حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں تعلقات کار کی صورت نظر نہیں آتی

حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں تعلقات کار کی صورت نظر نہیں آتی

  

سی، کے، حسین سے

جب بھی حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان تعلقات کار کی کوئی صورت نظر آتی ہے کوئی ایسا واقع ہو جاتا ہے،جس کے باعث پھر سے حالات پہلی جگہ واپس آ جاتے ہیں،جمعیت علمائے اسلام(ف) کے دھرنے اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی لندن روانگی کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا کہ اب حکمرانوں کے لئے راستہ صاف ہو گیا اور کہا جانے لگا کہ مولانا فضل الرحمن نے استعفا استعفا کھیلا ہی اسی لئے تھا کہ حزبِ اختلاف کی شدت میں کمی آ جائے اور ایسا ہوابھی، اس عرصہ میں مسلم لیگ(ن) نے بھی چُپ سادھ لی تھی اور برائے نام تنقید ہوتی تھی،تاہم پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلسل اپنی مہم شروع کئے ہوئے تھے اور آصف علی زرداری کی بیماری کے حوالے سے ضمانت کے بعد فریال تالپور کی ضمانت نے بھی فرق نہیں ڈالا تھا۔ایسا محسوس ہونے لگا کہ اندرونی سیاست میں ٹھہراؤ آئے گا، لیکن یہ بھی سہانا خواب ثابت ہوا۔جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل6 کے مقدمہ کا فیصلہ ہنگامے کا ذریعہ بن گیا اور حکومت کھل کر حمایت میں آ گئی اور فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے اور فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان بھی ہو گیا۔اگرچہ تاحال نہ تو ریفرنس دائر ہوا اور نہ ہی اپیل دائر کی گئی کہ ریفرنس میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ کسی جج کے فیصلے کے خلاف اپیل تو ہو سکتی ہے، لیکن اس بناء پر ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا،اس کے لئے اور شواہد اور الزام تلاش کرنا ہوں گے،شاید یہی وجہ تاخیر کا باعث ہے،جبکہ اس کیس میں مستغیث خود حکومت تھی، اور یہ بھی ایک قانونی مسئلہ ہے کہ کیا مستغیث اپنے حق میں فیصلے کے خلاف خود اپیل کر سکتا ہے؟یا پھر فیصلے کے بعد آرٹیکل6 کا مقدمہ واپس لیا جا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں حکومت کی قانونی ٹیم کو راہ تلاش کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کی خاموشی بھی کسی کام نہ آئی اور جو رکن اکیلا ہی تنقید کا راستہ اپنائے ہوئے تھا،اسے بھی اندر کر دیا گیا۔ احسن اقبال کو نیب نے نارروال سپورٹس کمپلیکس کیس کے سلسلے میں 23 دسمبر کو طلب کیا اور یہ طلبی سوال و جواب کی بجائے ان کی گرفتاری پر منتج ہوئی۔یوں یہ محاذ آرائی ہی کا سلسلہ بنا اور مسلم لیگ کے حلقوں نے سخت اضطراب محسوس کیا ہے۔نواز شریف اور شہباز شریف لندن میں ہیں۔نواز شریف کے ٹیسٹوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دو تین مختلف ہسپتالوں اور نجی میڈیکل کلینک سے رجوع کیا گیا ہوا ہے، بقول حسین نواز ابھی تک تشخیص مکمل نہیں ہو سکی، چنانچہ ان کی آٹھ ہفتے والی مہلت بھی پوری ہو گئی، اب مزید وقت کے لئے بھی رپورٹ کے ساتھ نئی درخواست دائر کی جائے گی۔

وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے جس کا اجلاس وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کی صدارت میں ہوا تھا، مریم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کر دی اور بابر اعوان نے کہا یہ قانون کی پاسداری ہے کہ ایک سزا یافتہ شخصیت کو باہر جانے کی اجازت دینے کا اختیار ہی نہیں ہے اور اجازت نہ دینے کا فیصلہ بالکل قانونی ہے۔یوں مریم نواز شریف کی بیرون ملک روانگی اب پھر سے عدالتی فیصلے کی مرہون منت ہو گی۔تحریک انصاف والوں کے مطابق پہلے جو لوگ گئے وہ ابھی تک وہیں ہیں اور ان کی واپسی کا کوئی علم نہیں ہے،اس لئے بیٹی کی بے قراری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہو گی۔

ادھر پیپلزپارٹی کی طرف سے حکومت کے ساتھ قانون سازی میں تعاون کے اعلان کے باوجود حالات بہتر نہیں ہو پائے اور راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات قرار دے کر پیپلزپارٹی کو لیاقت باغ میں جلسہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے،جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس مرتبہ اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کی برسی یہاں منانے کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ ہر قیمت پر یہاں جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔یہ انکار محاذ آرائی ہی کا ذریعہ بنے گا کہ پیپلزپارٹی اس جلسہ کے سلسلے میں کافی آگے جا چکی ہوئی ہے۔بلاول کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف جمہوری اقدار پر یقین ہی نہیں رکھتی،پیپلزپارٹی پارلیمینٹ میں عوامی بہبود اور قانون سازی میں تعاون پر آمادہ ہے،لیکن حکومت ایسا نہیں چاہتی،ابھی تک پارلیمینٹ قانون سازی کا کام نہیں کر سکی۔

یہ حالات و واقعات استحکام کے منافی ہیں اور حکومتی اقدامات سے یقینا محاذ آرائی ہی بڑھی ہے، مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں کے لئے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔احسن اقبال کی گرفتاری اور پیپلزپارٹی کو برسی کے جلسے کی اجازت نہ دینا حالات کو بگاڑ کی طرف ہی لے جائے گا کہ نیب نے تو بلاول بھٹو زرداری کو 24 دسمبر کے لئے طلب کیا،انہوں نے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے اور ان کے وکلاء نے نوٹس طلبی کا جواب دیا، بلاول برسی کے جلسے میں خصوصی خطاب کرنا چاہتے ہیں،جو اب ہو گا یا نہیں یہ آئندہ حالات پر منحصر ہے،حکومت کو یہ نوٹس لینا چاہئے اور اس جلسے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہئے۔وزیراعظم کی صدارت میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی وزیراعظم نے ون او ون ملاقات ہوئی،گلے شکوے ہوئے اور وزیراعلیٰ نے مسائل بھی پیش کئے۔وزیراعظم نے کراچی میں ملاقات کا یقین دلایا۔ وزیراعظم 27دسمبر کو جائیں گے،اس روز محترمہ شہید کی برسی راولپنڈی میں ہے۔یوں یہ ملاقات بھی مشکوک ہے کہ مراد علی شاہ نے یہاں شرکت کرنا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -