درآمدی اشیاء خوردنی اور ادویات کا مسئلہ؟

درآمدی اشیاء خوردنی اور ادویات کا مسئلہ؟

  

پارلیمنٹ کی مجلس قائمہ کے اجلاس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ درآمد ہونے والی خوراک کی 23اشیاء میں حرام اجزاء پائے جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں جن اشیاء خوردنی کے نام بتائے گئے ان میں بہت معروف کمپنیوں کی اشیاء بھی شامل ہیں۔ اس خبر نے اہلِ پاکستان کو دہلا دیا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے ایسی خوراک استعمال کر رہے ہیں، جن میں حرام اجزاء شامل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مجلس قائمہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں کوئی طریقہ یا قانون نہیں، جو اس امر کی روک تھام کر سکے۔

یہ خبر اور رپورٹ تو اشیاء خوردنی کے حوالے سے ہے اس سے پہلے ادویات کے بارے میں بھی ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ ان میں بعض اجزاء حلال نہیں ہوتے۔ تاہم درآمدی ادویات میں جو بھی اجزاء شامل کئے جاتے ہیں، ان کی تفصیل لکھ دی جاتی اور دوائی پر موجود ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ادویات میں جو بہت معمولی جزو ہوتا ہے وہ دوسرے اجزاء کے ساتھ مل کر جان بچانے کے لئے ہے، اس لئے دواپر اعتراض نہیں ہوتا۔اس تمام تر صورت حال کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے اور اب تو یہ بھی ضرورت ہے کہ اگر روک تھام اور ان اشیاء کو شفاف اور حلال بنوانے کے لئے قانون اور قاعدہ موجود نہیں تو اسمبلیوں سے منظور کرایا جائے۔ایسی اطلاعات سے عام لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔

مزید :

اداریہ -