عوام کے شوق

عوام کے شوق
عوام کے شوق

  

ایک ستم ظریف دوست نے سفاکی کی حد کر دی۔ انتہا پسندانہ گفتگو تو وہ پہلے بھی کرتے ہیں، مگر کل انہوں نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ مَیں حیران و پریشان کھڑا انہیں دیکھتا رہ گیا۔ موصوف نے فرمایا کہ عہد موجود میں پاکستانی عوام کے دو ہی شوق رہ گئے ہیں، موبائل خریدنا اور خود کشی کرنا۔ وہ کہہ رہے تھے آج کل لوگ بائیو میٹرک سم کے لئے جوق در جوق جا رہے ہیں اور دوسری طرف غربت، پریشانی اور حالات سے تنگ آ کر جوق در جوق خود کشیاں بھی کر رہے ہیں۔ مَیں نے کہا خدا کا خوف کرو، خود کشی بھی کیا کوئی شوق سے کر تا ہے۔ یہ تو مجبوری اور بے دلی کی حالت میں کی جاتی ہے، مگر ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایسا ہو گا، اب تو پاکستانی عوام موت کو بھی شوق سے گلے لگاتے ہیں، کیونکہ یہ سینکڑوں مشکلوں اور بیماریوں کا فوری علاج بن چکی ہے۔

جب سے ہم نے اُن کی زبان سے ’’خود کشی کے شوق‘‘ کی اصطلاح سنی ہے۔ یہ سوچ غالب آ گئی ہے کہ ایک طرف لوگ مشکلات و مجبوریوں کے باعث موت کو گلے لگا رہے ہیں اور دوسری طرف جن کے پیٹ بھرے ہیں وہ اس عمل کو بھی عوام کے شوق کا نام دے رہے ہیں۔ یہ بے حسی ہے یا ظالمانہ طنز، یہ رویہ صرف ہمارے دوست کا ہی نہیں، ہر مالدار کو ایسا ہی لگتا ہے کہ عوام شوق سے مر رہے ہیں۔ اگر خود کشی جیسے واقعات بھی معاشرے کے بالادست طبقے اور خوشحال ایلیٹ کلاس کو حالات کی سنگینی کا احساس نہیں دلاتے، تو پھر عوام کون سا راستہ اختیار کریں۔ ارباب اختیار اور طبقۂ اشرافیہ کو شکر ادا کرنا چاہئے کہ عوام کو خود کشی کا ’’شوق‘‘ ہے بغاوت کا نہیں۔ اگر حالات اِسی طرح رہے اور خود کشی کے واقعات بھی بالادست طبقات کا ضمیر نہ جھنجوڑ سکے، تو وہ کون سا راستہ اختیار کریں گے، اس سوال کا جواب سوچ کر ہمیں تو جُھرجھری آ جاتی ہے۔

اصل میں قصور ہمارے اس دوست کا بھی نہیں، جس نے عوام کو خود کشی کا شوق رکھنے والی مخلوق قرار دیا ہے، کیونکہ پاکستانی عوام کے تمام شوق اردو غزل کے اُس عاشق جیسے ہیں، جو ہر ستم بسر و چشم گوارا کرتا ہے۔ محبوب کی بے وفائی کے باوجود زبان سے اُف تک نہیں کرتا۔ پاکستانی عوام بھی اسی عاشق کی طرح راضی برضا رہتے ہیں۔ وہ ہر ایسا شوق پالتے ہیں، جس میں کسی بڑے آدمی کا فائدہ اور اُن کا نقصان ہوتا ہے، وہ کسی ظالم کا گریبان پکڑ کر اُسے کیفر کردار تک نہیں پہنچاتے،بلکہ اسے مزید ظلم کرنے کا راستہ دکھاتے ہیں، وہ اس کھیت کو نہیں جلاتے ، جس سے انہیں سوائے بھوک کے اور کچھ نہیں ملتا، بلکہ خود کو جلا کر بھسم کر لیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کے اکثر شوق ایسے ہیں،جو انہیں دُنیا بھر کے عوام سے مختلف ثابت کرتے ہیں،۔ مثلاً پاکستانی قوم کا ایک بہت دیرینہ شوق جمہوریت پر فدا ہونا ہے۔ اتنی شدت سے تو مجنوں نے لیلیٰ، رانجھے نے ہیر، پنوں نے سسی، مہینوال نے سوہنی اور رومیو نے جولیٹ کو نہیں چاہا جتنی شدت سے پاکستانی عوام جمہوریت کو چاہتے ہیں، جس طرح نوسر باز کسی بوڑھے کو نوجوان لڑکی سے شادی کرانے کا جھانسہ دے کر لوٹ لیتے ہیں،ا س طرح پاکستانی عوام کو جمہوریت کا بار بار جھانسہ دے کر لوٹا گیا ہے، مگر عوام کو پھر بھی عقل نہیں۔ انہوں نے آج تک اپنے لئے کوئی ’’کجری وال‘‘ تلاش نہیں کیا۔ البتہ جمہوریت کی لکشمی دیوی پر اب بھی مرتے ہیں۔

