روٹی اور قلم ملے تونوجوان نسل پاکستان کا نقشہ تبدیل کر سکتی ہے :بیرسٹر امجد ملک

روٹی اور قلم ملے تونوجوان نسل پاکستان کا نقشہ تبدیل کر سکتی ہے :بیرسٹر ...
 روٹی اور قلم ملے تونوجوان نسل پاکستان کا نقشہ تبدیل کر سکتی ہے :بیرسٹر امجد ملک

  

       لندن (بیورورپورٹ ) پاکستانی نژاد برطانوی قانون داد بیرسٹر امجد ملک کا کہنا ہے کہ اگر پیٹ کیلئے روٹی اور ہاتھ میں قلم میسر ہوتو نوجوان نسل پاکستان کا نقشہ بدل ،وہ جمہوریت مستحکم اور تمام ادارے مظبوط کر سکتی ہے جو ابھی عدام استحضکام کا شکار ہیں جبکہ ملک سے کرپشن اور غربت کا خاتمہ بھی نوجوان نسل پر خصوصی توجہ دینے میں مضمر ہے ۔ بیرسٹر امجد ’ پاکستان فورم ‘میں اظہار خیا کر رہے تھے ۔ وہ کسی لمبے چوڑے تعارف کا مختاج نہیں اوورسیز کے حقوق کی بات ہو یا دریا غیر میں پھنسنے والے بے یارو مددگار پاکستانیوں ‘ طلباء‘ عافیہ صدیقی کی آزادی،گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے بنیادی حقوق ‘ جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی یا آئین کی بالا دستی کی ہوتو بیرسٹر امجد ملک کا کردار ہمیشہ تاریخی اہمیت کا حامل نظر آتا ہے جبکہ ان کا شمار ان چند پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ملک وقوم کا نام روشن کر رہے ہیں ۔انکی خدمات کے اعتراف میں بیشترز ایوارڈ ز سے بھی نوازا گیا 2002میں گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ان کے فعال کردار کے اعتراف میں لبرٹی ‘ جسٹس اینڈ لاءسوسائٹی کی جانب سے انسانی حقوق کے نوجوان وکیل ہونے کا ایوارڈ دیا گیا ‘2001میں پروبونو سولیسٹر ایوارڈ2007میں ایشیائی و برطانوی کیمونتی میں انکی پیشہ وارانہ شمولیت اور بے مثال کارکردگی پر یونائیٹڈ انٹرنیشنل کیمونتی فورم سے ایوارڈ دیا گیا ‘ وہ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تاحیات رکن ‘یوکے فارن کامن ویلتھ آفس کے پروبونو پینل کاحصہ ‘ ینگ لائرز کمیٹی آف انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن کے ممبر ہونے کے علاوہ سپریم کورٹ آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے سولیسٹر ایڈووکیٹ کے حوالے سے بھی پہچان رکھتے ہیں۔ فورم میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے فیصل آباد کے مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے اور ’ٹاٹ ‘ سکول سے تعلیم حاصل کرنے والے امجد ملک نے کہا کہ ہے درختوں کے سائے ، سردیوں میں کھلے آسمان تلے علم حاصل کرنا ان کیلئے باعثِ فخر فخر ہے اور وہ میں اپنا ماضی نہیں بھولے۔۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کا کہ میرے نزدیک جمہوریت وہ ہے جہاں عوام کو جاننے ‘ بولنے اور رائے دینے کا حق حاصل ہو ‘ عوا م کے منتخب کردہ نمائندے پارلیمان میں بیٹھیں ‘ ادارے اپنی متعین کردہ حدوں میں کام کریں ‘ انصاف اور احتساب سب کیلئے برابر ہو ‘ پولیس سرکاری ‘ اثر ورسوخ سے پاک ہو ‘ جہاں اکیسویں صدر کے انسان کی بنیادی سہولیت میں روٹی ‘ کپڑا ‘ اور مکان ہی نہیں پانی ‘ بجلی ‘ گیس ٹرانسپورٹ ‘ اور نظام مواصلات بھی شامل ہو ‘ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ہو مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر میں ہی موروثی سیاست موجود ہے ‘ہندوستان اور بنگلہ دیش میں یہ نظام کافی حد تک اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے ‘ لیکن اس رجحان میں اب بتدریج کمی آتی دیکھائی دے رہی ہے ۔ پاکستان میں ابھی تک جمہوریت آئی نہیں ایک طرف میرٹ اور انصاف تک غریب انسان کی رسائی نہیں تو دوسری طرف امیر کرپٹ ‘ لوگوں تک احتساب کی رسائی نہیں ‘ معاشرہ دو انتہاﺅں میں تقسیم ہو چکا ہے ‘ ایک کلرک سے بیوروکریٹ تک سب اپنے اپنے لیول پر کرپٹ ہیں ‘ فرائض کو احسان سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے‘ آج بھی ایک عام انسان کو پاسپورٹ ایسے دیا جاتا ہے جیسے کوئی احسان کیا جا رہا ہو الیکشن کمیشن کی طرف سے پارٹی انتخابات کا نوٹس کیا گیا مگر اب اتنی جلدی شاید پارٹی الیکشن ممکن نہ ہوں ‘موجودہ حکومت اپنی معیاد پوری کر رہی ہے ’ اور پارٹی الیکشن کیلئے وقت ناکافی ہے ‘ اور ایسے میں باکردار ‘خود مختار ‘ اور غیر جانبدار نگران حکومت کا قیام اور الیکشن کمیشن کی جانب سے 1973کے آئین کے آرٹیکل ‘ 62اور 63کے مکمل نفاذ کو یقینی بنا کر ملک میں ایک شفاف جمہوری نظا م کو ممکن بنایا جا سکتا ہے انکا کہناتھا کہ پارٹیوں کے اندرونی انتخابات بھی چیف الیکشن کمیشنر کی نگرانی میں ہونے چاہیں ‘ ورنہ انفرادی سطح پر ایسے الیکشنز کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ‘ جو پارٹی نے مل ملا کر خود ہی منظم کیے ہوں ‘جو کہ مقابلہ کی نفی ہے ‘ اگر الیکشن التواءمیں ڈالے گئے ‘ اور نگران سیٹ اپ کو مستقل ذمہ داریاں سونپی گئیں تو ڈر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جان سے اپنے دور اقتدار کو طول دینے کے لیے سیاستدانوں کے احتساب کے نام پر ماضی کی پرانی گیم کو دوہرایا جا سکتا ہے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہی ملک کو درپیش مشکلات کا واحد حل ہیں ‘سیاست میں فوج کا کردار نہیں ہونا چاہیے البتہ ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی کو کشادہ کیا جا سکتا ہے تاکہ ڈی سی سی میں فوج سے مشاورتی عمل کو بامقصد ‘ بامعنی ‘ اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے ‘ برطانیہ میں ریٹائرڈ چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف کو اقتدار کے اعلی ایوانوں میں رسائی دی جاتی ہے ایسی کوئی شکل پاکستان میں بھی بنائی جا سکتی ہے کہ ان عہدوں پر ریٹائرڈ ہونے والوں کو سینٹ میں نمائندگی دی جا سکے ‘ تاکہ وہ اپنے اپنے ادارے کی آواز بن سکیں پاکستان کے ادارے اگر صیح معنوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے تو 70سے 75فیصد ممبران پارلیمنٹ آرٹیکل 62.63کے مطابق نااہل ہوتے اور پارلیمان کا حصہ نہ بن پاتے ‘ مگر اسکے باوجو د حکومت اپنی معیاد پوری کر رہی ہے بری جمہوریت کا حل بھی جموریت سے ہی ممکن ہے ‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں گولی ‘ پنجاب میں نوٹ‘ بلوچستان میں بندوق‘ اور پشاور میں مردوں کا راج ہے ‘ جہاں الیکشن میں عورتوں کو ووٹ تک نہیں دینے دیا جاتا ان سب کا حل صرف مائنڈ سیٹ کو تبدیل کر کے ہی ممکن ہو سکتا ہے ‘ ریاست کو ربوٹ نہیں کیا جاتا بلکہ سسٹم میں رہتے ہوئے تطہیر کی ضرورت ہے تب ہی قائد اعظم کا برداشت سے بھر پور پاکستان وجود میں آئیگا‘ بد قسمتی سے ہم جمہوریت کی صیح روح کو سمجھ ہی نہیں پا رہے ‘ پا پھر سیاستدانوں نے اس کی افادیت کو صیح فروخت نہیں کیا جس کی وجہ سے ہم بھٹو ‘ زرداری ‘ الطاف حسین ‘ شریف ‘ یا چودہری برادران کو جمہوریت سمجھ بیٹھے ہیں ‘ یہ سب اصل جمہوریت سے ناسمجھی کی بدولت ہے صیح جمہوریت کا مطلب تو یہ ہے کہ پارلیمنای ممبران مروجہ آئینی قانون کے معیار پر پورا اتریں ‘ ایک ایم این اے کی سیٹ پرالیکشن لڑنیوالا جو اڑھائی تین کروڑ روپے میں الیکشن لڑنے کے بعد حلف اٹھاتا ہے کہ اس نے بیس لاکھ روپے میں الیکشن