پنجاب پراسیکیوشن سسٹم....کامیابیاں، توقعات اور چیلنجز

پنجاب پراسیکیوشن سسٹم....کامیابیاں، توقعات اور چیلنجز

  



کسی بھی ملک کا عدالتی نظام اسکی بقاءکا ضامن سمجھا جاتا ہے اور اس نظام کا ایک اہم جزو پراسیکیوشن یعنی استغاثہ ہے جسکے بغیر عدالتوں میں مختلف جرائم کے تحت چلنے والے مقدمات کی ریاستی پیروی اور اسکے نتیجے میں ممکنہ انصاف تک رسائی کسی طورممکن نہیں ۔ پاکستان میں جہاں ایک طرف بڑھتی دہشت گردی اور اسکے ساتھ جڑے دیگر سنگین جرائم سے نمٹنے کےلئے حکومتی سطح پر ایک مربوط پالیسی کی ضرورت پر خاصازور دیا جارہا ہے وہیں ان جرائم میں ملوث عناصر کو قانونی طور پر عدالتوں سے سزائیں دلوانے کےلئے ایک موثرپراسیکیوشن سسٹم یا استغاثہ کے نظام کی موجودگی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب صوبائی اور ضلعی سطح ُ ُپر عام آدمی کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو بھی موجودہ حالات میں ایک اولین ریاستی ذمہ داری قرار دیا جا سکتا ہے جسکا براہ راست تعلق اس پراسیکیوشن سسٹم ہے۔

اب یہاںچند سوالات پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ ایک ایسا عدالتی نظام جسکی افادیت پر کئی قانونی ، آئینی اور انتظامی پیچیدگیوں کے باعث مختلف مکتبہ فکر اپنے شکوک کا برملا اظہار کرتے رہے ہوں، وہ نظام مقدمات کی موثر پیروی اور سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی سرکوبی کیلئے اپنے اندر انقلابی تبدیلیوں کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے؟ مقدمات کی جدیدو سائنسی خطوط پرتفتیش، عدالتی عمل کی طوالت میں کمی، اعلی تربیت یافتہ پراسیکیوٹرز کی موجودگی اور مالی وسائل کی باہم فراہمی جیسے اہم اقدامات کس طرح ممکن ہیں؟ 2013کے دوران ممبئی حملہ کیس اوربے نظیر قتل کیس کے وکیل استغاثہ چوہدری ذوالفقار اور ولی خان بابر قتل کیس میں استغاثہ کی پیروی کرنے والے نعمت علی رندھاوا کے دن دیہاڑے قتل کئے جانے کے بعد اہم مقدمات میں پبلک پراسیکیوٹرزکی سیکیورٹی کو ن ور کیسے ممکن بنائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کی عدالتوں کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات میںٹھوس ثبوتوں کی عدم موجودگی اور کمزور استغاثہ کے باعث بریت کے رجحان کو کیسے ختم کیا جائے؟

انہی تمام اہم اور چبھتے ہوئے سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی والے صوبے پنجاب میںسال2005 کے دوران محکمہ برائے پبلک پراسیکیوشن قائم کیا گیا۔ تمام فوجداری مقدمات میںصوبائی حکومت کی جانب سے ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں میں پیروی کے ذمہ دار اس محکمے کو مزید فعال بنانے کےلئے 2006میں پنجاب کریمینل پراسیکیوشن سروس کا باقاعدہ اجراءکیا گیا جسکا بنیادی مقصد دہشت گردی، قتل، ڈکیتی، اغواءبرائے تاوان ، مذہبی انتہا پسندی اور دھماکہ خیز مواد رکھنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں دلوانا تھا۔تیزاب پھینکے کا جرم جو کہ اس سے قبل ایک عام جرم ہی تصور کیا جاتا تھا، اس محکمے کی کاوشوں کی بدولت اب دہشت گردی کا جرم گردانا جاتا ہے۔اسی حوالے سے محکمہ برائے پبلک پراسیکیوشن نے ایک سرکلر بھی جاری کیا جسکے مطابق تیزاب پھینکے جانے کے عمل کو دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت جرم تصور کیا جانے کے احکامات صادر کیے گئے۔

تنظیمی ڈھانچے میں اصلاحات اور افرادی قوت کی جدید خطوط پر تربیت کے لئے بین الاقوامی حکومتوں اور اداروں نے بھی بتدریج اپنا کردار ادا کیا ہے جسمیں یورپی یونین اور جرمن حکومت قابل ذکر ہیںجبکہ ایک اور جرمن ترقیاتی ادارے GIZکو2012کے دوران لاہور کے علاقے چوہنگ میںقائم پولیس ٹریننگ کالج میں پنجاب کے پہلے پراسیکیوشن ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے جہاں ابتدائی طور پر 67پراسیکیوٹرز کو پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی گئی۔ اسی ادارے نے مستقل بنیادوں پر پبلک پراسیکیوٹرز کی تربیت سے متعلق اہم اور ضروری اقدامات کی بھی رپورٹس کی شکل میں نشاندہی کی ہے جسمیں وکلائے استغاثہ کی پیشہ وارانہ تربیت کےلئے مختلف پروگراموں اورکورسز کا اجراءشامل ہے۔

