شرارتی ذہن کے لوگ

شرارتی ذہن کے لوگ
شرارتی ذہن کے لوگ

  

بچپن کی بعض شرارتوں پر جہاں اب بے ساختہ ہماری ہنسی، بلکہ ’’ہاسا‘‘ نکل جاتا ہے ،وہاں چند شرارتیں ایسی بھی تھیں، جن پر اب غور کرتے ہیں تو خاصی شرمندگی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اندھیری راتوں میں ہم چند دوستوں کا قریب کے کھیتوں میں چھپ کے بیٹھ جانا اور جونہی کسی راہ گیر کو آتے ہوئے دیکھنا ،عجیب و غریب آوازیں نکال کر گھی کے خالی کنستر کو ڈنڈوں کی مدد سے ڈھول کی طرح بجانا ، جبکہ ’’راہ گیر‘‘ کا یہ سوچ کر بھاگ پڑنا کہ ’’جنات‘‘ نے حملہ کر دیا ہے، بہت اچھا لگتا تھا۔ ہمارے ان کرتوتوں کی وجہ سے تو ایک ’’پلی‘‘ باقاعدہ جنوں والی ’’پلی‘‘ کے نام سے مشہور ہو گئی اور وہاں سے گزرتے ہوئے لوگ خاصے گھبرائے ہوئے رہتے تھے۔ کئی لوگ تو ’’پلی‘‘ سے دس پندرہ فٹ دور سے ہی آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔ اس شرارت کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب تھوڑے بہت جوان ہوئے تو ہم خود بھی ’’پلی‘‘ سے گزرتے ہوئے احتیاطاً آیت الکرسی پڑھ لیا کرتے تھے، حالانکہ ہمیں معلوم تھا کہ یہاں ’’جن وِن‘‘ نہیں ہیں، بلکہ جن تو ہم خود تھے، مگر پھر بھی آیت الکرسی ضرور پڑھتے تھے۔ہم تمام لڑکے یہ سب کچھ ’’شغل‘‘ کے طور پر کرتے تھے، مگر اس سے لوگوں کے اندر جنات کے حوالے سے خوف بڑھ جاتا تھا ،اب بھی ’’پلی‘‘ کے حوالے سے یہی مشہور ہے کہ یہاں جنات کا ڈیرہ ہے۔

ہماری یہ حرکت تو کسی حد تک قابل قبول تھی، مگر ایک اور شرارت انتہائی بے ہودہ اور واہیات قسم کی تھی، یہ شرارت کچھ اس طرح کی تھی کہ ہم سکول جاتے اور آتے ہوئے راستے میں جتنے بھی درخت ہوتے تھے، ان کی تلاشی لیا کرتے تھے، کسی درخت پر ’’بھڑوں‘‘ کا ’’چھتہ‘‘ یا کسی پر شہد کی مکھیوں کا ’’چھتہ‘‘ ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ایک بہت خطرناک شرارت کی ابتداء ہونے والی ہے۔ چند روز تک ہم درخت کی تلاشی لیتے رہتے، جب ہمیں معلوم ہوتا کہ اب شہد کی مکھیوں یا بھڑوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو چکی ہے تو ہم گندم کی خالی بوریاں اپنے جسم پر لپیٹ کے دونوں ’’چھتوں‘‘ میں سے کسی ایک چھتے پر ایک پتھر مار دیا کرتے تھے۔ حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ہم خود تو محفوظ ہو جاتے تھے، مگر اردگرد موجود لوگ ان بھڑوں یا شہد کی مکھیوں کی زد میں آ جاتے،نتیجتاً بہت سے لوگ ان مکھیوں کے ڈنک کی وجہ سے زخمی ہو جاتے۔ان میں سے اکثر لوگ کئی کئی دن کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہتے تھے۔ کسی کی ناک پکوڑے کی طرح ہوتی تو کسی کی آنکھ سموسے کی طرح ۔۔۔ مزید ستم یہ کہ ہم اس حملے میں ’’مضروب‘‘ ہونے والوں کی تیمار داری کے لئے بھی جایا کرتے تھے۔ یہاں بھی مقصد یہ دیکھنا ہوتا تھا کہ مضروب کی شکل کس حد تک بگڑی ہے، مگر اس شرارت کا موقع صرف ایک بار ہی ملتا تھا، کیونکہ اس حادثے کے بعد بزرگ لوگ تمام درختوں کا سروے کرنے کے بعد ایک لمبی سی ڈانگ کے سرے پر کپڑا باندھ کے اسے آگ لگا کر تمام بھڑوں کو جلا دیا کرتے تھے، البتہ شہد حاصل کرنے کے لئے وہ شہد کی مکھیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے تھے۔