لڑا ‘ جس کہانی کا آغاز ہی جھوٹ سے ہوا ہو اسکا انجام اچھا کبھی نہیں ہو سکتا ہر سال گندگی صاف ہونی چاہیے ‘ تیس سے پینتیس فیصد نیا خون پارلیمان میں شامل ہونا چاہیے ¿‘ تب ہی ملکی بقاءجمہوریت کا مستقبل محفوظ اور ترقی ممکن ہو سکتی ہے ‘توہین رسالت قانون کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ توہین رسالت قانون کو بین الاقوامی سطح پر نافذ کرنے کے حق میں ہوں ‘ جب ہم مسلمان کسی بھی مادر پدر آزاد معاشرے میں دخل اندازی نہیں کرتے تو کسی کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنیکی اجازت بھی کسی کو نہیں دی جا سکتی ‘ اقوام متحدہ کی معاونت سے اس قانون کا نافذ کرانے کیلئے چارٹر تیار کیا جاسکتا ہے ‘ تینوں بڑے ‘ مذاہب ‘مسلمان ‘ عیسائیت ‘ اور ہندو کو مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہو گا ‘ تاکہ افراد اور ریاست کو ایک دوسرے کی پناہ گاہوں میں شرپھیلانے سے باز رکھا جا سکے ‘ برطانوی اور پاکستانی حکومت اسلامی مماملک کی عالمی تنظیم او ’ آئی ‘ سی اور اقوام متحدہ کو بھی لیٹر لکھا ‘ بطور نگران وزیر اعظم کے حوالے سے ایک سوال میں انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان نسل باشعور ہے ’ اور حق نمائندگی چاہتی ہے ‘ سوشل میڈیا نے بھی اس سلسلہ میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے ‘ نئی چیزیں پرانی سیاسی جماعتوں کو بھی انکا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے پر مجبور کر رہی ہیں مخلص اور سنجیدہ لوگوں کا انتخاب کیا جانا چاہیے انکا کہنا تھا کہ حق کی آواز بلند کرنے میں کبھی دیر نہیں کی 2001میں ایک امام مسجد کا کیس لڑنے پر برطانیہ میں انتہا پسندوں کا مقابلہ کرتا رہا میری بیوی نے میرابھر پور ساتھ دیا ‘ علامہ اقبا ل کی شاعری نے میرا حوصلہ بڑھایا ‘ اور ہمیشہ رہنمائی بھی کی ‘ انہوں نے کہا کہ 16دسمبر 2009کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑا واضح تھا ایک وزیر اپنی غلطی اور ہٹ دھرمی سے گھر گیا ‘ صدر کو عالمی اور ملکی قانون کے تحت استثنی حاصل ہے اور اہلیت پر سوالات صرف الیکشن کے وقت اٹھانے چاہیے تھے ‘ لیکن ان ساٹھ ملین ڈالر کو جس کو تسلیم کرنے سے سب بھاگتے ہیں اس کو پاکستان کے حق سے دستبردار کرنے کا حق اے جی قیوم ملک کوحاصل نہیں تھا اور سپریم کورٹ اسکو بحال کرنا چاہتی تھی ‘ برطانوی امیگریشن قوانین ایشیائی لوگوں کیلئے امتیازی ہیں‘ یورپی ریاستوں میں تو آزادانہ شادی کر سکتے ہیں لیکن انڈیا ‘ پاکستان اور بنگلہ دیش میں شادی کر کے اپنے Spouseکو یہاں لانے کے لیے سالانہ انکم اٹھارہ ہزار چھ سو پاﺅنڈ اور اسکے علاوہ آنے والے کا انگیریزی زبان سے واقف ہونا ضروری قرار دے دیا گیا ہے ‘ ڈاکٹرز ‘ انجینئرز‘ اور دیگر طالبعلم طبقہ بھی اسطرح کے امتیازی تبدیلوں کا شکار ہو رہا ہے ‘ہم نے سیکرٹری داخلہ اور وزیر اعظم برطانیہ کے ساتھ مختلف فورمز پر اس موضوع کو اٹھایا ہوا ہے نائن الیون کے بعد حکومت ردعمل سے ایشیائی باشدوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں بے جا تلاشی ‘ گھروں پر چھاپے ‘ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے جیسے الزامات شامل ہیں تاہم انصاف کی آسانی کی وجہ سے عمومی طور پر سوائٹی پر امن ہے اسکا سہرا برطانوی عدلیہ کے سر جاتا ہے برطانوی عدالتیں انصاف کرنے کیو جہ سے اقلیتوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب رہی ہیں پاکستان میں کورٹ سسٹم تبدیل کرنیکی ضرورت ہے ‘ گنہگار کو سزا ملنی چاہیے اور ٹرائل نہ ہونے