وکلاء کی ہڑتال جاری، جھگڑا طے نہ ہوا، وکیل رہا نہ ہوسکے

وکلاء کی ہڑتال جاری، جھگڑا طے نہ ہوا، وکیل رہا نہ ہوسکے

  

لاہور میں امراضِ قلب کے ہسپتال والے واقع پر اظہارِ دُکھ اور افسوس کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ کئی اور واقعات ظہور پذیر ہوئے،جن کی وجہ سے اس مسئلے پر ردعمل میں کمی آ گئی تاہم فاضل عدالت عالیہ کی طرف معاملے کو افہام و تفہیم سے نمٹانے کی ہدایت پر بھی تاحال مکمل عمل نہیں ہو سکا، وکلاء صاحبان کی احتجاجی ہڑتال جاری ہے اور اب تو انہوں نے عدالتی لاک ڈاؤن کا بھی اعلان کیا ہے۔اگرچہ تادم تحریر اس پر عمل نہیں ہوا،حمزہ شہباز کو احتساب عدالت میں پیش نہ کیا جا سکا تاہم وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی نے نہ صرف ضمانت قبل از گرفتاری کرائی،بلکہ توثیق کے لئے بھی وکلاء کے ساتھ پیش ہو گئے۔یوں تاحال لاک ڈاؤن والا معاملہ سامنے نہیں آیا۔البتہ ہڑتال جاری ہے اور موکل خوار ہو رہے ہیں،پیشی پر وکلاء دستیاب نہیں اور عدالت سے تاریخ ملتی ہے، بعض حلقوں کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ مفاہمت کے عمل کو بعض عناصر کی طرف سے سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لاہور بھی آئے اور یہاں دو روز مصروفیت میں گذارے،رائیونڈ روڈ پر ایک فارم ہاؤس میں کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کیا اور منور انجم چودھری کے صاحبزادے کی دعوتِ ولیمہ میں بھی شرکت کی۔انہوں نے بلاول ہاؤس میں سنٹرل پنجاب اور لاہور کی قیادت سے مشاورت بھی کی۔بلاول بھٹو زرداری ان دِنوں برہمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،کارکنوں کا کنونشن راولپنڈی میں 27دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کی برسی کے جلسہ میں کارکنوں کی شرکت یقینی بنانے کے لئے تھا،بلاول بھٹو نے اس کنونشن میں بھی وزیراعظم پر تنقید کی اور اعلان کیا کہ پیپلزپارٹی راولپنڈی آ رہی ہے،اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنی پالیسیوں کے باعث عوام کے مسائل کم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ ہی کیا ہے اور آئی ایم ایف کے ایما پر مہنگائی بھی کر دی ہے۔انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ اگلا سال نئے انتخابات اور اس حکومت کے خاتمے کا ہے۔

پیپلزپارٹی کی شہید چیئرمین محترمہ بے نظیر بھٹو کے ترجمان اور پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چودھری منور انجم کے صاحبزادے کی دعوتِ ولیمہ میں احباب اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی،بلاول بھٹو اور یوسف رضا گیلانی بھی آئے اور دیر تک رہے۔بلاول مسکراتے چہرے کے ساتھ کارکنوں اور رہنماؤں سے بھی ملتے رہے۔وہ بااعتماد اور خوش نظر آ رہے تھے۔

لاہور میں کوڑا کرکٹ اٹھانے کا مسئلہ بن گیا، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ٹھیکیدار حضرات نے عدم ادائیگی کی وجہ سے کوڑا اٹھانے سے انکار کر دیا۔گزشتہ ہفتے سے کوڑا نہیں اٹھایا جا سکا اور شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں،تعفن سے گذرنا مشکل ہو رہا ہے، خصوصی طور پر شمالی لاہور متاثر ہے،لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا کنٹریکٹ مکمل ہونے والا ہے اور پنجاب حکومت نے اصولی فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کی توثیق نہیں کی جائے گی،تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کو ادائیگی نہیں ہوئی۔اگرچہ کمپنی کام کر رہی ہے اور کوڑا بھی اٹھانا شروع کر رکھا ہے،لیکن ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں اور فوری طور پر3 ارب روپے کی ضرورت ہے۔وزیر اطلاعات فیض الحسن چوہان کے مطابق حکومت کی پوری توجہ ہے اور وزیراعلیٰ نے بھی خصوصی ہدایت کی، ہم جلد ہی سارا کوڑا اٹھوا دیں گے،تاہم ایسا ممکن تو نہیں ہوا کہ جتنا کوڑا اٹھایا جاتا ہے،اس سے زیادہ جمع ہو جاتا ہے، کمپنی اور حکومت بے بس نظر آ رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کسی معقول انتظام کے بغیر ادائیگی روکنا اور کمپنی کے کام میں روڑے اٹکانا کہاں کی ”گڈ گورننس“ ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -