این اے 169وہاڑی میلسی ،"گیس دو ووٹ لو"کے بینرزآویزاں ،نظر یاتی ،برادری ،گروپ بند ی سیاست کی چھاپ

این اے 169وہاڑی میلسی ،"گیس دو ووٹ لو"کے بینرزآویزاں ،نظر یاتی ،برادری ،گروپ ...
این اے 169وہاڑی میلسی ،

  

لاہور(شہباز اکمل جندران،معاونت مختار احمد بھٹی بیورو چیف )قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 169میںووٹروں نے سوئی گیس اور دیگر مطالبات کو ووٹ سے مشروط کردیا ۔شہر میں ً گیس دو ووٹ لو ً کے بینر آویز اں ہوگئے۔ امیدواروں نے بھی ووٹروں کو سبز باغ دکھانا شروع کردیئے۔مذکورہ حلقے مےں نئی ووٹرز لسٹ کے مطابق کل ووٹرز کی تعداد 3لاکھ18ہزار24ہے جن مےں مرد ووٹرز کی تعداد1لاکھ82ہزار287اور خواتےن ووٹرز کی تعداد1لاکھ 35ہزار737ہے ۔ےہ حلقہ 22مکمل یو نین کونسلز اور 1جز وی یو نین کو نسل پر مشتمل ہے۔اس حلقہ میں وہاڑی شہر کے علاقوں جن میںمین سٹی ایریا، شرقی کالونی، بھٹہ شادی خان ، بھٹہ اکرام ، مسانی باغ، بھگوان پورہ ،جی بلاک ، سی بلاک ، ایف بلاک ، ڈی بلاک ، ایچ بلاک ، بی بلا ک ، ای بلاک ، اے بلاک ، لیا قت پورہ ، مدینہ کا لونی ، شیخ کا ٹن کا لونی ، سرہند کا لونی ، فیصل ٹا ﺅ ن ، پیپلز کا لونی ، کینال ویو ، کالج ٹاﺅن ، 9-11ڈبلیو بی ، پیرمراد ، انورآباد، مسلم ٹاﺅن ، پرانا لاری اڈہ ، غفور ٹاﺅن ،مکہ ٹاﺅن شامل ہیں جبکہ دیہی علا قوں میں ٹھےنگی، پپلی ،نورشاہ ،سورو موڑ،مترو،کرم پور، سرگانہ اور شتاب گڑھ جیسے بڑے قصبات کے علاوہ دےگر دےہی علاقوں پر مشتمل ہے -اس حلقہ کے شمال مےں ضلع خانےوال،جنوب مےں درےائے ستلج اور تحصیل میلسی کے کچھ علاقے،مشرق مےں تحصیل بورےوالا ، اور مغرب مےں تحصیل میلسی اور شمال مغرب مےں ضلع خانےوال ہے۔ےہ حلقہ دو تحصیلوں وہاڑی اور میلسی پر مشتمل ہے اس مےں زےادہ علاقہ تحصیل وہاڑ´ ی کا شامل ہے۔یہ حلقہ شہری اوردیہاتی علاقوںپرمشتمل ہے۔شہری حلقہ مےںنظریاتی اور برادری کی سیاست کے علاوہ گروپ بندی بھی خاص حیثیت رکھتی ہے ۔ جبکہ دیہی علاقوں میں ذات ، برادری ، دھڑے بندی اور پیر ازم کا زیادہ عمل دخل ہے ۔ جٹ ، ارائےں ، راجپوت ، ملک ‘ اعوان ، رحمانی ، غفاری ، بھٹی ، گجر ، لنگڑےال ،سےد ، شیخ ، گھبےسر، گوندل ،تاڑر،سےال،بھٹی،سپرا،ڈاہا،وصلی،آگوانے، قاضی ، کھچی ، بورانے ، بھارے ، چدھڑ ، کمبوہ ، سگو ،ہنجرا برادرےاںالیکشن پر بھر پوراثر انداز ہوتی ہےں۔مختلف برادرےوں کا تناسب کچھ اس طرح سے ہے ارائےں برادری26فیصد، جٹ برادری15ًؓ فیصد ، راجپوت برادری 16 فیصد ،جوئےہ برادری7فےصد،گجربرادری6فیصد،پٹھان برادری5فیصد،بھٹی برادری5فیصد،کھچی برادری5فیصد اور دےگر برادرےوں کا تناسب15فےصد ہے۔