جیسے ماروائے آئین و قانون اقدامات کی وجہ سے ملزم کو اخلاقی برتری حاصل نہیں ہونے دینی چاہیے ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں 80لاکھ سے زیادہ تارکین وطن مقیم ہیں جو سالانہ 13ارب روپے سے زائد کا زرمبادلہ پاکستان بجھوا رہے ہیں انہیں پاکستانی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا لیکن انہیں پارلیمان یا ایوانوں میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں ‘ ان کے متعلق ایوانوں میں فیصلے ان کی منشاءاور موثر نمائندگی کے بغیر ہوتے ہیں میرے خیال میں اقلیتوں اور دیگر مخصوص سیٹوں کی طرح تارکین وطن کے لیے بھی کوٹہ مقرر ہونا چاہیے ‘ اگرچہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے تارکین وطن کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے لیکن وہ ابھی تک اس حق سے محروم ہیں ‘ ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انقلاب کے داعی ہیں ‘ کینیڈین شہری ہونے کے ناطے اسٹیٹ کے معاملے کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے جس میں ہم جنس پرستی بھی شامل ہے ‘ بحثیت ووٹر ‘ سربراہ چیئریٹی ‘ یا سیاسی جماعت ‘ وہ جس قسم کے اعتراضات اٹھا رہے ہیں ‘ کینیڈین شہرت رکھنے اور طویل عرصہ ریاست کے معاملات سے دور ہرنے کی وجہ سے وہ ایسے اعتراضات اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اگر کوئی ایسی پٹیشن فائل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ بڑی سیاسی جماعتوں سے رجوع کریں چیف جسٹس آف پاکستان قوم کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے ‘ تارکین وطن طاہر القادری کی طرح پیرا شوٹ لینڈنگ کر کے انقلاب نہیں لانا چاہتے بلکہ سسٹم میں رہتے ہوئے اپنا حق اور موقف پیش کرنے کے لیے مناسب نمائندگی چاہتے ہیں بیرون ملک جانےوالے بیشتر پاکستانی اپنے حقوق سے لاعلم ہیں ‘ بغیر تحقیقات کے ہونے والے رشتے گھریلو ناچاقی اور خواتین پر تشد دجیسے واقعات کا باعث بنتے ہیں خواتین کے حقوق کیلئے بیشتر کیس لڑ ے جس کے بعد برطانوی قوانین میں تبدیلی لائی گئی نوجوان نسل پاکستان میں رہنے اور کچھ کرنے کا جذبہ رکھتی ہے ‘ گرم خون کچھ کر گرزنے کی تمنا رکھتا ہے ‘ لیکن انکی موثر رہنمائی کا فقدان ہے نوجوانوں کو میرٹ پر نوکری نہ ملنا ‘ بے روزگاری اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جانا سسٹم سے نالاں کرنے میں اہم رول ادا کررہے ہیں ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ کا ماضی داغدار ہے ‘ اگر نو مارچ والی بہادری ‘ عدلیہ نے پہلے دیکھائی ہوتی تو اب پاکستانیوں میں سول سوچ کی تشکیل ہو چکی ہوتی ‘ اگر آرمی نظریہ ضرورت کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر آئینی اقدامات نہ کرتی اور عدلیہ نے اس پر قانون ٹھپے نے لگائے ہوتے تو ملک کا یہ حال نہ ہوتا ‘ اگر عدلیہ نے شروع میں ہی بہاد ری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایوب خان کا ہاتھ روک لیا ہوتا آج ملکی حالات یکسر مختلف ہوتے ‘ پاکستان میں تھانہ کلچر کی تبدیلی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ’ خواتین ہمارے معاشرے کا 54فیصد حصہ ہیں جو آج بھی گھریلو تشدد ‘ ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہوتی ہیں جس کیلئے لوگوں کی سوچ تبدیل کرنیکی ضرورت ہے ‘ پاکستان کی مٹی بڑی زرخیر ہےیہاں کا نوجوان تعمیر سوچ اور شعور رکھتا ہے اس کے پیٹ میں روٹی ‘ اور ہاتھ میں قلم ہو تو وہ ملک کا نقشہ تبدیل کر سکتاہے ۔

مزید :

بین الاقوامی -