16دسمبر2014ء: پیمبرانِ سحر کا نوحہ! (2)

16دسمبر2014ء: پیمبرانِ سحر کا نوحہ! (2)

  

ذکی نقوی صاحب اپنی اس نظم کے بارے میں آگے چل کر وضاحت کرتے ہیں : ’’اس نظم میں مجھ سے ردیف و قوافی کے حوالے سے معرّیٰ نظم کا سا برتاؤ لاشعوری طور پر ہوا ہے۔ چونکہ عجلت میں لکھی تھی اس لئے اس میں فنی معائب بھی ہوں گے ،تاہم بھائی صاحب قبلہ بتا رہے تھے کہ انہوں نے اسے تقریب میں جب پڑھا تو حاضرین نے بہت پسند کی اور بیس کمانڈر صاحب بھی فرطِ جذبات کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے‘‘۔

’’بھائی صاحب (اسد فاطی) سے جب ابا حضور نے پوچھا کہ تم نے خود اتنے بڑے سانحے پر کچھ نہیں لکھا تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس نے جواباً جرمن نازی نسل کشی کے بدنامِ زمانہ کیمپ ’آشویز‘‘کی دیوار پر کسی مرنے والے قیدی شاعر کے آخری الفاظ بتائے جو اس نے قیدی کیمپ کی دیوار پر لکھے تھے اور جو یہ تھے: ’’آشویز کے بعد شعر کہنا جرم ہو گیا ہے‘‘۔۔۔۔ 16دسمبر 2014ء کے اس سانحے پر بھی ضمیر انسانی یوں مبہوت اور زبان اس طرح گنگ ہے کہ اگر بھائی صاحب کا اصرار نہ ہوتا تو شائد میں بھی یہ نظم نہ لکھ پاتا۔ یہاں مجھ سے کربلا کے استعاروں کا استعمال بھی اسی مجبوری کے تحت ہوا ہے کہ اس سانحے کا احاطہ شائد کوئی اور تلمیح نہیں کر سکتی تھی۔ یہاں معوذؓؓ اور معاذؓ کی تلمیح چپ کھڑی تھی جبکہ اکبر و اصغر کی تلمیح، باوجود کمتر تاریخی حیثیت کے، موزونی کی دعویدار تھی‘‘۔

’’پیشہ ورانہ حالات بھی ٹھیک ہیں۔ پبلک کالج میں پڑھانا بذاتِ خود ایک سائنس ہے۔ میں اپنے چھوٹے سے سپاہیانہ ’’کیلی بر‘‘ کے ساتھ بھرپور کوشش میں ہوں کہ قافلے کے ساتھ قدم ملا کر چلوں۔ آپ کی نصیحت یاد آتی ہے اور میں اس امر کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ فوج کی طرح یہاں بھی ماہ و سال (اور عہدے) کی سنیارٹی کو عقل و دانش کی سنیارٹی سمجھوں۔ خوش قسمتی سے میں اپنی ہیچمدانی کے کرم سے ایک نسبتاً تعمیری سے احساسِ کمتری کا مریض ہوں جس وجہ سے اپنے مضمون کے سینئر لیکچرار صاحبان کے حضور ان کی سنیارٹی کا پورا پورا لحاظ رکھتا ہوں‘‘۔

’’میں اب تک اپنے مختصر تدریسی تجربے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک متوسط قابلیت کا ٹیچر واقع ہوا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں یہاں رہ کر بہت بہتری کی امید رکھتا ہوں۔ ملازمت کا ماحول بہت اچھا ہے اور اس سے بہتر کوئی دوسری نوکری مجھے شائد ہی کبھی مل سکے۔ مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ میں یہاں بہت خوش ہوں‘‘۔

