طالبات کے قتل۔۔۔ معاشرتی اقدار کی شکست و ریخت!

طالبات کے قتل۔۔۔ معاشرتی اقدار کی شکست و ریخت!

  

ایک ہی روز دو نوجوان طالبات کے قتل کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایک طالبہ ماڈل بننے کے شوق میں اپنا سب کچھ کھو کر جان بھی دے بیٹھی اور اس کے قتل کا سراغ ایک ماہ بعد ملا اور شناخت بھی اب ہوئی ہے،جبکہ دوسری طالبہ اپنے دوست سے ملنے گئی اس کے گھر نوکرانی کے ہاتھوں فائرنگ سے قتل ہوئی۔ پولیس نے دونوں وارداتوں کے ملزم حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے، جو مکمل ہو گی، تو چالان پیش ہوں گے، لیکن یہ وارداتیں اپنے پیچھے معاشرتی سوال چھوڑ گئی ہیں۔پاکستان ایک اسلامی اور مشرقی مُلک ہے یہاں ہماری روائتی اقدار کا احترام کیا جاتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے، لیکن مغربی معاشرت کے حملے اور جدید سائنسی مواصلاتی سہولتوں نے ان اقدار کو بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور یہاں کا معاشرہ بھی متاثر ہو کر ان برائیوں کی طرف مائل ہو گیا ہے، جو یہاں کی نہیں ہیں اور اس وجہ سے ایسی وارداتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، حتیٰ کہ بچیوں کے فرار اور پسندکی شادی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ان مسائل پر کئی پہلوؤں سے بات ہوئی ہے اور بحث بھی ہو سکتی ہے، لیکن دُکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم بھی معاشرتی اقدار کی بہتری کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہا، ماضی میں تعلیمی نصاب قریباً یکساں تھا اب یہ صورت نہیں، اب او لیول، اے لیول کا جو رواج چلا ہے تو ایک ہی شہر کے مختلف سکولوں میں مختلف نصاب رائج ہو گئے ہیں۔ حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود نصاب میں اصلاحات کا نفاذ ممکن نہیں ہوا اور نہ ہی نظام تعلیم کے حوالے سے مثبت اصلاحا ت سامنے آئی ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تعلیمی نظام کو نئے سرے سے استوار کیا جائے کہ طلباء اور طالبات اپنی روائتی مشرقی اور دینی روایات اختیار کر سکیں۔ جدید مواصلاتی آلات (موبائل+کمپیوٹر) پر نظر رکھنا تو خود والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی بچوں پر نظر رکھیں اور ان کو وقت دیں کہ ایسے جرائم سامنے نہ آ سکیں۔

مزید :

اداریہ -