پنجاب محکمہ برائے پبلک پراسیکیوشن کو ٹھوس بنیادوں پر استوارکرنے اورپیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافے کےلئے GIZ نے18ماہ پر محیط ایک جامع تربیت سازی پروگرام کا مزید انعقاد کیا ہے ۔جرمنی اس منصوبے پر تقریبا ایک ملین یورو سالانہ خرچ کر رہا ہے۔اس جرمن حکومتی منصوبے کے سربراہ کرسٹوف ہارف ڈورف کے بقول پنجاب کے پراسیکیوشن نظام کو بہتر بنانے میں مزیددو سے تین سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ مسٹر ڈورف یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام کی سب سے بڑی خرابی پولیس کا پراسیکیوٹرزسے عدم تعاون اور انکی جدید خطوط پر تربیت کا فقدان ہے۔ جرمن حکومت کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں ایک ماڈل پراسیکیوشن ڈسٹرکٹ کا قیام بھی شامل ہے تاکہ پنجاب کے تمام اضلاع میں مثالی پراسیکیوشن سروس کو فروغ دیا جا سکے۔

پنجاب پراسیکیوشن محکمے کو دو مزید شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے جسمیں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور ڈائریکٹریٹ جنرل آف انسپکشن شامل ہیں۔ یہ دونوں ذیلی محکمے پبلک پراسیکیوشن سے متعلق قانون وپالیسی سازی اور منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ کریمینل پراسیکیوشن سروس کی مانیٹرنگ کے بھی ذمہ دار ہیں جبکہ محکمہ پراسیکیوشن میں بھرتیوں، تقرریوں، تبادلوںاور مالی معاملات کی نگرانی کا کام بھی انہی کے سپرد ہے۔ اس پراسیکیوشن سروس کے تحت صوبائی حکومت کے طرف سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی پیروی اور تفتیش کے حوالے سے مرتب کی گئی پولیس رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اب تک صوبائی اور ضلعی سطح پر مختلف عہدوں پر تعینات شدہ پراسیکیوٹرز کی تعداد 1000سے تجاوز کر چکی ہے جن کوپنجاب پبلک سروس کمیشن کی سفارش پرتعینات کیا گیا ہے۔ 2010سے پراسیکیوٹر جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان معلومات کی بروقت ترسیل کےلئے صوبائی اور ضلعی سطح پر کوارڈینیشن سنٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

سال 2011 کے دوران پنجاب کی مختلف ماتحت عدالتوں میں پبلک پراسیکیوٹرز کے ذریعے فوجداری مقدمات میں دی جانے والی سزاﺅں کو لاہور ہائی کورٹ میں دائر اپیلوں میں برقراررکھنے جانے کی مجموعی شرح 65فیصد رہی جو اگلے سال2012میں بڑھ کر 69 فیصد ہو گئی جبکہ انہی دو سالوں کے دوران سپریم کورٹ میں ماتحت عدالتوں سے ملنے والی سزاﺅں کو لاہور ہائی کورٹ میںبرقرار رکھے جانے والے فیصلوں کی توثیق کا تناسب بلترتیب 87اور84فیصد رہا۔ پنجاب پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو ہنرمند اورتربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کی تنگی کا بھی سامنا ہے جبکہ ایک ٹھوس انفراسٹرکچر جس میں پراسیکیوٹرز کےلئے پرکشش تنخواہ اور مراعات، ٹرانسپورٹ، دفاتر، فرنیچر اور دیگرضروری سامان شامل ہے، کاقیام بھی پوری طرح سے عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے۔ اسی طرح ضابطہ ءفوجداری ایکٹ میں پراسیکیوٹر کے قانونی کردار کو مکمل طور پر واضح نہیں کیا گیاہے جو اکثر اوقات عدالتوں میں ایک کمزور استغاثہ کی بنیاد بنتا ہے۔

انہی مسائل اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے پراسیکیوشن محکمے میں تربیت سازی کا ایک علیحدہ ونگ بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے جسکے تحت ایک جامع ٹریننگ پالیسی مرتب کئے جانے کے عمل کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی اور بہاولپور میں سنٹرز فار پروفیشنل ڈویلوپمنٹ اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن کے ذریعے پراسیکیوٹرز کو اپنی پیشہ وارانہ صلاحتیوں میں اضافے کا موقع ملے گا۔ برطانوی حکومت کے اشتراک سے انسداد دہشت گردی عدالتوں میں متعین پراسیکیوٹرز کی اہلیت میں اضافے کےلئے ایک جامع پروگرام جاری ہے جسکے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے۔

پنجاب میں پراسیکیوشن سروس کا اجراءاور اس کے معیار کو بڑھانے میں جرمنی و دیگر ممالک کی کوششیں پاکستانی عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلیوں کے حوالے سے بارش کا پہلا قطرہ قرار دی جاسکتی ہیں۔ یہ تمام کاوشیں ایک مستقل ارتقائی عمل کا حصہ ہیں جو اپنے اندر ایک بڑی کامیابی کی شکل میں رونما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ٭

مزید : کالم