عوام کے اندر جمہوریت کا شوق کس قدر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں جمہوریت بار بار برباد ہوتی ہے، وہ انہی سے امید باندھ لیتے ہیں کہ وہ جمہوریت کو عوام کے لئے ثمر بار بنائیں گے۔ اس شوق کی خاطر عوام سردی دیکھتے ہیں اور نہ گرمی، جوق در جوق جلسوں میں جاتے ہیں، زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں، لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں، نتائج کے بعد جیتنے والوں کو کندھوں پر اٹھاتے اور بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ غرض ہر کام دیوانہ وار کرتے ہیں کہ بس کسی طرح جمہوریت نامی دوشیزہ ہاتھ آ جائے، مگر ہوتا یہ ہے جمہوریت تو آجاتی ہے، عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ جیسے اس وقت ملک میں جمہوریت پورے طمطراق سے موجود ہے، لیکن عوام کو نظر کہیں نہیں آ رہی، ہاں ارکان اسمبلی کے لئے ضرور آ گئی ہے اور انہیں نظربھی آ رہی ہے کہ کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز انہیں دان کئے جا رہے ہیں۔ عوام اس پر بھی پھولے نہیں سما رہے کہ ان کے نمائندوں کو اربوں روپے ملے ہیں، جن سے وہ ترقیاتی کام کرائیں گے، حالانکہ ایسے فنڈز ترقیاتی کاموں کے لئے ہوتے ہی نہیں۔ جمہوریت سے عوام کی بے مثال کمٹمنٹ کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے۔ وہ خود بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشیاں کررہے ہیں، مگر پھر بھی خوشی سے لڈیاں ڈالتے ہیں کہ فلاں ساڈا شیر اے باقی ہیر پھیر اے۔

عوام کا یہ شوق بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ سرکاری دفاتر میں ذلیل و خوار ہوتے ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لئے ایڑیاں رگڑتے ہیں، پولیس سے چھتر کھاتے ہیں، ملاوٹ اور مہنگائی مافیا کے ہاتھوں لٹتے ہیں اور اپنی عزت نفسی قدم قدم پرپامال کرانے کے باوجود لمبی تان کے سو جاتے ہیں۔ اگر ان کی یہ ’’سہولتیں اور مراعات‘‘ ختم ہو جائیں ،تو نجانے ان پر کیا گزرے۔ عام آدمی کا کسی سرکاری دفتر میں آسانی سے کام ہو جائے تو اسے تین دن تک نیند نہیں آتی۔ اسے یوں لگتا ہے جیسے اس کا نشہ ٹوٹ رہا ہو۔ وہ ہر شخص کو اس کے بارے میں بتاتا ہے، حیرانی و پریشانی کے عالم میں کئی دن گزار دیتا ہے۔ اس دوران وہ ایسے کسی کام کی تلاش میں رہتا ہے، جسے لے کر وہ کسی سرکاری دفتر میں جائے اور ذلیل و رسوا ہو کر واپس آئے، تاکہ اس کا شوق بے عزتی پورا ہو سکے۔ یہ عوام کے اس شوق کا اثر ہے کہ انہی کے ٹیکسوں سے تنخواہیں لینے اور گل چھرے اُڑانے والے سرکاری افسران گردن اکڑا اور چھاتی پھلا کر دفتروں میں بیٹھتے ہیں۔ حکومت انہیں کہتی ہے وہ عوام کے حاکم نہیں خادم ہیں، اس لئے بندے کے پُتر بن کے عوام کی خدمت کریں، لیکن ان افسران کو اچھی طرح علم ہے کہ عوام کو خدمت کرانے کا نہیں چھتر کھانے کا شوق ہے۔ اس لئے وہ عوام کو ان کے ذوق و شوق کے مطابق خدمات فراہم کرتے ہیں اور حکومت سے داد بھی پاتے ہیں۔

ہمارے بھولے عوام کے شوق دنیا بھر سے نرالے ہیں، جو جتنا بڑا دھوکے باز ہے، عوام اسے اتنا ہی بڑا لیڈر بنا دیتے ہیں۔ ووٹ لے کر حلقے میں نہ آنے والوں کو ہی الیکشن میں دوبارہ منتخب کرتے ہیں،کیونکہ انہیں مکھی پر مکھی مارنے کا بہت شوق ہے۔ منتخب ہو کر سیاسی وفاداری تبدیل کرنا اور اس کے بعد حلقے میں شان و شوکت کے ساتھ واپس آنا بھی یہی عوام ممکن بناتے ہیں، ایسے میں شوقین مزاج عوام کی وجہ سے انتخابات کے بعد بڑی تعداد میں ’’لوٹے‘‘ سامنے آتے ہیں، جنہیں عوام اپنے گلے میں ڈال کے ’’لوٹا آ گیا میدان میں ہوجمالو‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔ عوام کا یہ شوق بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ وہ ہربڑھک باز کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیتے ہیں۔ 68سالہ تاریخ میں انہوں نے کیسے کیسے بڑھک بازوں کو لیڈری کا تاج نہیں پہنایا، مگر وہ سب لیڈر دولے شاہ کے چوہے ثابت ہوئے۔ سب نے اپنی تجوریاں بھریں، عوام کے پیٹ بھرنے کی کبھی کوشش نہ کی۔ مجال ہے کہ اس سب کے باوجود عوام کے پائے استقلال میں لغزش آئی ہو یا انہوں نے اپنا یہ شوق ہی ترک کیا ہو۔

عوام کے کس کس شوق کا ذکر کیا جائے۔ اُن کا تو ہر شوق ہی نرالا ہے۔ اب انہیں خود کشی کرنے کا شوق چرایا ہوا ہے۔ یہاں تک تو حالات کنٹرول میں ہیں اور نظام کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ خود کشی کا یہ شوق کاخِ امرا کے درو دیوار گرا دو کی طرف چل نکلا، تو جمہوری کے دعویداروں اور استحصالی نظام کے پیرو کاروں کا کیا بنے گا، غربت اور بھوک کی کوکھ سے جنم لینے والی انتہا پسندی نے اگر عوام کو اس شوق کی راہ دکھا دی تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ مجھے اس سوال کے جواب میں دلچسپی سے زیادہ اس بات کی خواہش ہے کہ کاش عوام میں یہ شوق جلد از جلد پروان چڑھے، مگر عوام کو کوئی کجری وال بھی تو ملے۔

مزید :

کالم -