بچپن کی یہ شرارتیں ان دنوں بہت یاد آتی ہیں۔ خاص طور پر طالبان کے حوالے سے تو بہت یاد آتی ہیں۔ ان طالبان کے خلاف ’’ضرب عضب‘‘ بھی بہت دیر سے شروع کیا گیا ہے، اگر چند سال پہلے گاؤں کے بزرگوں کی طرح ان ’’بھڑوں‘‘ کو ان کے چھتے میں ہی جلا دیا جاتا تو آج بے گناہ لوگوں کی شہادت پر آنسو نہ بہائے جا رہے ہوتے، مگر افسوس کہ ہم نے ان بھڑوں کو چھتے میں ’’پتھر‘‘ مار کے اڑا دیا ہے۔ اب یہ ’’بھڑیں‘‘ ادھر ادھر ہوگئی ہیں، سو کبھی شکارپور، کبھی پشاور، کبھی لاہور ،کبھی اسلام آباد میں لوگوں کو ڈنک مار رہی ہیں۔ یہ بھڑیں پورے ملک میں پھیل گئی ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کے آخری دن آ چکے ہیں۔ ’’ضرب عضب‘‘ کے ذریعے ان کے چھتے کو جلا دیا گیا ہے، مگر ان میں سے کچھ فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اچھی بات یہ ہے کہ پوری قوم حوصلے کے ساتھ ان کے ہر وار کا مقابلہ کررہی ہے۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ حکومت، فوج اور عوام ایک صفحے پر اکٹھے ہو چکے ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بعض سیاستدان اور چند اینکرپرسن اپنی شرارتوں سے باز نہیں آ رہے۔ ابھی چند ماہ پہلے تک ان کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ حکومت فوج کے ساتھ تعاون نہیں کررہی، فوج چاہتی ہے کہ طالبان کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ کارروائی کی جائے، مگر حکومت طالبان کے حوالے سے نرم رویہ رکھتی ہے۔ پشاور کے واقعے کے بعد حکومت اور فوج کے درمیان تعاون کو آگے بڑھایا گیا اور دہشت گردوں کے حوالے سے خصوصی فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لانے کے لئے آئینی ترمیم لائی گئی تو کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے فوج کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔

اس وقت وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتیں ہو رہی ہیں ،آرمی چیف ہر جگہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں ،ملک میں ہر طرح کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں کی ایک رائے نظر آتی ہے تو اب ایک بار پھر اس پروپیگنڈے کو عام کیا جا رہا ہے کہ حکومت کا کنٹرول فوج کے ہاتھوں میں دیا جا رہا ہے اور وزیراعظم اور ان کے وزراء صرف کاغذی طور پر ہی نظر آتے ہیں۔اس طرح کے تبصرے درحقیقت شرارتی ذہنوں کی طرف سے ہی پھیلائے اور سنائے جاتے ہیں، یعنی اس وقت جبکہ اعلیٰ سطح پر طالبان یا ملک دشمن عناصر کے خلاف موثر کارروائیوں کو مزید آگے بڑھانے کا عمل جاری ہے تو بعض ’’موقعہ پرست‘‘ قسم کے ذہن چاہتے ہیں کہ حکومت اور آرمی چیف کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔ وزیراعظم کو ایک بے اختیار وزیراعظم ثابت کرتے ہوئے انہیں آرمی چیف کے ساتھ لڑایا جائے، تاکہ ملکی سلامتی کے لئے جو اتحاد و اتفاق نظر آ رہا ہے، اس میں کسی نہ کسی طرح بگاڑ لایا جائے۔۔۔ میرے خیال میں وزیراعظم اور آرمی چیف کو ان لوگوں کے تبصروں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ اس وقت بنیادی مسئلہ پاکستان اور امن ہے اور اس کے لئے وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان اختیار اور وقار کے معاملے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔

وزیراعظم کو ملک میں امن و امان اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں فوج کو ہر طرح کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے اور آرمی چیف کو بھی چاہیے کہ وہ وزیراعظم کے لئے سیاسی میدان کھلا چھوڑ دیں۔ مطلب یہ کہ وزیراعظم آرمی چیف کو ’’دفاعی میدان‘‘ میں جوابدہی کے عمل سے نہ گزاریں اور آرمی چیف بھی کسی سیاسی لیڈر کی خواہش پر ’’امپائر‘‘ نہ بنیں۔ اس وقت مسئلہ اختیارات کا نہیں، پاکستان کا ہے اور جب پاکستان کی بات ہو تو پھر پاکستان کے داخلی یا بین الاقوامی مسائل کے حل کے لئے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے اور وہ لوگ جو شرارتی ذہن رکھتے ہیں، انہیں بھی عقل سے کام لینا چاہیے، کیونکہ ان کے مفادات بھی ایک پُرامن اور مستحکم پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ملک میں اگر امن ہے تو سیاست بھی ہے، کاروبار بھی ہے، ترقی اور خوشحالی بھی ہے اور اگر امن نہیں ہے تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک مزید گزارش یہ ہے کہ طالبان شیعہ برادری کی مساجد اور مدارس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور طالبان یا طالبان نما لوگ اب کوشش کررہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ اہل تشیع کا نقصان کیا جائے، تاکہ ملک میں سنی، شیعہ تفریق پیدا کرکے ایک نئی جنگ کا آغاز کر دیا جائے۔

میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کسی بھی فرقہ وارانہ تصادم سے بچنے کے لئے تمام مکاتب فکر کے لوگوں، خاص طور پر علمائے کرام کو ایک دوسرے کی مساجد میں قومی یکجہتی کے عنوان سے تقریبات کا اہتمام کرنا چاہیے ،پھر ہر علاقے میں موجود تمام مسالک کی مساجد کی حفاظت کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، تاکہ عوامی سطح پر اس کا اچھا پیغام جائے ، خاص طور پر پاکستان کے دشمن تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ اس ملک میں صرف دو فرقے ہیں۔ ایک مسلمان اور دوسرے طالبان، ان طالبان کو اب اپنے عمل کے ذریعے یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم سب ایک ہیں اور متحد ہیں۔ تم لوگ جن کا خون بہا رہے ہو، وہ ہمارے ہی قبیلے کے لوگ ہیں۔ تم کسی مسجد، امام بارگاہ یا مدرسے کو نشانہ بناؤ، یہ سب کے سب ہمارے ہیں، اس ملک میں سب مسلمان ہیں، سب کے سب ایک اللہ ،ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، تم لوگ جاہل، بزدل اور مجرم ہو، تمہاری حرکتوں کی وجہ سے نہ صرف عالم اسلام ،بلکہ پوری دنیا پریشان ہے۔ تم نے اسلام اور مسلمان کے چہرے کو دہشت کی علامت بنا دیا ہے۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور اس میں رہنے والے عوام سینہ تان کر کھڑے ہو جائیں، کسی سیاستدان یا اینکر پرسن کی بات پر توجہ نہ دیں ،بلکہ اس شخص اور ادارے کے ساتھ اپنا تعلق ختم کر دیں جو ایک بہترین پاکستان کے برعکس ایک بدتر پاکستان کا راستہ دکھاتا ہے۔۔۔ اور ہاں وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف کو اتنا قریب ہوجانا چاہیے کہ ان کے درمیان میں سے ’’ہوا‘‘ بھی نہ گزر سکے۔ ایک روشن، پُرامن، خوشحال اور مستحکم پاکستان کے لئے وزیراعظم اور آرمی چیف کا ’’گٹھ جوڑ‘‘ بہت ضروری ہے۔

مزید :

کالم -