سینیٹ کے انتخابات اور آئینی ترمیم

سینیٹ کے انتخابات اور آئینی ترمیم

  

سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم لانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔سوموار کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے کیا گیا کہ سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی شکایت کو ختم کرنے اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔ اس کے لئے دیگر سیا سی جما عتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ باہمی مشاورت سے متفقہ طور پرترمیم منظور کی جا سکے ۔وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ قومی اداروں کا تقدس اہم ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پیسے کا استعمال اور ہارس ٹریڈنگ نہ ہو۔ سینیٹ کے متوقع انتخابات کے حوالے سے رقوم اور اثر و رسوخ کے استعمال کی اطلا عات پر وزیراعظم نے تشویش کا اظہار بھی کیا۔ اجلاس میں آئینی ترمیم کے حوالے سے سیا سی جماعتوں سے رابطوں کے لئے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئیں۔ ایک کمیٹی وزیر اطلاعات پرویز رشید ،وزیر ریلوے خوا جہ سعد رفیق اور وزیر مملکت برائے آئی ٹی انوشہ رحمن پر مشتمل ہے، جبکہ دوسری کمیٹی میں وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال ، گورنر کے پی کے سردارمہتاب اور وزیراعظم کے خصوصی معاون بیرسٹر ظفر اللہ شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں دیگر سیاسی جما عتوں سے بات چیت کر کے سینیٹ کے انتخا بات کو شفاف بنانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرے گی تاکہ ہارس ٹریڈنگ کے رجحان کی حو صلہ شکنی کی جائے۔وزیراعظم نے قانونی ما ہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دینے کی ہدایت دی جو قانونی پہلو ؤں کا جائزہ لے کر اپنی سفار شات مرتب کرے گی اور24 گھنٹے میں وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔

ہمارے ملک میں انتخابات کے بعد تو دھاندلی کا شور مچتا ہی ہے،لیکن اس سے پہلے بھی اس طرح کے نعرے لگانے کی روایت خاصی عام ہے ، بداعتمادی کی عجیب سی فضا قائم ہے، ہر معاملے میں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔اسی لئے شاید اب جب کہ سینیٹ کے انتخابات کی آمد آمد ہے تو سیاسی جماعتیں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹ کی خریدو فروخت کا رونا رو رہی ہیں۔ 5مارچ کو سینیٹ کی 52سیٹوں کے لئے قومی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق ان 52سیٹوں کے لئے 184امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،پنجاب سے 23 ، خیبر پختونخوا سے39 ، سندھ سے 28 اور بلوچستان سے 42 امیدوار ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔اس کے علاوہ اسلام آباد سے 9اور فاٹاسے43 لوگ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں، حتمی فہرست کا اعلان آج ہونا ہے۔

جب بھی سینیٹ کے انتخابات آتے ہیں تو اس کے طریقہ کار پر بار بار سوال اٹھایا جاتا ہے، حالانکہ ان اعتراضات کو دور کرنا ایسا کوئی مشکل بھی نہیں تھا، جس طرح قومی اسمبلی میں خواتین کی نشستیں مخصوص ہیں اِسی طرح سینیٹ میں بھی جماعت کی قومی اسمبلی میں نمائندگی کے مطابق سیٹیں مختص کی جا سکتی تھیں،اس کے علاوہ اوپن بیلیٹنگ کا راستہ بھی اپنایا جا سکتا تھا، لیکن ہمارا آئین اس کے آڑے آ جاتا ہے، آئین کے آرٹیکل 226 کے مطابق وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے علاوہ تمام تر انتخابات خفیہ بیلیٹنگ کے ذریعے ہی ہوں گے۔اس لئے اب آئین میں تر میم کر کے اوپن بیلیٹنگ کا راستہ ہموار کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اس طر ح ہارس ٹریڈنگ کی جو دھیمی صدائیں بلوچستان اور اونچے سروں میں خیبر پختونخوا سے بلند ہو رہی ہیں،ان کا گلا گھونٹنے میں مدد ملے گی اورکل کو ان انتخابات پر کوئی سوالیہ نشان بھی نہیں لگا سکے گا۔

ویسے تو ہر کھیل کا پہلا اصول دیانت داری و ایمانداری ہے اور سیاست دانوں پر اس کی پاسداری فرض ہے، سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اندر نظم و ضبط قائم کرنا چاہئے تاکہ ہارس ٹریڈنگ جیسی کوئی وبا پھیلنے ہی نہ پائے، لیکن صد افسوس کہ یہاں پرانے و نئے کھلاڑی ایک ہی صف میں کھڑے نظر آ رہے ہیں،’ہیر پھیر‘ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ تبدیلی اور نئے پاکستان کا دم بھرنے والی تحریک انصاف میں بھی جذبہ تو بہت ہے، لیکن ڈسپلن کی ذرا کمی ہی نظر آ رہی ہے،وہاں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں،جو شاید تحریک کے سربراہ کے قابو میں نہیں ہیں،لیکن خیر اب انتخابی عمل میں ترمیم لانے کا فیصلہ تو ہو ہی گیا ہے ، اب جلد از جلد اس پر کام بھی مکمل کر لینا چاہئے، ایک دو دن میں تمام باتیں طے کر لینی چاہئیں تاکہ انتخابات سے قبل ترمیم ہو سکے۔ویسے تو الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ترمیم الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد کی جا رہی ہے اس لئے اس کا اطلاق آئندہ انتخابات پر ہو گا، یہ انتخابات پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کی پریشانی اپنی جگہ، لیکن اس کا حل موجود ہے ،الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے فائدہ یہ ہوا کہ اب تیار کئے جانے والے مسودے میں واضح طور پریہ بات لکھ دی جائے گی کہ اس ترمیم کا اطلاق انہی انتخابات پر ہو گا،اس طرح الیکشن کمیشن کی بھی تسلی ہو جائے گی۔

جس طرح حکومتی ایوان میں تحریک انصاف کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا نوٹس لیا گیا ہے اور انتخابی عمل کو داغ دار ہونے سے بچانے کے لئے باہمی مشاورت اور ترمیم کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اِسی طرح اگر تمام معاملات پر نظر کرم کر لی جائے تو کافی افاقہ ہونے کے امکانات ہیں۔ ہمارے اہل سیاست اگر صرف’تنقید برائے تنقید‘ سے گریز کریں اور معاملات کو بروقت حل کر نے کی عادت و روایت ڈال لیں تو روشن کل کی دستک سُنی جا سکتی ہے۔

مزید :

اداریہ -