حکمت کی بات

حکمت کی بات
حکمت کی بات
کیپشن: hakeen tehsen

  

حکمت تو دانائی کو کہتے ہیں، جبکہ ہر شعبہ فکر میں دانا کی موجودگی باعث فخر گردانی جاتی ہے۔ مَیں طبیب ہوں تو نبض شناس بھی ہوں۔ آج نبض دیکھی جو قوم کی تو انتہائی نحیف پائی۔ متفکر ہوں کہ کیا ہو رہا ہے۔ صحت ِ قوم کیوں شبانہ روز گرتی جا رہی ہے۔ نئے دانا کے آنے پر بہت سی امیدیں لگائی تھیں، لیکن ابھی تک صحت مندی کے آثار ہنوز نظر نہیں آ رہے۔ دانا تو روز ایک امید لگا رہے ہیں۔ کبھی بجلی کی ،کبھی گیس کی، روزگار اور کاروبار کا یہ عالم پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ بیروزگاری نے اتنے رہزن پیدا کر دیئے کہ گلی کوچوں میں بھی لوگ محفوظ نہیں۔ لو گلی کوچے کہہ دیا اپنے ہی گھروں میں خوف کی زندگی بسر کر رہے ہیں، نہ جانے کب اور کیا ہو جائے۔ اوپر سے ہڑتال نے کاروبار کو چار چاند گِرا دیا۔ ہڑتال نہ کرو تو شیشے تڑواﺅ ،کرو تو بھوکے مرو، مرنا تو سبھی کو ہے ، لیکن سایہ دانا کے نیچے ایسی موت خدا کسی کو نہ دکھائے۔ اخبار پڑھو تو خوف آئے، ٹی وی دیکھو تو رات بھر نیند غائب۔ سڑک پر جاﺅ دھماکے ڈرائیں، کیا ہو گا ہماری قوم کا۔ کون کرے گا تحفظ ان مظلوموں کا، کون بنے گا سہارا، ہر روز کوئی یتیم ہو رہا ہے اور کوئی بیوہ، کسی کی مانگ اجڑ رہی ہے، کسی کا جگر گوشہ جُدا، خدارا یہ سب کچھ کیوں ہے، کہاں گئے وہ دن جب ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ بے خوف و خطر ہر جگہ جاتے تھے۔

پنجاب میں خادم اعلیٰ کی مثال سامنے رکھ لو اور خدمت میں جُت جاﺅ۔ آج لاہور کو دیکھو کیا وہی ہے جو 20سال پہلے تھا قطار در قطار۔ انتظار ہی انتظار۔ جب قومیں اور دانا ترقی کا عزم کر لیں تو ہر ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں۔ آج لاہور کی سڑکیں کتنی وسیع ہو گئی ہیں اور اوپر سے میٹرو بس منصوبہ یاد آیا، میٹرو بس نے ہزارہا نہیں لاکھوں لوگوں کو سفر کے طویل انتظار اور کئی جھنجھٹ سے نجات دلا دی۔ چلو باقی جو رہا ہے، لیکن فرزندان قوم میٹرو کے مزے تو لے ہی رہے ہیں کچھ تو روایتی جملہ جنگلہ بس کہہ دیتے ہیں، حالانکہ یہ ایک بہترین پیشرفت ہے۔ شنید ہے اب پنڈی،ملتان اور فیصل آباد والے بھی اس نعمت سے مستفید ہونے والے ہیں۔ خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ عربی زبان سے اتنا لگاﺅ ہو گیا کہ آیت الکرسی کے ساتھ ساتھ ہر مسافر کو سفر کی دُعا یاد ہو گئی ہے وہ گھر سے نکلتے ہی سفر کی دُعا ضرور پڑھتا ہے، امید ہے خادم اعلیٰ قوم کو سفر کے ساتھ روشنی بھی دکھائیں گے اور ہمارے گھروں کے باورچی خانے بھی آباد ہو جائیں گے۔ سفر کی دُعا سے یہ فائدہ ہو رہا ہے کہ بھائی لوگوں نے کئی سورتیں بھی یاد کر لی اور نماز کی ادائیگی کو اپنا معمول بنا لیا۔

چلو یہ بھی اچھا ہوا ہمارا عربی تلفظ بہتر ہو جائے گا۔ صرف مصیبت کے وقت جل تو جلال تو کے علاوہ کچھ کلمہ ہائے نجات عربی میں بھی یاد کر لئے اور تو اور اللہ کے خوف سے نہ ڈرنے والے ظلمت کے خوف میں اللہ کی پناہ چاہنے لگے۔ بزرگ خواتین و حضرات تو باقاعدہ تسبیح کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب کچھ بھلا لگا، لیکن کسی اور کو بھی ان معصوم اور بے گناہوں پر ترس آئے گا۔ اللہ تو رحمن اور رحیم ہے ہی، لیکن اس کے بندے کب انسان بنیں گے اور ظلمت کی سیاہ گھٹا کب چھٹے گی اور رحمت کا ابر کب برسے گا، ہر کسی و ناقص کی آنکھیں حقیقی بادشاہ کی طرف دیکھ رہی ہیں اور حسرت بھری آہیں بھر رہی ہیں۔ کیا دو جہانوں کے مالک ہمیں یہ ظلم اور زیادتیاں کب تک سہنی پڑیں گی، کیا تیرا کوئی دانا بندہ ہماری رہنمائی کرے گا، انشا اللہ ضرور کرے گا، نیک اور دانا بندے خدا کی حمد و ثنا کرتے ہی ہیں ان سے استفادہ کرنا بھی ضروری ہے، ان کی تعلیمات کو مدنظر رکھ کر اسلوب زندگی تبدیل کریں۔

 بائی دی وے جو کام ہم نے اچھا کر لیا، پھر کیا ہے، جگہ جگہ چرچے ہو رہے ہیں۔ جب کچھ غلط ہو گیا، تو آہستہ سے کہہ دیا اللہ کی مرضی۔ یہ مصیبتیں اور آزمائشیں کیوں ہیں، کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھیں ہم نے اپنی بساط کے مطابق کاروبار زندگی میں حصہ ڈالا تو یقینا ضمیر کا جواب ہو گا، نہیں، تو پھر شکوے شکائتیں کیسی۔ ذہن پرا گندہ رکھ کر قدم بڑھایا تو کیا پاﺅ گے پراگندگی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ پاکیزگی ہی نصف ایمان ہے اپنے جسم و جان کے ساتھ ساتھ دل و دماغ کو بھی پاکیزہ رکھو پھر دیکھو ترقی کی منازل کیسے قریب آتی ہیں۔ اللہ کے دانا بندے خلق خدا کی خدمت کر کے آج کس مقام پر ہیں سبھی جانتے ہیں۔ داتا صاحب، بلھے شاہ، میاں میر صاحب یہ سب اور بہت سی دوسری ہستیاں کون ہیں یہ وہ دانا ہیں، جنہوں نے خدمت کی اور اِن کے نام تا قیامت امر ہو گئے۔  ٭

مزید :

کالم -