تھے۔ دن کی روشنی چاروں طرف پھیل چکی تھی۔ میں نے چترالی کو گھوڑے کی پیٹھ پر بٹھایا اور اسے ساتھ لے کر جلمیک کے پاس آگیا جو میرے ہمراہ ۔۔۔ چترالی کو۔۔۔ دیکھ کر وفور مسرت میں اوٹ سے باہر نکل آیا تھا۔ اس نے اپنی محبوبہ اور ہونے والی بیوی کو اپنے گھوڑے پر بٹھایا میں بھی گھوڑے پر سوار ہوگیا اور ہم گھوڑوں کو سرپٹ دوڑاتے واپس دریا کی طرف چل دئیے۔ دریا کو ایک بار پھر پارکیا۔ دوسرے کنارے پر پہنچ کر جلمیک اور چترالی نے میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے چترالی سے اپنے ساپ دوست کا قیمتی مہرہ لے لیا کیونکہ وہ دونوں جنوب کی طرف کسی دور دراز علاقے میں جانا چاہتے تھے، انہیں رخصت کرنے کے بعد میں علاقہ گجرات کے اسی مقام کی طرف چل دیا جہاں سلطان محمود نے اپنا عارضی ہیڈکوارٹر بنایا ہوا تھا۔

اس وقت سلطان محمود غزنوی اس علاقے کے ہندو سرداروں اور چھوٹے رجواڑوں کے ہندو حکمرانوں کو مطیع بنانے کی مہم میں مصروف تھا۔ سومنات کا مندر مسلمانوں کے قبضے میں آچکا تھا۔ اس کا بڑا بت اور باقی تمام چھوٹے چھوٹے بت پاش پاش کئے جاچکے تھے اور ان کے ٹکڑے راستوں پر بکھیر دئیے گئے تھے تاکہ وہ پامال ہوتے رہیں۔ سومنات کا مندر ویران تھا۔ مگر وہاں ایک پنڈت ابھی تک رہ رہا تھا۔ اس نے غزنوی فوج کے نائب سپہ سالار سے وہاں رہنے کی اجازت لے لی تھی چونکہ اس میں بظاہر کوئی قباحت نظر نہیں آتی تھی اس لئے پنڈت کو اجازت دے دی گئی تھی۔ مندر میں نہ ناقوس بجتے تھے اور نہ صبح شام بھجنوں کی آوازیں بلند ہوتی تھیں۔ تمام پجاری اور دیوداسیاں گرفتار ہوکر غزنوی لشکر کی قید میں پڑی تھیں۔

یہ پنڈت اگرچہ ایک بے ضرر پجاری کی طرح سومنات کے ویران اور اجڑے ہوئے مندر میں پڑا تھا لیکن اس کے اندر مسلمانوں سے انتقام لینے کی آگ ہر دم سلگتی رہتی تھی۔ اس پنڈت کو اچھی طرح معلوم تھا کہ قریبی ریاست گوالیار کا راجہ ارجن سلطان محمود سے بری طرح شکست کھاچکا ہے اور اس نے سلطان محمود کی اطاعت قبول کرلی ہے اور قلعے کے ایک گوشے میں پڑا رہتا ہے۔ پنڈت کا ایک خاص مخبر پجاری گنگو تھا۔ گنگو نے ایک روز پنڈت کو آکر بتایا کہ گوالیار کا راجہ شکست کھانے کے بعد زخمی سانپ کی طرح پیج و تاب کھا رہا ہے اور سومنات مندر کی شان و شکوہ کو دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے اور مسلمانوں سے زبردست بدلہ لینے کی کوشش میں ہے۔پنڈت کے چہرے پرہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس نے اپنے مخبر گنگو سے کہا ’’گنگو! سومنات دیوتا کا گھر اجڑ گیا ہے۔ مگر سومنات دیوتا اسی جگہ موجود ہے۔ وہ مجھے ہر رات خواب میں آکر کہتا ہے کہ مسلمانوں سے میری بے عزتی اور میری تباہی کا بدلہ لو۔‘‘

گنگو مخبر نے ہاتھ باندھ کر کہا

’’مہاراج! مسلمانوں کا لشکر بہت طاقتور ہے۔ سلطان محمود کی فوج کا ہم مقابلہ نہیں کرسکتے۔‘‘

پنڈت مکاری سے مسکرایا اور بولا’’گنگو! مقابلہ ہم نہیں کریں گے۔ مقابلہ دیوتا سومنات کرے گا۔مگر دیوتا سومنات کو طاقت دینے اور آکاش کے جنگجو دیوتاؤں کی امداد حاصل کرنے کے لئے گوالیار کے راجہ ارجن کی ایک شرط پوری کرنی ہوگی۔‘‘

’’مہاراج! وہ کونسی شرط ہے؟ آپ مجھے بتائیں میں راتوں رات گوالیار کے راجہ ارجن کے پاس پہنچ کر اسے آپ کا پیغام پہنچادوں گا۔‘‘

پنڈت نے کوٹھری کا دیا بجھادیا اور گنگو مخبر کے کان میں وہ شرط بتائی جو اسے گوالیار کے راجہ تک پہنچانی تھی۔ گنگو نے سرگوشی میں کہا ’’مہاراج! یہ بڑا خطرناک اورمشکل کام ہے۔ کیا گولیار کا ہارا ہوا راجہ یہ شرط پوری کرسکے گا۔‘‘ پنڈت نے تحکمانہ انداز میں کہا

’’گوالیار کے راجہ کو جاکر کہو کہ سومنات دیوتا کے سب سے بڑے اور مہا پجاری پنڈت برج داس کا حکم ہے کہ مسلمانوں کو فوج کو تباہ کرنے اور سومنات کی تباہی کا بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ مندر کو پھر سے آبادکرنے کے لئے جو شرط لگائی گئی ہے اسے ہر حالت میں پورا کیا جائے۔ جاؤ اورج تنی جلدی ہوسکے مجھے واپس آکر یہ خبر سناؤ کہ راجہ ارجن تیار ہے۔‘‘

’’جو حکم مہاراج!‘‘گنگو مخبر نے جوگیوں کا بھیس بدلا۔ گھوڑے پر بیٹھا اور راتوں رات گولیار کی طرف نکل گیا۔

گوالیار کا راجہ ارجن نے اپنے رشیوں اور منتریوں کے ساتھ محل کے گوشے میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔ رات کا دوسرا پہر تھا۔ ایک آدمی کی ڈیوٹی محل کے باہر لگادی گئی تھی تاکہ وہ خیال رکھے کہ قلعے کی حفاظت کرنے والے مسلمان سپاہیوں کا ادھر سے گزرتو نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مسلمان سپاہی ادھر سے گزرے تو فوراً راجہ ارجن کو آکر اطلاع کردی جائے۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 100 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار