افغانستان میں امن کے لئے 5 عوامل

افغانستان میں امن کے لئے 5 عوامل

  

افغانستان 35 سال سے حالت جنگ میں ہے، صرف ایک وسیع البنیاد مصالحت ہی اس جنگ کو ختم کرسکتی ہے۔ امن مذاکرات اس عمل کا ناگزیر حصہ ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنے کے لئے یہ پانچ عوامل ضروری ہیں:-1 تمام افغانوں کی نمائندگی ہونی چاہئے: امن مذاکرات میں تمام افغانوں کونمائندگی دیئے جانے کی ضرورت ہے، خواہ یہ شرکاءحکومتی نمائندے ہوں، باغیوں کی صفوں سے تعلق رکھتے ہوں یا معتبر سیاسی یا مذہبی رہنماﺅں، سول سوسائٹی کے نمائندے بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل ہوں جو تیسرے اہم گروپ کے طور پر ابھر رہے ہیں، نوجوان افغانوں کی بھی نسل ہے۔ افغانستان کی آبادی کا 60 فی صد حصہ 25 سال سے کم عمر کا ہے، ان کی خواہشات کا سابق جہادیوں، طالبان یا جنگی سرداروں سے کوئی تعلق نہیں، انہیں بھی موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ -2 امن مذاکرات افغانوں کی سربراہی میں ہونے چاہئیں: مذاکرات افغانوں کی سربراہی میں ہونے چاہئیں اور انہیں امریکہ کی پرخلوص حمایت حاصل ہونی چاہئے۔ اسلام آباد کو بے پناہ برتری حاصل نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کو اس طرح کا اثرورسوخ دینے کے لئے تجارتی راستوں اور سرحدی تنازعات کا حوالہ دیا جاتا ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف یہ ملک ہی افغانستان کے لئے واحد راستہ نہیں ہے۔ ایران اور ایشیا کی جمہوری ریاستیں بھی یورپ، روس اور اس سے دور واقع ممالک کے لئے تجارتی راستے فراہم کرتی ہیں۔ -3 مذاکرات شفاف ہونے چاہئیں: امن مذاکرات شفاف ہونے چاہئیں، کوئی خفیہ معاہدے نہ کئے جائیں، جس شخص نے بھی افغانستان میں کام کیا ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ افغانوں کا یہ خیال ہے کہ انہیں امداد دینے والے ممالک نے بیوقوف بنایا ہے۔ -4 غیر جانبدار ملک مذاکرات کا جائزہ لے: مصالحانہ کوششوں کا کم از کم ابتدائی سطح پر غیر نیٹو اور غیر جانبدار ملک جائزہ لے۔ حال ہی میں افغانستان پر ترتیب دی جانے والی گول میز کانفرنس جن کو سوئس پیس نے منظم کیا اور جنیوا سنٹر فار سیکیورٹی پالیسی نے سوئٹزرلینڈ کو اس مقصد کے لئے ممکنہ مقام تجویز کیاہے، سوئٹزرلینڈ کی حکومت اس مقصد کے لئے پیش رفت کے لئے تیار ہے۔ افغانوں کے ثالثی کے روایتی اداروں کو بیرونی مداخلت کے بغیر یہ ذمہ داری لینی چاہئے۔ -5 مغرب افغانستان نہیںچھوڑ سکتا: 2014ءکے آخر میں غیر ملکی افواج کے انخلاءکے بعد بھی مغربی ممالک افغانستان نہیں چھوڑ سکتے۔ 1988ءمیں افغانستان سے ریڈ آرمی کے انخلاءکے بعد ایسا کیا گیا جس کے ہولناک نتائج برآمد ہوئے، ایک وحشیانہ خانہ جنگی شروع ہوگئی اور طالبان بھی بطور قوت ابھر کر سامنے آگئے۔ اس مرتبہ مغرب خصوصاً امریکہ کو اس ملک میں طویل المدت ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لئے یہاں موجودگی باقی رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ افغانستان میں مزید اربوں ڈالر ضائع ہوں گے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امن کی بحالی کے لئے شروع کئے گئے ابتدائی منصوبوں پر توجہ مرتکز کی جائے۔ افغانستان کے قدرتی وسائل، ثقافتی اور اقتصادی صلاحیت کو مدنظر رکھا جائے، افغانستان کا اچھا مستقبل ہوسکتا ہے، لیکن یہ صورت حال اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب مغرب امن قائم کرنے کے لئے سنجیدہ ہو۔ اس کا یہ بھی مفہوم ہے کہ عام افغانوں کے مفادات کے لئے کام کیا جائے۔      (ترجمہ:شاہین مصطفےٰ)  ٭

مزید :

کالم -