ویلڈن تھانہ گوالمنڈی

ویلڈن تھانہ گوالمنڈی
ویلڈن تھانہ گوالمنڈی

  

دوستو آپ کو پتہ ہے نا کہ اگر کسی کی کوئی گم شدہ چھنی ہوئی ،یا چوری شدہ چیز واپس مل جائے تو یقیناً،، آپ کی خوشی کی انتہا ہی نہیں رہتی ، آج کے دور میں گم شدہ چیز مل جانا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے آسمان سے تارے توڑ لئے ہوں، ہماری بھی خوشی سے ایسی ہی حالت ہے کہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ آپ سے کیسے کہوں ، کیا کہوں ، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اپنے دل کی بات آپ کو کیسے بتلاؤں ،

گزشتہ روز موبائل فون کی گھنٹی دوپہر ڈھائی بجے کے قریب بجی ، فون اٹھایا

تو دوسری طرف سے آواز آئی سیف بول رہا ہوں تھانہ گوالمنڈی سے میں نے کہا جی سیف بھائی کیا حال ہیں ،، تو دوسری طرف سے جواب آیا فیصل صاحب آپکا جو موبائل فون چھینا گیا تھا اس کا حلیہ بتائیں ،میں نے حلیہ بتانا شروع کیا ، میں نے بے قرار ہو کر پوچھا کہ کیا ہوا مل گیا ،، سیف صاحب نے کہا کہ ہم آپ سے دوبارہ رابطہ کرتے ہیں ، یہ کہہ کر انھوں نے فون بند کر دیا ،، اور تھانہ گوالمنڈی کے تفتیشی افیسر کے فون کے بعد ہمیں خیال گزرا کہ گویا ہمارا موبائل پولیس نے برآمد کر لیا ہے ،

جی ہاں بتلاتے چلیں کہ گزشتہ سے پیوستہ ماہ گوالمنڈی میں کھانا کھاتے گن پوائنٹ پر ہمارا موبائل ٹیبلٹ چھین لیا گیا تھا ، جسکی باقاعدہ درخواست تھانہ گوالمنڈی میں دی گئی تھی اور باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہوا ، اور ہمارے تفتیشی آفیسر جناب سیف کو پوری امید تھی کہ وہ ملزم جلد ہی پکڑ لینگے ،

اور تقریبا ڈیرھ ماہ بعد سیف صاحب نے خوشی کی نوید سنائی ،تفتیشی آفیسر نے شام کو پھر فون کیا اور ہمیں خوشخبری سنائی کہ فیصل صاحب آپکا موبائل برآمد ہو گیا ہے ملزم پکڑ لئے آپ تھانے آجائیں ، اور ملزم شاخت کر لیں تاکہ کارروائی پوری کی جائے۔

تاہم صبح صبح اٹھے تو دیکھا کہ زور دار بارش ہو رہی تھی ، اور اتنی دیر میں سیف صاحب کا پھر فون آگیا کہ جلدی آجائیں ، بہر حال ہم نے بارش رکنے کا انتظار کیا ،، اور تھانے پہنچے تو معلوم ہوا کہ تفتیشی آفیسر سیف تھانے میں موجود نہیں تھے ، میں نے ان کے کمرے میں موجود ڈیوٹی افیسر سے پوچھا کہ سیف صاھب کدھر ہیں ، انھوں نے کہا کہ باہر نکلے ہیں ، میں نے موبائل سے تفتیشی افسر کو فون ملایا تو انھوں نے کہا کہ آپ صفدر صاحب سے مل لیں اور انکو اپنا بیان لکھوا دیں، تاہم پھر صفدر نامی اہلکار نے سادہ کاغذ پر درخواست لکھوائی اور مجھے کہا کہ سیف صاحب سے رابطہ کر لیں ، میں نے کہا ٹھیک ہے ،، پھر تھانے سے باہر نکل کر ہم نے ننھے منے مصطفی کے ہمراہ حلوہ پوری کا ناشتہ کیا اور گھر روانہ ہو گئے اور پہنچے ہی تھے کہ تھوڑی دیر بعد تھانہ گوالمنڈی کے افسر کا فون آگیا کہ فیصل صاھب کدھر ہیں میں نے کہا کہ گھر پہنچ گیا ،

تو کہنے لگے دوبارہ آجائیں صاحب سے ملوانا ہے اور فون کی نشاندہی بھی کر نی ہے ،

دوبارہ تھانے پہنچنے کی حامی بھرتے ہوئے فون بند کیا ، پھر اپنے اسسٹنٹ حافظ مستنصر کو فون کیا کہ تھانہ گوالمنڈی سے فون تھا میرا موبائل مل گیا ہے ، تھانے پہنچیں میں بھی آ رہا ہوں، اور ہم تھانے جانے کے لئے نکلنے لگے تو ننھے منھے مصطفی نے شور مچا دیا کہ میں نے بھی جانا ہے موبائل دیکھنا ہے،،، لے کے آنا ہے ، تقریبا ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد ہم تھانہ گوالمنڈی میں تھے ، جہاں حافظ مستنصر بھی پہنچ چکے تھے ،، تھانے پہنچے تو سیف صاحب بھی تھانے کے دروازے پر موجود تھے ، ہمیں دیکھتے ہی کہا کہ دیکھیں شامی صاحب ہم نے وعدہ پورا کیا پھر وہ ہمیں اپنے انچارج انوسٹی گیشن تھانہ گوالمنڈی کے پاس لے گئے ، جنھوں نے ہمیں مبارکباد دی اور کہا کہ آپ اپنا موبائل پہچان لیں ،، تھوری دیر بعد ایک پولیس اہلکار موبائل لے کر آگیا جسے دیکھتے ہی میں نے شناخت کر لیا ، ،

اور یقیناً ہم بھی تھانہ گوالمنڈی کے تفتیشی افسران کی کار کر دگی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے ،، جنھوں نے دن رات کوشش کر کے گن پوائنٹ پر موبائل چھیننے والے ملزمان پکڑ لئے ،، تاہم میر ا رابطہ بھی پہلے دن سے تفتیشی افسر کے ساتھ رہا ،جی ہاں سیف صاحب مجھے وقفہ وقفہ سے بتلاتے رہے کہ وہ ملزموں کے پیچھے چڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں ، اور بہت قریب ہیں کہ انکو پکڑ لیں ،، اور ہمارے تھانہ گوالمنڈی کے اہلکاروں نے موبائل ڈکیت گروہ کو پکڑ کر لاہور کے شہریوں پر بھی احسان عظیم کیا ،، تاہم ہمیں تفتیشی افسر سیف نے بتایا کہ پکے ڈکیت ہیں بہت سی وارداتوں میں مطلوب ہیں ، تاہم سیف صاحب نے اشارہ کیا حوالات کی طرف کہ آپکے ملزم وہاں بند ہیں پہچان لیں ، ہم نے تو ایک ہی ملزم کو دیکھا تھا جس نے موبائل چھینا تھا ، جب ہم نے سامنے دیکھا تو وہی لڑکا کوٹ پہنے نیچے بیٹھا تھا جس نے مجھ سے موبائل چھینا تھا، ہم نے اس بات پر شکر کیا کہ چلو ملزموں کو پکڑے جانے کے بعد اہل لاہور کو چند ماہ کے لئے چھٹکارا مل گیا ،

جی ہاں وہ اس لئے کہ کچھ ماہ بعد ہی ڈکیت ضمانتیں کر وا لینگے اور پھر شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچائیں گے ،

بہر حال موبائل شناخت کرنے کے بعد ہم تھانے سے نکل رہے تھے تو اتنی دیر میں ایس ایچ او تھانہ گوالمنڈی بھی تھانے پہنچ گئے ، جنھیں ہم نے مبارکباد دی ، اور انھوں نے بھی کہا کہ دیکھ لیں پولیس کی کار کر دگی ،، جی ہاں میں نے کہا کہ آپ کے تھانہ گوالمنڈی کو تو انعام بھی ملنا چاہئیے جنھوں نے دو مہینے کے اندر ہی خطرناک ڈکیت گینگ کو پکڑ لیا ،، ہم نے کہا کہ ہم بھی حکومت پنجاب سے سفارش کریں گے کہ آپکے تھانہ کے اہلکاروں کو بھی تعریفی اسناد اور انعام دیں ، بہر حال سلام دعا کے بعد ہم نے جناب ایس ایچ او تھانہ گوالمنڈی سے اجازت لی ،

جن کا کہنا تھا کہ ضروری کاغذی کارروائی کے بعد آپ کا موبائل آپ کو مل جائے گا ،

بہرحال ہم تھانہ گوالمنڈ ی سے رخصت ہوئے ، اور یقیناًدل میں خوشی سے لڈو پھوٹ رہے تھے ، اور ہمارے دل میں تھانہ گوالمنڈی کے اہلکاروں کے لئے دل میں جو جذبات و احساسات تھے وہ کاغذ پر رقم کرنا بہت مشکل کام ہے ،، لیکن جس طرح محنت تھانہ گوالمنڈی کے اہلکاروں نے کی اگر تمام پولیس اہلکاران اپنی ڈیوٹی اسی طرح فرض شناسی و محنت سے کرتے رہیں تو بہت جلد ہمارے ملک سے جرائم کا خاتمہ ہو جائے گا بہر حال اجازت چاہتے ہیں آپ سے لیکن ان الفاظ و احساسات کے ساتھ کہ ویلڈن ،تھانہ گوالمنڈی ،، شاباش ، اسی طرح محنت و لگن سے اپنی ڈیوٹی ادا کرتے رہیں تاکہ دوسرے تھانوں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہو سکے بہر حال اجازت چاہتے ہیں آپ سے تو ملتے ہیں دوستو ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا ،

مزید :

کالم -