’’پھر بھی جب کسی عسکری ادب بارے میں ڈوب کر ماضی قریب کے سمندروں تک جاتا ہوں تو ایک ’’ناکام فوجی‘‘ ہونے کا احساس بہت بے سکون کردیتا ہے۔ میرے ساتھ کے فوجی ساتھی جب رابطہ کرتے ہیں تو بڑے رشک سے میرے ’’پے اسکیل سترہ‘‘ کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں اور مجھے کسی بڑے پروفیسر یا افسر کی سی تحسین سے دیکھتے ہیں۔لیکن میں انہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ میں اپنے کورس میٹوں کی ’’نائیکی‘‘ کو آج بھی اسی رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جس سے بطورِ رنگروٹ اِن نائیک صاحبان کو دیکھتا تھا۔ لیکن کس منہ سے کہوں کہ میں نے لیفٹینی کے لالچ میں اس ’’نائیکی‘‘ کی ناقدری کی۔ سب سے زیادہ احساس کمتری اور احساس زیاں اپنے کورس والوں کی وردیوں پر لگے، ’’تمغہ ء دہ سالہ خدمات‘‘ کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ میں جہاں ہوں، یہاں رائیگانی کو ناپنے کا کوئی آلہ ہے نہ ہی بامقصد زندگی کو۔ لیکن وہ تمغے زندگی کے گزرنے والے سالوں کا ایک خوبصورت شمارندہ ہیں جن کے سحر سے میں ہنوز نہیں نکل سکا۔ علامات کتنی مضبوط چیزیں ہیں، اس کا احساس اب ہوا ہے۔ یہ سب چیزیں مَیں اپنے فوجی ہم عمروں کو نہیں سمجھا سکتا۔ لیکن اب یہاں آکر اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کی کم مائیگی میں بھی مجھے بہرحال بیسویں بہانے مل جاتے تھے اپنے تئیں ’’سپرمین‘‘ سمجھنے کے۔۔۔ اب جب جوانی کا ایک عشرہ فوجی کے طور پر گزارنے پر فخر کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو جذبہء شرمندگی، احساسِ ندامت اور خیالِ ناکامی کی کئی وجوہ سامنے آکر رستہ روک لیتی ہیں۔ میں سویلین لوگوں میں آج بھی فوجی کے طور پر متعارف ہونا پسند کرتا ہوں لیکن فوجیوں کے سامنے میرے پاس اپنا تعارف کروانے کے لئے کوئی الفاظ نہیں ہوتے۔ میرے ایک تہائی شاگردوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کا استاد ایک سابق ’’سولجر‘‘ ہے لیکن باقی تمام کالج اور اساتذہ مجھے جس شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وہ بڑا تکلیف دہ تجربہ ہے۔ فارم ’’FRP36‘‘ کی آخری سطر کی رُو سے میں آج بھی قومی دنوں کے موقعوں پر وردی پہن سکتا ہوں، جس کی خواہش رہ رہ کر دل میں انگڑائیاں لیتی رہتی ہے ، لیکن ایک خجالت سی ہے کہ مانع ہے اور جو میرا مذاق اڑاتی ہے۔ میں اپنے سروس کے دنوں کے ساتھیوں کو اکثر یاد کرتا ہوں اور اکثر خواب میں خود کو انہی پلٹنوں، پریڈ گراؤنڈوں اور کوارٹر گارڈوں پر دیکھتا ہوں۔۔۔ کبھی پوری ، کبھی ادھوری اور کبھی بالکل عجیب سی وردی میں‘‘۔۔۔

’’کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر میں سپاہی ہی رہتا اور کتابوں سے قدرے بچ کر اپنی عمر وردی میں گزار لیتاتو شاید آخرِ عمر میں ایک Proudجے سی او کے طور پر اگر نہ بھی ریٹائر ہوتا تو کم از کم رائیگانی اور ناکامی کے احساس سے تو بچ ہی جاتا۔ میں اپنے فوجی ہونے پر فخر کرنا چاہتا تھا اور چاہتا ہوں لیکن کاش میں سپاہی کے طور پر قانع رہنے کا ڈھنگ بھی جان جاتا۔۔۔ معاف کیجئے گا، یہ میں نے کیا ہذیان شروع کر دی۔۔۔ چہ سازیم درمانِ خود کردہ را؟۔۔۔ آپ ایسے مہربان اساتذہ اور بزرگوں کا ہاتھ میرے سر پر نہ ہوتا تو کیا معلوم میری ذہنی حالت اس سے بھی ابتر ہوتی۔ دعا ہے کہ آپ صحت و سلامتی کے ساتھ اہلِ ادبِ عسکری کے درمیان ہمیشہ خوش و خرم رہیں۔ بریگیڈیئرزاہد صاحب کیسے ہیں؟ میں ان کی شفقت کو اب بھی یاد کرتا ہوں۔ آپ سے ملیں تو میرا سلام کہیے گا، نوازش ہوگی۔آج کل آپ کی کون سی کتاب متوقع ہے؟ مجھے جان کر خوشی ہوگی۔ اب اجازت چاہوں گا، والسلام‘‘۔

نیاز مند

ذکی نقوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سطورِ بالا میں ذکی صاحب نے میری جس نصیحت کا ذکر کیا ہے، اس کی تھوڑی سی تفصیل قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گا۔

جب ذکی صاحب فوج میں تھے اور مجھ سے ملاقات کرنے آیا کرتے تھے تو میں نے محسوس کیا تھا کہ ان میں اپنی ’’عالمانہ اَنا‘‘ کا جذبہ ان کو سپاہیانہ ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی مہلت نہیں دیتا۔ دنیا کی تمام افواج میں اپنے سینئر کی بعض حرکات و سکنات اور گفتار و اطوار پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ تنقید ایک ’’غیبت‘‘ کی شکل میں ہوتی ہے۔ سینئر جب سامنے نہیں ہوتا تو اس کی اچھائیوں کی کم تحسین اور برائیوں کی زیادہ مذمت ایک روٹین ہے۔ پاکستان آرمی بھی اس ’’روگ‘‘ سے مستثنیٰ نہیں۔ اصطلاح میں اسے Cribbingکہا جاتا ہے۔ یہ ہر رینک کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ جہاں بہت سے فوجی اپنے سینئر کی اچھائیوں کو اچھالنے میں فرحت محسوس کرتے ہیں وہاں بہت سے دوسرے اس کی برائیوں کا ریکارڈ بھی خوب خوب لگاتے ہیں۔ اور فوجی کلچر میں اس علت (Cribbing) کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔

میں ذکی صاحب کو سمجھایا کرتا تھا کہ اگر فوج میں رہنا ہے تو یہاں کا وطیرہ یہ ہے کہ یہاں ماہ و سال (اور عہدے) کی سنیارٹی عقل و دانش اور علم و ہنر کی سنیارٹی بھی شمار ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو فوج بطور ایک منضبط ادارہ ، ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ پروفیشنل علم و ہنر اور عمومی عقل و دانش دو الگ الگ خصوصیات اور خوبیاں ہیں۔ ایک خوبی دوسری کو اورلیپ (Over lap) تو کرتی ہے، ایکسل (Excel) نہیں کر سکتی۔

نہ صرف فوج بلکہ سویلین اداروں میں بھی یہی چلن رائج ہے۔ فرق یہ ہے کہ سویلین اداروں میں یہ تضاد فکری اکثر اوقات تضاد عملی کا سبب بھی بن جاتی ہے جبکہ فوج میں فکروعمل کی وحدت ایک کمانڈ وحدت تصور ہوتی ہے۔ کمانڈر خواہ کیسا بھی ہو، اس کی انفرادی فکر اور اس کا انفرادی عمل اپنی یونٹ/فارمیشن کی اجتماعی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر ذکی صاحب نے کالج میں جا کر بھی بطور استاد اس اصول کی پیروی جاری رکھی ہے تو ان کا یہ ایک اقدام مستحسن ہے اور مجھے امید ہے کہ زندگی میں آگے چل کر بھی وہ اس سے مستفید اور مستفیض ہوں گے۔

خط کے آخری حصے میں ذکی صاحب نے جس محبت اور تمنا سے فوجی زندگی کے دس برسوں کے شب و روز کا ذکر کیا ہے، وہ ملٹری کلچر کی ایک تابندہ روائت اور ابدی حقیقت سمجھئے۔ فوج ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس میں اگرچہ تلخ و ترش و شیریں کی آمیزش قدم قدم پر دیکھنے اور برتنے کو ملتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ خود زندگی اسی تلخی، ترشی اور شیرینی کا نام ہے۔ فوجی زندگی میں یہ خصائص اور یہ تجربے جلد جلد اور باربار دیکھنے کو ملتے ہیں جبکہ سویلین شعبوں میں ایسا شاذ شاذ ہوتا ہے۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سویلین شعبوں میں ان تجربات کا دورانیہ بہ نسبت فوجی سروس کے زیادہ طویل ہوتا ہے۔ تجربات کے دورانیوں (Spells) کی یہ طوالت اور یہ اختصار، دونوں شعبوں کے درمیان ایک بفر (Buffer)بھی سمجھا جا سکتا ہے!

قارئین یہ سوال بھی کر سکتے ہیں کہ ذکی نقوی کے اس خط کو شائع کرنے کی ضرورت کیا تھی؟۔۔۔ میرے نزدیک اس کے دو پہلو اس اشاعت کا جواز بن سکتے ہیں جو پہلے بھی شائد بتا چکا ہوں۔

ایک تو یہ ہے کہ 16دسمبر کے سانحے پر (یا اس سانحے سے پہلے بھی جو اَن گنت سانحات رونما ہوئے اور جن میں پاکستانیوں کی 50000جانیں چلی گئیں) ان پر ہمارے ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں نے بہت کم لکھا ہے۔ فلموں کا دور تو پاکستان میں کب کا ختم ہو چکا ادبی رسالے بھی اب ایک عرصہ سے قصہ ء پارینہ بن چکے، اس لئے اس موضوع پر کسی فلم بنانے یا کسی مختصر یا طویل مختصر افسانے کی اشاعت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ایک دو ادبی رسالے کبھی کبھی دیکھنے کو ملتے ہیں اور وہ بھی اب گویا جاں بلب ہیں۔ البتہ ہمارے شعراء نے دہشت گردی کے موضوع کو اپنے شعر کا عنوان کم کم ہی بنایا ہے۔ اس کمی یا فقدان کی کوئی تاویل نہیں کی جا سکتی۔ اس تناظر میں ذکی صاحب کی یہ نظم اگر ادب عالیہ کا حصہ نہ بھی بن سکے تو ایک حوالے سے ایک انتہائی مختصر رزمیہ ضرور کہلا سکتی ہے۔

اور دوسری اور سب سے زیادہ بڑی وجہ اس خط کی اشاعت کی یہ ہے کہ اگر ہمارے ڈرامہ نویس، فلم ساز، ادیب اور شاعر دہشت گردی کے اس سانحے کو اپنی تخلیق کا موضوع بنا کر قوم کے سامنے پیش کریں تو قومی یکجہتی کے حوالے سے یہ کاوش ایک گرانقدر تخلیق بن سکتی ہے۔ ۔۔۔ نجانے ہم اس سے گریزاں کیوں ہیں؟

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے

(ختم شد)

مزید :

کالم -