حلقہ این اے 169وہاڑیIIIمیں دیگر بنیا دی مسائل کے سا تھ سب سے اہم مسئلہ سو ئی گیس کا ہے ، شہری علاقوں میں چند علاقے سو ئی گیس کی نعمت سے سرفراز ہیں جبکہ زیادہ علا قے نہ صر ف محروم ہیں بلکہ ان میں ابھی تک سو ئی گیس کی پا ئپ لا ئنیں ہی نہیں بچھا ئی گئیں ۔ ان میں سرفہرست شرقی کا لونی ، دانیوال ٹاﺅن ، مسلم ٹاﺅن ، کالج ٹاﺅن ، بھٹہ شادی خان ، مسانی با غ کے علاوہ شہر کے متعدد علا قے شامل ہیں ۔ یہا ں کے عوام بھر پور تیاریوں میں ہیں کہ جوامیدوار انہیں گیس کی سہو لت مہیا کرے گا وہی ووٹ لے گا ، دانیواں ٹاﺅن کے مکینوں نے تو کا فی عرصہ قبل ہی مین چوک میں بینرآویزاں کردیا تھا کہ "گیس دوووٹ لو"اب یہ بینر مختلف محلوں میں لگا ئے جا نے کی تیاریوں ہو گئیں ہیں ما ضی کی نسبت اب امیدواروں کو گیس سے محروم علاقوں میں عوام کے شد ید ردِ عمل کاسا منا ہو گا اس وقت جو امیدوار میدان میں آئے ہیں ان میں مسلم لیگ(ن) کی موجودہ ایم این اے تہمینہ دولتانہ ، سا بق ایم این اے چوہدری نذیر احمدجٹ آزاد ، موجو د ہ ایم پی اے مسلم لیگ(ق) طا ہر اقبال چوہدری اب این اے169سے مسلم لیگ(ق) اور پیپلزپارٹی کے مشترکہ امیدوار ہوسکتے ہیں کیو نکہ اس حلقہ سے پیپلزپارٹی کا فی الحال کو ئی امیدوار سا منے نہیں آیا، اورما ضی میں بھی کبھی مضبوط امیدواراس حلقہ سے پیپلزپارٹی کو نصیب نہیں ہوا، پاکستان تحریک انصاف سے دوامیدوار میدان میں ہیں جن میں سا بق ایم این اے آفتاب احمد خان کھچی اور سا بق ضلعی صدر پی ٹی آئی چوہدری طا ہر انورواہلہ شامل ہیں اس حلقہ میں بھی زبردست مقا بلہ ہو گا ، ، پورے ضلع میں یہ اہم حلقہ ہے جس میں مسلم لیگ(ن) کی امیدوار تہمینہ دولتانہ پارٹی کی مرکزی نا ئب صدر اورایم این اے ہیں اور ملک گیر شہرت کی حامل سیاسی شخصیت ہیں اسی طرح ان کے مد مقابل آفتاب احمد خا ن کھچی بھی سا بق ایم این اے ہیں ۔ اور کھچی خا ندان عرصہ دراز سے ضلع کی سیاست پر چھایا ہوا ہے چوہدری نذیراحمد جٹ اس حلقہ میں پہلی بار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اس سے قبل این اے 167وہاڑیIسے دو بارایم این اے رہ چکے ہیں اورحلقہ 167میں بے شمار تر قیاتی کام کروانے کی وجہ سے پورے ضلع میں عوام انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں طا ہر اقبال چودھری دوبار ایم پی اے بنے اب قومی اسمبلی کی سیٹ پرامیدوارہیں ۔ جبکہ پی ٹی آئی کے سا بق ضلعی صدر چوہدری طاہرانور واہلہ پہلی بارالیکشن میں حصہ لیں گے پی ٹی آئی کے اس وقت دوامیدوار ہیں سا بق ایم این اے آفتاب احمدخان کھچی پرُ امید ہیں کہ ٹکٹ نہیں ملے گا تاہم اگر پارٹی ٹکٹ انہیں نہ بھی ملاتو ذرائع کے مطابق وہ الیکشن میں حصہ ضرور لیں گے ، جبکہ طا ہر انورواہلہ بھی مایوس نہیں ہیں پارٹی میں ان کے مضبوط روابط ہیں وہ بھی پرُ امید ہیں کہ پارٹی ٹکٹ انہیں ملے گا ، تا ہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پارٹی فیصلے کی پا بند کریں گے ۔اس حلقہ سے سعید احمد خان مینس بھی الیکشن لڑنے کی بھر پور کو شش کررہے ہیں مسلم لیگ(ن) نے انہیں 170سے امیدوار نا مز د کیاہے لیکن وہ ابھی تک بضد ہیں کہ وہ169سے الیکشن لڑیں تاہم ابھی تک ان کی پوزیشن واضح نہیں ہے ۔ سو ئی گیس اس حلقہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے 6سال قبل مسلم لیگ (ق) کے دور میں ایم این اے آفتاب خان کھچی نے آخری سال میں سو ئی گیس کا افتتاح کیا اور شہر کی گنجا ن ترین آبادی یو نین کو نسل نمبر1چک نمبر9-11/W.Bمیں سب سے پہلے گیس مہیا کی ، کہ 2008کے الیکشن میں انہیں کا میا بی حاصل ہو ، لیکن 2008کے الیکشن میں وہ تہمینہ دولتانہ سے شکست کھاگئے ، تہمینہ دولتانہ نے ان پا نچ سالوں میں اپو زیشن میں رہتے ہو ئے سو ئی گیس کیلئے کام کیا اور 9-11/W.Bکے علاوہ پیپلز کالونی ، جی بلاک ، سی بلاک ، فیصل ٹاﺅن ، کچی منڈی ، مدینہ کالو نی ، کینا ل ویو میں لوگو ں کوگیس مہیا کی ، حلقہ میں دیگر ترقیاتی کام بھی کرائے انڈسٹریل اسٹیٹ کی بنیا د رکھوائی ، لیکن حلقہ میں نا راض لو گو ں کی بھی ایک تعداد مو جو د ہے جو مختلف حوالوں سے اپنے تحفظات کااظہار کرتے ہیں ان میں سر فہرست تہمینہ دولتانہ کے ذاتی ملا زمین کا عوام سے نا منا سب رویہ ہے جو لو گو ں کی نا راضگی کاایک سبب ہے تہمینہ دولتانہ ، چوہدری نذیر احمد جٹ ، طا ہر اقبال چوہدری انتخابی مہم شروع کیے ہو ئے ہیں جبکہ آفتاب احمدخان کھچی اور چوہدری طاہر انور واہلہ ابھی پوری طرح حلقہ میںسرگرم نہیں ہوئے ہیں تا ہم مقابلہ تہمینہ دولتانہ ، آفتاب احمد خان کھچی اور نذیراحمد جٹ کے درمیان ہی ہو گا ، طا ہر اقبال چوہدری ، مسلم لیگ(ق) اور پیپلز پارٹی سے مشترکہ امیدوارہوں یا صرف مسلم لیگ (ق)سے دو نوں جما عتوں کا اس حلقہ سے ووٹ بنک نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ (ق) لیگ کا تو ایک بھی نظریاتی ووٹ نہیں ہے جبکہ پیپلزپارٹی کا اس حلقہ سے بے شک کو ئی ایم این اے یا ایم پی اے نہیں جیتا ، تا ہم نظر یاتی ووٹ ضرور موجو د ہے ۔ اس حلقہ میں دیگر دیہا تی علاقوں میں ٹھینگی اڈا اورکرم پور کا قصبہ اہمیت کے حامل ہیں جو محرومی کا شکار ہیں ٹھینگی اڈا 38نواحی چک کا مرکزہے اس اڈا کے سا تھ ہی ائیر بیس ، زراعت کے دفاتر ، پو لیس اسٹیشن اورلڑکے لڑکیوں کے ہا ئی سکول موجود ہیں لیکن آج تک پوسٹ آفس کی سہو لت میسر نہیں ہے 1962میں ڈاکخانہ جا ت کی آفس برانچ قا ئم ہو ئی تھی، 41سا ل گزرنے کے با وجو د اس برانچ کو سب پو سٹ آفس کا بھی درجہ نہیں دیا گیا ، اور کسی بھی کو رئیر سروس کا دفتر بھی اس علا قہ میں نہیں ہے لہٰذا علاقہ کی عوام اور سرکاری دفاتر ڈاک کے حوالہ سے شدید مشکلات کاشکارہیں صحت اور تعلیم عوام کا بنیا دی حق ہے لیکن اس علاقہ میں بنیادی مرکز صحت بھی نہیں ہے یہاں سے 12کلو میٹر دور56/W.Bمیں دیہی مرکز صحت ہے جو 12کلو میٹر دو ر ہے اور رابطہ سڑک ٹو ٹ پھوٹ کاشکار ہو نے کے سا تھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہو لت میں میسر نہیں ہے کہ ٹھینگی سے 56/W.Bتک ڈائریکٹ سفر ممکن ہو ، کس بھی مریض کو وہاں لے جانے کیلئے کرایہ پر گاڑی حاصل کرنا پڑ تی ہے جو غریب آدمی کے بس سے با ہر ہے ۔ اس کے علاوہ ایک گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اور ایک گر لز ہا ئی سکول ہے اور بچوں کی بڑی تعداد زیرتعلیم ہے میٹرک کے بعد بے شمار طلباءطالبات اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جا تے ہیں کہ غریب والدین کے پاس وہاڑی کے کا لجز میں بچوں کوتعلیم دلانا موجودہ مہنگا ئی کے دورمیں ممکن نہیں ہے عرصہ درازسے عوام ایم این اے اورایم پی اے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان سکولوں کوہا ئیر سیکنڈری سکول کادرجہ دیاجا ئے اورکالج بھی بنایاجا ئے اسکے ساتھ سا تھ ہسپتال ، پو سٹ آفس اورسو ئی گیس کی سہو لت مہیا کی جا ئے عوام جھوٹے وعدوں پریقین رکھنے کی بجائے ، اب عملی وعدوں پر ووٹ دیں گے ۔ کرم پور میں سوئی گیس اور سیوریج اہم مسائل ہیں سیوریج کا نظام بڑی طر ح تباہ ہے پورا علاقہ گندے پانی سے گھرا ہو ا ہے سیوریج کے نئے منصوبے پر کام جاری ہے لیکن غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے علاقہ کے عوام سراپا احتجاج ہیں کہ جس نقشہ کے تحت کام شروع کیا جا رہا ہے اس سے کرم پو ر کی عوام مستقل طور پر گٹر کی بندش کی وجہ سے گندے پا نی کے مسائل سے دوچار رہے گی ، اس کے ساتھ سا تھ 26/W.Bجو مختلف چکوک کی گز گاہ ہے تمام اطراف کی سڑکیں ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہیں با رشوں کے دنوں میں گاڑی پر سفر کر نا تو درکنار پیدل چلنا بھی دو بھر ہو جا تا ہے ۔ عوامی نمائندگی کے دعوےداروں نے کبھی عوام کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی ، حلقہ پی پی 236میں متوقع امیدوار مسلم لیگ(ن) کے میاں ثاقب خورشید پی ٹی آئی کے کرنل (ر) رفا قت علی رانا وارخرم نذردُوگل جماعت اسلامی کے حاجی طفیل وڑائچ جبکہ دیگر امیدواروں میں رانا طا ہر محمود ، بابر اشرف چودھری، بابر منظودُوگل شامل ہیں میاںثاقب خورشید کو ارائیں برادری کی بھر پور سپورٹ حاصل ہے اس حلقہ میں برادری ازم الیکشن پر پوری طرح اثرانداز ہوتا ہے ارائیں برادری کا مقابلہ کرنے کیلئے راجپوت برادری اور جٹ برادری کے درمیان مشاورت جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ دونو ں برادریوں کامشترکہ صو بائی امیدوار سا منے لا یاجا ئے ، لیکن یہ کو شش ابھی تک کا میابی حاصل نہیں کرسکی، کہ راجپوت برادری کی اکثیر یت ہے لہٰذا وہ چا ہتے ہیں کہ امیدوار ان کا ہو لیکن جٹ برادری کی خواہش ہے کہ امیدوار ان میں سے ہوفی الحال میاں ثاقب خورشید مضبو ط امیدوار ہیں اور اگر پی ٹی آئی کاٹکٹ کرنل رفا قت علی رانا کو مل جاتا ہے جس کے امکانات بھی ہیں اور راجپوت برادری انہیں بھر پور سپورٹ کرے تو مقابلہ خوب ہو گا ، کیو نکہ ارائیں برادری کے علاوہ دیگر برادریوں کے لوگ برادری ازم کی بنا ءپرمیا ں ثاقب خورشید کو ووٹ دینے سے گریزاں ہیں اورمیاں ثاقب خورشید دوبار تحصیل ناظم وہاڑی رہے ہیں اس دور میں بھی بہت سے لوگو ں کوثاقب خورشید سے شکوے شکایا ت ہیں تا ہم میاں ثاقب خورشید بھی روٹھے ہوئے لوگو ں کو منا نے کا فن جانتے ہیں ۔ حلقہ 237سے مسلم لیگ(ن) کے موجودہ ایم پی اے نعیم احمد خان بھا بھہ ہی آئندہ بھی پارٹی کے امیدوار ہیں ان کے علاوہ افضل خان کھچی بھی مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ کے امیدوار ہیں اور ایم این اے تہمینہ دولتانہ کی گاڑی میں سوار ہیں تہمینہ دولتانہ اور نعیم خان بھا بھہ کے درمیان شدیداختلافات ہیں جس کا فائدہ حاصل کرنے کی افضل خان کھچی کو شش کررہے ہیں تا ہم فی الحال پارٹی ٹکٹ کے انتہا ئی کمزور امیدوارہیں دیگر متوقع امیدواروں میں طا ہر حیدر خان کھچی آزاد ، اکرم خان کھچی تحریک انصاف سے ، ضمیر خان کھچی ، راﺅ شبیر بلو اور جما عت اسلامی کے سید غوث اقبال شاہ شامل ہیں اس حلقہ میں ایم پی اے نعیم اخترخان بھابھہ جو مسلم لیگ(ن) کے ضلعی جنرل سیکرٹری بھی ہیں انہوں نے اب تک صوبائی حلقہ سے ریکارڈ ترقیا قی کام کروائے ہیں اور مضبوط عوامی رابطہ رکھتے ہیں موجودہ سیاسی صورتحال میں وہ سب سے مضبوط امیدوار ہیں تاہم اصل صورتحال تو الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعدہی واضح ہوگی جب تمام امیدوار نکھر کر میدان میں آئیں گے۔

الیکشن

مزید :

الیکشن ۲۰۱۳ -