داعش کی تشکیل میں امریکہ و اسرائیل کا ہاتھ

داعش کی تشکیل میں امریکہ و اسرائیل کا ہاتھ
داعش کی تشکیل میں امریکہ و اسرائیل کا ہاتھ

  

اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسلام اور انسانیت کے دشمنوں نے ہر دور میں ایسی ناپاک حرکتیں جاری رکھی ہیں۔ اسلام کو بدنام کرنے کے لئے کبھی ’’القاعدہ‘‘ کی تشکیل کی جاتی ہے تو کبھی داعش جیسے وحشی میدان میں چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ ان سب سازشوں کے پیچھے امریکہ اور اس کے حامیوں کا ہاتھ ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے دہشت گرد گروہوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ عراق اور شام کے جو علاقے داعش کے کنٹرول میں ہیں ان کا مجموعی رقبہ برطانیہ کے رقبے سے کم نہیں ہے۔ داعش کی تشکیل میں امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور علاقے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی ملکوں کا ہاتھ ہے تاہم اس گروہ کے ہولناک دہشت گردانہ جرائم سامنے آنے کے بعد انہی ممالک کی جانب سے داعش کے مقابلے کے لئے عالمی اتحاد کی تشکیل کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ برطانوی اخبار ’’گارڈین‘‘ اور نیوز ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق داعش کی تشکیل میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی خصوصی سروسیں ملوث تھیں۔

داعش نے 2014ء میں عراق اور شام میں چڑھائی شروع کر کے بین الاقوامی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس گروہ کے جنگجوؤں نے ’’اسلامی خلافت‘‘ کے قیام کا اعلان کیا۔داعش کے معنی الفاظ کے اعتبار سے دولت اسلامیہ عراق و شام کے ہیں، یعنی اس گروہ کی ابتدا شام میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد ہوئی کہ جہاں اس گروہ نے اپنے غیر ملکی آقاوں امریکہ اور اسرائیل کی ایما پر بھرپور خدمات انجام دیں، لیکن امریکی مدد اور اسرائیلی حمایت ہونے کے باوجود بھی یہ گروہ شام میں موجود شامی حکومت کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہا اس ناکامی کا انتقام لینے کا فیصلہ انہوں نے عراق میں خون خرابہ کرنے کے اعلان سے کیا اور پھر بالآخر عراق کے شمال میں جا پہنچے اور 12جون2014ء کو خون کی ہولی کھیلی گئی، جس میں سینکڑوں عراقی شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اس دن سے اس دہشت گرد گروہ کا نام لوگوں کی زبانوں پر آنا شروع ہو گیا ہے۔داعش یا امارت اسلامی ظاہری طور پر اسلامی احکام کے اجرا پر تاکید کرتا ہوا نظر آتا ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کے افکار و نظریات مکمل طور پر اسلام مخالف ہیں۔ شریعت کے نفاذ کا نعرہ اس لئے لگا رہے ہیں ،تاکہ دنیا والوں پر یہ ظاہر کریں کہ وہ ایک اسلامی گروہ ہیں۔ اس کا مقصد ایک طرف اسلام کے چہرے کو بدنام کرنا ہے اور دوسری طرف عالم اسلام میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جنگ کی آگ بھڑکانا ہے۔

عراق کے صوبہ بابل میں داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں دو امریکی ہیلی کاپٹروں کے اترنے سے متعلق خبر نے داعش مخالف اتحاد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔عراقی حکام، بارہا امریکہ اور اتحادی فوجیوں پر دہشت گردوں کو اسلحے کی فراہمی اور ان کے لئے اسلحہ اور جنگی ساز وسامان گرانے کا الزام عائد کرچکے ہیں۔ امریکی ہیلی کاپٹر بابل سے60 کلومیٹر دور مویلحہ کے علاقے میں اترے ۔ عراق بالخصوص فوجی علاقوں میں تعینات امریکی فوجیوں پر داعش دہشت گردوں کے لئے فضا سے ہتھیار اور جنگی ساز وسامان گرانے کا الزام ہے۔

ہمارے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت جنگجو تنظیم داعش کی ممکنہ سرگرمیوں اور کارروائیوں سے غافل نہیں ہے جب کہ اس تنظیم سے وابستہ افراد سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی جاری ہے۔دنیا بھر میں داعش کی شدت پسندانہ کارروائیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عالمی برادری بھی ان کارروائیوں کے خلاف متحرک ہوچکی ہے ،لیکن پاک فوج داعش سمیت کسی بھی کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی میں عالمی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔

درحقیقت اسرائیل حماس سے خوفزدہ ہے اور اس کے توڑ کیلئے امریکی شہہ پر داعش تشکیل دی گئی۔ حماس فلسطین میں اخوان المسلمین تحریک کی شاخ شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کے اسلحہ کا نشانہ صہیونی دشمن ہیں،جبکہ داعش کفار سے جہاد کرنے کا قائل ہونے کے بجائے اپنے زعم کے مطابق شرک و فساد سے امت اسلامیہ کو پاک کرنا واجب جانتا ہے۔ اسی لئے یہ لوگ اس وقت تک اسرائیل سے جہاد کرنے کے سلسلہ میں ترجیح کے قائل نہیں ہیں، جب تک ان کے بقول امت اسلامیہ میں گمراہ فرقے اور فاسق حکام موجود ہوں، جبکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ امت اسلامیہ میں فاسد اور کٹھ پتلی حکام کا سرچشمہ امریکہ اور اسرائیل ہے۔

مزید :

کالم -